آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, تیل کی قیمتوں میں دو فیصد کمی، امریکہ، ایران کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان، قطر اور علاقائی ثالث متحرک

امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل دو راتوں تک جاری رہنے والی کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد جمعرات کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں دو فیصد کمی آئی، جس کے بعد قیمت تقریباً 76 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

لائیو کوریج

  1. شمالی کوریا کا اپنی جوہری صلاحیت کو مضبوط بنانے کا اعلان

    شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اعلان کیا کہ ملک اپنی جوہری صلاحیت کو ’معیاری اور مقداری طور پر‘ مضبوط کرنے اور اپنی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کے کردار کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے، جو جنوبی کوریا سے متعلق سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔

    شمالی کوریا کی سرکاری کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے بھی اطلاع دی ہے کہ جمعرات کو حکمراں جماعت کے سینٹرل ملٹری کمیشن کے اجلاس میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پیانگ یانگ اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے وسیع بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے اور دونوں کوریا قانونی طور پر حالت جنگ میں ہیں کیونکہ 1950-53 کی کوریائی جنگ بغیر کسی امن معاہدے کے ختم ہوئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق، اجلاس کے ارکان نے ’جوہری صلاحیت کو قابلیت اور مقداری طور پر مضبوط بنانے‘ سمیت اقدامات کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے جنوبی کوریا سے متعلق کارروائیوں کے لیے ذمہ دار شمالی کوریا کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی، جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریکونیسنس اینڈ انٹیلی جنس کے فرائض اور مشن کو بڑھانے پر بھی زور دیا۔

    کوریا انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل یونیفیکیشن کے ایک سینیئر محقق ہانگ من نے کہا کہ شمالی کوریا کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیانگ یانگ اب دونوں کوریاؤں کو زیادہ ’دشمن‘ ممالک کے طور پر دیکھتا ہے، ایک ایسا نقطہ نظر جو جنگ بندی پر مبنی موجودہ صورتحال کی جگہ لے سکتا ہے۔

  2. کوئٹہ: مغوی افراد کی بازیابی کے بعد ہنہ اوڑک دھرنا ختم، مقتول پولیس اہلکاروں کے لواحقین کا احتجاج جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں گذشتہ اتوار سے جاری احتجاجی دھرنا مغوی افراد کی بازیابی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے ساتھ مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ زیارت میں 30 پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف جاری دھرنا دوسرے روز میں داخل ہو گیا ہے۔

    ہنہ اوڑک کے علاقے ببری میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے کے خلاف شروع کیے گئے اس دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 11 افراد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔

    کوئٹہ کی ایئرپورٹ روڈ پر بی اے مال کے سامنے جاری دھرنے کے تین اہم مطالبات تھے: علاقے کو مسلح افراد سے پاک کرنا، مغوی افراد کی بحفاظت بازیابی اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی۔

    گذشتہ شب اس وقت اہم پیش رفت سامنے آئی جب اغوا کیے گئے تمام افراد کو رہا کر دیا گیا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ تمام مغوی افراد بازیاب کر لیے گئے ہیں۔

    مقامی ذرائع کے مطابق مغویوں کی رہائی میں قبائلی اور مذہبی رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور انھوں نے اغوا کاروں کے ساتھ مذاکرات کیے۔

    اس دوران سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی گردش کرتی رہی جس میں مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں اور وہ خود کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو قرار دیتے ہیں۔ تاہم بی بی سی اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

    مغوی افراد کی رہائی کے بعد وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی رات گئے دھرنے کے مقام پر پہنچے اور متاثرہ خاندانوں اور دھرنا کمیٹی کے ارکان سے تفصیلی بات چیت کی۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق دھرنا کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کامیاب رہے، جس کے بعد کمیٹی نے وزیرِ اعلیٰ کی درخواست پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    اس موقع پر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے کسی بھی سطح پر کوئی کوتاہی یا غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کرتے ہوئے اس کا ازالہ کیا جائے گا اور متاثرین کو ممکنہ داد رسی فراہم کی جائے گی۔

    وزیرِ اعلیٰ نے بتایا کہ بلوچستان اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں، جس میں وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی موجود تھے، اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور ان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بطور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور چیف آف بگٹی وہ متاثرہ خاندانوں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرنے کے پابند ہیں۔

    میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ ہلاک ہونے والوں کے ورثا کو مالی معاوضہ دیا جائے گا، اہلِ خانہ کو سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی اور متاثرہ بچوں کی تعلیم کے تمام اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی۔

    دوسری جانب، اگرچہ ہنہ اوڑک کے واقعے کے خلاف دھرنا ختم ہو گیا ہے، تاہم کوئلہ پھاٹک کے مقام پر زیارت کے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج بدستور جاری ہے۔

    یہ دھرنا جمعرات کے روز بعض مقتول پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے ہمراہ شروع کیا گیا تھا اور تازہ اطلاعات کے مطابق احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔

  3. 10 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم، افغان پناہ گزینوں کی واپسی جاری، غیر یقینی صورتحال برقرار

    پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے لیے ملک چھوڑنے کی مقررہ 10 جولائی کی ڈیڈ لائن ختم ہو گئی ہے۔

    حکام کے مطابق اس نوٹیفیکیشن کے بعد افغانستان واپس جانے والے افغان شہریوں کی تعداد میں کچھ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

    پشاور میں پولیس افسر فرحان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ ان کے مطابق مختلف علاقوں میں ایسے افغان شہریوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جن کے پاس پاکستان میں قیام کے قانونی دستاویزات موجود نہیں ہوتے، اور انھیں طے شدہ طریقۂ کار کے تحت واپس افغانستان بھیجا جاتا ہے۔

    پشاور کے مختلف علاقوں، جن میں حیات آباد، بورڈ بازار، ناصر باغ روڈ اور ٹاؤن شامل ہیں، میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے درمیان اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ بعض افغان شہریوں کا خیال ہے کہ حکومت اس مدت میں ایک بار پھر توسیع کر سکتی ہے، اسی لیے وہ واپسی کے فیصلے میں تاخیر کر رہے ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے محکمہ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کی واپسی کا عمل بدستور جاری ہے اور ڈیڈ لائن کے بعد کے مرحلے کے لیے حکمتِ عملی بھی تیار کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت ترجیحی طور پر افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی چاہتی ہے، اس لیے پہلے انھیں زبانی طور پر وطن واپس جانے کی ہدایت دی جائے گی۔ اگر اس کے باوجود غیر قانونی طور پر مقیم افراد واپس نہ گئے تو پھر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں افغانستان واپس جانے والوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی تھی، تاہم اب دوبارہ واپسی کے عمل میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب پاک افغان سرحد پر طورخم کے رجسٹریشن مرکز میں بھی افغانستان واپس جانے والے افراد کی تعداد میں نسبتاً اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ادھر بعض افغان پناہ گزینوں نے، جو پاکستان میں مقیم پاکستانی شہریوں سے شادی کر چکے ہیں یا جو افغانستان واپسی کی صورت میں اپنی جان کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں، عدالتوں سے رجوع کر رکھا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ میں اب تک ایسے تقریباً 140 افراد درخواستیں دائر کر چکے ہیں۔

    ان درخواست گزاروں میں سابق افغان سرکاری افسران، وہ افراد جو ماضی میں افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں، سابق جج اور موسیقی کے شعبے سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ افغانستان واپسی کی صورت میں انھیں سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کی پالیسی کسی ایک قومیت کے لیے نہیں بلکہ تمام غیر قانونی غیر ملکیوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد امیگریشن قوانین پر عمل درآمد اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔

    تاہم اس پالیسی کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں پر پڑے ہیں، جن میں سے بہت سے افراد ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد اپنی آئندہ صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی اور خدشات کا شکار ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک 24 لاکھ سے زائد افغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں۔ ان میں تقریباً دو لاکھ افراد کو ملک بدر کیا گیا جبکہ باقی افراد رضاکارانہ طور پر افغانستان واپس گئے۔

  4. متحدہ عرب امارات امریکہ کے ساتھ تعاون کی قیمت ادا کرے گا: ایرانی رکن پارلیمنٹ

    پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے رکن اسماعیل کوثری نے ایران پر حالیہ حملوں کے پیچھے متحدہ عرب امارات کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ ملک ’واشنگٹن کے ساتھ تعاون کی قیمت ادا کرے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان اقدامات سے متحدہ عرب امارات نے خود کو ایران کے دشمنوں کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے اور اسے جان لینا چاہیے کہ اس حمایت کی قیمت بہت بھاری ہوگی۔‘

    اسماعیل کوثری نے نشاندہی کی کہ مسلح افواج کے جنرل سٹاف کی سابقہ ​​وارننگ کے مطابق، ’جارح‘ افواج کی کسی بھی حمایت کا ایرانی جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس لیے، ’متحدہ عرب امارات کا بحری، ریل اور ہوائی نقل و حمل کا بنیادی ڈھانچہ، نیز تیل اور گیس کی تنصیبات، خطے میں امریکی اڈوں کی حمایت میں ان کے کردار کی وجہ سے، کسی بھی کارروائی کی صورت میں ایرانی مسلح افواج کے حتمی اہداف میں شامل ہوں گی۔‘

  5. سپین: جنگلاتی آگ میں 11 افراد ہلاک، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ, ہیلن سلیوان، بی بی سی نیوز

    سپین کے جنوبی علاقے اندلوسیا میں لگنے والی ہولناک جنگلاتی آگ کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 19 دیگر لاپتا ہو گئے ہیں۔

    اندلوسیا کے علاقائی صدر خوانما مورینو نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    مقامی حکام کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں چار افراد برطانوی شہری ہو سکتے ہیں۔

    یہ آگ صوبہ المیریا کے علاقے لوس گایاردوس کے قریب بھڑکی، جہاں حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ایک بجلی کی تار گرنے کے باعث آگ لگی، جو بعد ازاں قریبی جنگلاتی علاقے تک پھیل گئی۔

    حکام کے مطابق 11 افراد کی لاشیں بیدار نامی چھوٹے گاؤں اور اس کے اطراف سے ملی ہیں، جو لوس گایاردوس کے قریب واقع ہے۔

    اندلوسیا کے وزیر صحت و ہنگامی امور انتونیو سانز نے کہا کہ آگ غیر معمولی طور پر تیزی سے پھیلی اور صورتحال انتہائی پیچیدہ رہی۔ ان کے بقول زیادہ تر یا تمام ہلاک ہونے والے افراد غیر ملکی شہری ہو سکتے ہیں۔

    سانز کے مطابق چار افراد ایک گاڑی میں پھنسے ہوئے پائے گئے، جبکہ دیگر متاثرین مختلف مقامات پر ملے جہاں وہ بظاہر آگ سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ گاڑی میں موجود چار افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ ’برطانوی نژاد‘ تھے کیونکہ گاڑی کا سٹیئرنگ دائیں جانب تھا۔

    درجنوں اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف

    آگ پر قابو پانے کے لیے تقریباً 150 فائر فائٹرز کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق ایک شخص کو دھوئیں سے متاثر ہونے کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ایک اور شخص جھلسنے کے باعث زخمی ہوا۔ چار افراد کو معمولی جلنے اور دھوئیں کے اثرات کی وجہ سے موقع پر ہی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    آگ کے باعث متعدد سڑکیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ ہنگامی اداروں کے مطابق تقریباً ایک ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ ملک رواں سال موسم گرما کے دوران جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا ہنگامی ردعمل نافذ کرے گا۔

    سپین کی فوجی ہنگامی یونٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ لوس گایاردوس میں امدادی اور آگ بجھانے کی کارروائیوں میں شامل ہو گی۔

    شدید گرمی اور بڑھتے ہوئے جنگلاتی آتشزدگی کے واقعات

    اس موسم گرما میں جنوبی یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے اور کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

    فرانس، پرتگال اور اسپین میں سینکڑوں فائر فائٹرز مختلف مقامات پر بڑی آگوں سے نبرد آزما ہیں جبکہ ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

    سپین نے جون میں 1950 کے بعد اپنی بلند ترین اوسط یومیہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا، جبکہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

    یورپی جنگلاتی آگ کی نگرانی کے ادارے کے مطابق گذشتہ سال سپین میں تقریباً تین لاکھ 93 ہزار ہیکٹر رقبہ آگ سے متاثر ہوا، جو 2006 سے 2024 کے دوران قومی اوسط سے چھ گنا زیادہ تھا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے، جبکہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے۔

    ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی گرمی، طویل ہیٹ ویوز اور خشک موسم کے نتیجے میں یورپ میں جنگلاتی آگ کے واقعات زیادہ شدید اور بار بار پیش آنے کا امکان ہے۔ گذشتہ برس یورپی یونین میں جنگلاتی آگ کا سیزن ریکارڈ پر بدترین ثابت ہوا، جس میں 10 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جل کر خاکستر ہو گیا۔

  6. امریکہ، ایران کشیدگی کے باوجود تیل کی قیمتوں میں دو فیصد کمی

    امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل دو راتوں تک جاری رہنے والی کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد جمعرات کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں دو فیصد کمی آئی، جس کے بعد قیمت تقریباً 76 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔

    اس ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والے حملوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو پہلے تقریباً 70 ڈالر فی بیرل تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بدھ کے روز یہ کہنے کے بعد کہ ’ایران کے ساتھ معاہدہ ختم ہو چکا ہے‘، تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

    تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ یہ خدشہ تھا کہ آبنائے ہرمز میں سفر کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد مشرق وسطیٰ سے عالمی توانائی کی فراہمی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی تیل کی قیمت تقریباً 74 ڈالر فی بیرل رہی۔

    یہ قیمتیں جون کے وسط کی سطح کے قریب ہیں، یعنی اس وقت سے پہلے جب ایران اور امریکہ نے اپنے تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر مبنی ایک عارضی معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

  7. اینڈی برنہم کی غزہ کے حوالے سے لیبر پارٹی کے مؤقف پر معذرت، اسرائیل پر سخت پابندیوں کا مطالبہ

    برطانیہ کے ممکنہ اگلے وزیرِاعظم سمجھے جانے والے اینڈی برنہم نے غزہ میں اسرائیلی اقدامات پر برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی کے ابتدائی مؤقف پر معذرت کی ہے۔

    اینڈی برنہم نے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس معاملے میں ان کی جماعت سے غلطی ہوئی تھی۔

    غزہ جنگ کے ابتدائی ہفتوں کے دوران برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے کہا تھا کہ اسرائیل کو ’غزہ کی پانی اور بجلی کی فراہمی بند کرنے کا حق حاصل ہے‘۔ ان کے اس بیان پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

    بعد میں سٹارمر نے وضاحت کی کہ ان کی مراد یہ تھی کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

    اینڈی برنہم بھی برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہ قیادت سنبھالتے ہیں تو برطانیہ کا مؤقف اس معاملے پر کہیں زیادہ سخت ہوگا۔

    انھوں نے اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا، جس میں اسرائیلی کابینہ کے انتہائی دائیں بازو کے وزرا پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

    اینڈی برنہم نے مغربی کنارے میں اسرائیلی یہودی بستیوں کے رہائشیوں کے ساتھ تجارتی روابط پر پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

  8. ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے قطر، پاکستان اور علاقائی ثالث متحرک

    بی بی سی فارسی نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے حوالے سے لکھا ہے کہ قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی کو کم کرنے اور جوہری معاہدے پر مذاکرات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ایگزیوس کا کہنا ہے کہ اس نے یہ خبریں ثالث ممالک کے دو ذرائع کے ساتھ ساتھ ایک امریکی اہلکار سے حاصل کی ہیں۔

    ویب سائٹ کے مطابق اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت اور جنگ بندی ’ختم‘ ہو چکی ہے اور انھوں نے ایران پر سلسلہ وار حملوں کا حکم دیا ہے، تاہم ان کی توجہ اب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے پر مرکوز ہے۔

    ایگزیوس نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ایران کے ساتھ مکمل جنگ میں واپس جانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

  9. امریکی حملوں میں 14 ہلاک، ایران کی خلیجی خطے میں جوابی کارروائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے تازہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں ’سنگین جنگی جرم‘ قرار دیا اور امریکی انتظامیہ کو ’شرپسند اور نفسیاتی مریض‘ قرار دیا ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق تہران کو مشہد سے ملانے والے پلوں اور ریلوے لائن کو بھی نقصان پہنچا، جہاں سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں۔

    ایران کی وزارتِ صحت کے مطابق پانچ صوبوں میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک جبکہ 78 زخمی ہوئے ہیں۔

    امریکی حملوں کے بعد خلیجی ممالک نے بھی ایرانی حملوں کی اطلاع دی۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، کویت نے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ قطر نے سیکیورٹی الرٹ جاری کر دیا۔

    بعد ازاں جمعرات کو ایران کی جنوبی بندرگاہ کنارک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ ایک مقامی عہدیدار نے ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بحریہ کے ایک اڈے پر ’دشمن‘ نے حملہ کیا ہے۔

    تاہم، امریکی محکمۂ دفاع کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران میں کوئی حملہ نہیں کیا۔

  10. علی خامنہ ای مشہد میں سپرد خاک، امریکہ اور ایران کے ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے

    امریکہ اور ایران نے جمعرات تک جاری رہنے والے حملوں کے تبادلے میں ایک بار پھر ایک دوسرے پر حملے کیے، جبکہ مبصرین نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں ’ڈرامائی‘ حد تک کمی کی اطلاع دی ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں سے بعض آبنائے ہرمز کے قریب واقع تھے۔ ایران کے مطابق گذشتہ دو روز میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سرکاری میڈیا نے صوبے کے نائب گورنر کے حوالے سے بتایا کہ بوشہر کے جوہری بجلی گھر کے قریب واقع اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکہ نے ان تازہ حملوں پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس نے جوابی کارروائی میں کویت، بحرین اور قطر میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں جمعرات کو تہران نے کویت، اردن اور عراق میں مزید مقامات پر حملے کیے۔

    دوسری جانب، ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر مشہد میں عوام کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔

    شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد کی سڑکوں پر ہزاروں افراد ایرانی پرچم لہراتے ہوئے موجود تھے، جبکہ بعض افراد ایسے بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف قتل کی دھمکیوں پر مبنی نعرے درج تھے۔

    خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے پہلے چند گھنٹوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

  11. ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین کر دی گئی

    ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں امام رضا کے مزار میں کر دی گئی ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی، جس کے بعد مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے ان کی تدفین کی گئی۔

    آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی گئی ہے۔

    مشہد کا مطلب ہے جائے مدفن شہید اور اسی مناسبت سے اسے مشہد الرضا کہا جاتا ہے۔

    مشہد میں امامِ رضا کے روضے کی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔ ایران آنے والے نوّے فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔

  12. ایران میں جمعرات کی رات بھی دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں

    ایران سے جمعرات کی رات کو بھی دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات موصول ہوتی رہیں۔

    جمعرات کی رات ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر کنارک میں ’تین دھماکوں‘ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا: ’ابھی تک ممکنہ نقصان کی نوعیت اور حجم کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔‘

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اس کے علاوہ بوشہر اور چغادک کے نواح میں ’دو دھماکوں‘ کی آوازیں بھی سنی گئی۔

    گذشتہ تین راتوں کے دوران امریکہ نے ایران کے مختلف علاقوں، خصوصاً ملک کے جنوبی ساحلی پٹی کے علاقوں میں، شدید حملے کیے ہیں۔

  13. مشہد: ایران کا مقدس ترین شہر اور خامنہ ای کی آخری آرام گاہ

    آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اُن کی ’وصیت‘ اور ’رشتہ داروں کی تجویز‘ کے مطابق مشہد میں امام رضا کے مزار پر کر دی گئی ہے۔

    مشہد کا مطلب ہے جائے مدفن شہید اور اسی مناسبت سے اسے مشہد الرضا کہا جاتا ہے۔

    مشہد میں امامِ رضا کے روضے کی صدیوں پرانی اور طویل تاریخ ہے۔

    ایران آنے والے نوّے فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔

  14. علی خامنہ ای کی نماز جنازہ بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی

    ایران کے سابق رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ان کے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی ہے۔

    اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا تھا کہ مشہد میں علی خامنہ ای کے جنازے کی تقریب آیت اللہ حسین نوری ہمدانی کی امامت میں نمازِ جنازہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔ تاہم نوری ہمدانی کی عدم موجودگی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

    علی خامنہ ای کے بڑے بیٹے کی جانب سے نمازِ جنازہ پڑھائے جانے کے بعد ایک بار پھر مجتبیٰ خامنہ ای کی اپنے والد کے جنازے میں عدم موجودگی کا معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

  15. ضرورت پڑنے پر ایران پر تیسری بار حملے کے لیے تیار ہیں: اسرائیلی وزیر دفاع

    اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی فوج ’چوکنا اور تیار‘ ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق وزیرِ دفاع نے پائلٹس کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ’ضرورت پڑنے پر ایران پر تیسری بار حملے کے لیے تیار ہے۔‘

    اسرائیل ایران میں جنگ کے آغاز سے ہی شامل رہا اور 28 فروری کو اس نے امریکہ کے ساتھ مل کر مشترکہ حملے کیے تھے۔

  16. ’ایران اپنے دفاع کے لیے تیار ہے‘: عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بات چیت

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت میں حالیہ امریکی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے دونوں ملکوں کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیا۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو میں عباس عراقچی نے امریکی فوج کی کسی بھی مہم جوئی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے ملکی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ایرانی قوم اور اس کی مسلح افواج کے غیر متزلزل عزم اور ارادے پر زور دیا۔

    دوسری جانب عباس عراقچی نے ترکی اور عمان میں اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کی، جس میں تمام فریقوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے سفارت کاری پر زور دیا ہے۔

    عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ترکی اور عمان کے وزرائے خارجہ نے علاقائی مسائل کے حل اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے ’مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔‘

  17. کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کا 15 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد لانگ مارچ کا اعلان

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کے حق میں 15 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    تنظیم نے اس سے قبل 9 جون کو بھمبر سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، تاہم راولاکوٹ پہنچنے پر انتظامیہ نے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔ اس کے بعد سے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک عیدگاہ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔

    گذشتہ ہفتوں کے دوران عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں چار پولیس اہلکاروں سمیت ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ نے تنظیم کی جانب سے نئے لانگ مارچ کے اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الوقت یہ صرف ایک اعلان ہے۔ انتظامیہ کے مطابق جب شرکا عملی طور پر لانگ مارچ شروع کریں گے تو اس صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

    ضلعی حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر لانگ مارچ کی اہمیت اس کے عملی آغاز کے بجائے محض اعلان تک محدود ہے۔

  18. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعات میں پولیس اہلکاروں، سکیورٹی فورسز کے جوانوں اور شہریوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیوں کے دوران 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔
    • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں سکیورٹی سے متعلق حالیہ واقعات کے خلاف احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایئرپورٹ روڈ پر شدت پسندوں کے حملوں کے خلاف گذشتہ اتوار سے جاری دھرنے کے بعد اب کوئلہ پھاٹک پر بھی ایک نیا دھرنا شروع ہو گیا ہے۔ کوئلہ پھاٹک پر دیا جانے والا یہ دھرنا ضلع زیارت میں مانگی ڈیم فیز تھری کی تعمیراتی سائٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف ہے۔
    • امریکی حملوں کے بعد ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیوز اور تصاویر سے شمالی ایران کے شہر آق قلعہ میں واقع ایک ریلوے پل کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق ہوئی ہے۔
    • ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے مطالبہ کیا ہے کہ جہاز خلیج میں اپنی ساحلی پٹی کے قریب حکومت کی منظور شدہ سمندری گزرگاہ استعمال کریں۔
    • آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے ساتھ ایران اور پڑوسی ملک عراق کے پانچ شہروں میں جاری چھ روزہ عوامی سوگ کی تقریبات اختتام پذیر ہو گئیں۔
  19. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔