آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, سعودی عرب اور حوثیوں کی جانب سے ثالثی کی ایرانی پیشکش پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا، عباس عراقچی

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب یا یمن کی حوثی تحریک نے اب تک ایران کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا جواب نہیں دیا ہے۔ مصر کی جانب سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے متعلق بیان پر ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔‘

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. سعودی عرب اور حوثیوں کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا، عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب یا یمن کی حوثی تحریک نے اب تک ایران کی دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کا جواب نہیں دیا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس ماہ کے آغاز میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد بات چیت کے آغاز میں مدد کی پیشکش کی تھی۔

    مصر کی جانب سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے متعلق بیان پر ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔‘

    عراق کے ٹی وی چینل الاخباریہ کو دیے گئے انٹرویو میں عراقچی کا کہنا تھا کہ قاہرہ اس سے قبل تہران کو یقین دہانی کروا چکا ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں ’براہِ راست‘ مداخلت نہیں کرے گا۔

    دوسری جانب مصر کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کے دفاع کے لیے اسے درکار تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

    حوثیوں کے خلاف مصری فوج کی ممکنہ کارروائی سے متعلق مصری پارلیمان میں ہونے والی ووٹنگ 26 اکتوبر تک مؤخر کر دی گئی ہے۔ مصر کی فوج عرب دنیا کی بڑی فوجی قوتوں میں شمار ہوتی ہے۔

  2. ترکی کی حکومت نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ منظوری کے لیے پارلیمان میں جمع کروا دیا

    ترکی کی حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ سے متعلق بل ترک پارلیمان کے سپیکر کو جمع کروا دیا ہے۔

    یہ بل پہلے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کی خارجہ امور کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد و وزیرِ اعظم محمد بن سلمان نے سات اگست کو ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔

    ترکی کے آئین کے مطابق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے لیے ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی سے اس کی منظوری ضروری ہوتی ہے۔

    ترکی اس وقت مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ریاض کی حکومت کو فراہم کی جانے والی عسکری معاونت کے دائرۂ کار اور قانونی فریم ورک کا جائزہ لے رہا ہے۔

    معاہدے کے دائرۂ کار سے متعلق بحث کے حوالے سے ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ ’ترکی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر اپنے فوجی دستے نہیں بھیجے گا اور نہ وہاں جا کر کوئی حملہ کرے گا۔‘

    سعودی عرب کو کچھ عرصے سے یمن میں موجود حوثیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔

    ترکی مکہ اتحاد کے فریم ورک کے تحت سعودی عرب کو عسکری معاونت فراہم کرنے کے امکان پر غور کر رہا ہے۔

  3. مسک نے یوکرین کی سپیس ایکس سیٹلائٹ سروس تک رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کیا تھا: امریکی نشریاتی ادارہ

    امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایلون مسک کے ایک فیصلے کے نتیجے میں یوکرین کے لیے سپیس ایکس کے سیٹلائٹ مواصلاتی نیٹ ورک کے استعمال پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

    اس معاملے سے واقف افراد نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ یوکرین میں ڈرون کارروائیوں، بعض اہداف کو نشانہ بنانے اور مختلف مقامات کے تحفظ کے لیے استعمال ہونے والی اس سیٹلائٹ سروس کی رفتار گذشتہ ہفتے نمایاں طور پر کم کر دی گئی تھی۔

    ذرائع کے مطابق اس حکم سے قبل ایلون مسک نے امریکی انتظامیہ کے حکام کے ساتھ متعدد بات چیت کیں۔ وہ اس معاملے پر صدر کی سوچ اور مؤقف کے بارے میں وضاحت چاہتے تھے۔

    ایلون مسک اس بات پر ناگواری کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ اُن کی کمپنی کو روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ سے مالی فائدہ اٹھانے والی کمپنی کے طور پر دیکھا جائے۔

    تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ سروس محدود کرنے کے لیے ایلون مسک کے حکم پر عمل درآمد کس طرح کیا گیا۔

  4. ایران اب بھی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے، عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اب بھی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    منگل کو عراقی ٹی وی نیٹ ورک الاخباریہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ’آبنائے ہرمز کوئی بین الاقوامی آبی گزرگاہ نہیں بلکہ یہ ایران اور عمان کی علاقائی سمندری حدود میں واقع ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ آبی گزرگاہ بین الاقوامی پانی کا حصہ نہیں۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ نے الاخبیاریہ کو بتایا کہ تہران اور مسقط کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے حوالے سے اتفاق ہو چکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ان راستوں کا ایک مخصوص نقشہ تیار کیا جا چکا ہے اور ان کے جغرافیائی نقاط کا تعین کر کے انھیں نقشے میں درج کر لیا گیا ہے۔ لہٰذا اگر کسی دن آبنائے ہرمز کھولی جاتی ہے تو ایران اور عمان کے درمیان طے پانے والا راستہ ہی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے حقیقی اور متفقہ راستہ ہو گا، نہ کہ کوئی اور راستہ۔‘

    امریکہ کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران، فوجی کشیدگی کے خاتمے کے لیے اب بھی قطر اور پاکستان کے ذریعے امریکہ کے ساتھ رابطے میں اور مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

    دوسری جانب منگل کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ حکومت کے 25ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری سب سے مؤثر ذرائع ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مغربی ایشیا اور خلیج فارس میں فریقین کے درمیان رابطوں کو ممکن بنانے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی کوششیں تعمیری سفارت کاری کے عزم کی عکاس ہیں۔‘

    اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ’پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا اور دیرپا امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کی تمام کوششوں کی حمایت کرے گا۔‘

  5. امریکی سینٹرل کمانڈ کی آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی تردید

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس بات کی تردید کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر ایرانی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے ہیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے ایک ترجمان نے الجزیرہ کو بتایا کہ ’ایران کا یہ دعویٰ کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرائے ہیں، درست نہیں ہے۔‘

    الجزیرہ کے مطابق، فوجی عہدیدار نے مزید کہا: ’ہم نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے راستوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا ہے۔ ایران اپنی جارحانہ کارروائیوں میں میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتا ہے۔‘

    اُنھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے دعووں کے برعکس، آبنائے ہرمز کھلی ہے اور 95 فیصد بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے ’کامیابی کے ساتھ‘ گزر جاتے ہیں۔

  6. افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی ملک سے باہر نہیں جائے گا: محسن رضائی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے دوران گفتگو

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم کا ایک ذرہ بھی باہر نہیں جائے گا۔

    ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق ان خیالات کا اظہار محسن رضائی نے پاکستان فوج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے تہران میں ملاقات کے دوران کیا۔

    محسن رضائی نے کہا کہ ’جب تک امریکہ اعتماد سازی نہیں کرتا، اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اُنھوں نے ایران کی شرائط کو پورا کرنے کو ہی اس اعتماد سازی کے عمل کا آغاز قرار دیا۔‘

    محسن رضائی نے کہا کہ ایران اور پاکستان کی سرحدوں کا مسئلہ حل ہو گیا ہے اور آج صبح سے دونوں ممالک کے درمیان تمام سرحدی مقامات دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔

    چند گھنٹے قبل، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرحد کی بندش کی وجہ ’تکنیکی مسائل‘ بتائی تھی۔

    اس دورے کے دوران، پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ نے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی۔

  7. فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر اور پارلیمان کے سپیکر سے ملاقاتاتیں

    ایران کے دورے پر موجود پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔

    عاصم منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کے لیے منگل کو تہران پہنچے تھے اور اُن کے ساتھ اس دورے پر پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو پیش کی گئی سات شرائط پورا ہونے تک امریکہ ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔

    باقر قالیباف نے کہا کہ ’ایران جنگ پسند نہیں ہے، لیکن وہ اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔‘

    ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ دھمکیاں اور فوجی مشقیں ایران کے سٹریٹجک فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ یہ امریکہ ہی تھا جو غلط اندازوں اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کی وجہ سے خود ایک دلدل میں پھنس گیا؛ اب یہ انھی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائیں۔

  8. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک شدت پسندی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز نے 50 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور دیگر کارروائیاں کی ہیں۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں میں 1100 شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے 315 اہلکار اور 551 عام شہری بھی جان سے گئے۔
    • ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھے گا۔
    • اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
    • برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں کے پیشِ نظر سعودی عرب کے دفاع کے لیے رائل ایئر فورس (آر اے ایف) کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرے گی۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جنپنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ سہ فریقی اجلاس پر آمادگی کا اعلان کیا ہے۔
  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔