سعودی عرب اور حوثیوں کی جانب سے ثالثی کی پیشکش پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا، عباس عراقچی
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب یا یمن کی حوثی تحریک نے اب تک ایران کی دونوں فریقوں کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کا جواب نہیں دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو نشر ہونے والے ایک ٹی وی انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس ماہ کے آغاز میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد بات چیت کے آغاز میں مدد کی پیشکش کی تھی۔
مصر کی جانب سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کے متعلق بیان پر ان کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی بیرونی مداخلت سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔‘
عراق کے ٹی وی چینل الاخباریہ کو دیے گئے انٹرویو میں عراقچی کا کہنا تھا کہ قاہرہ اس سے قبل تہران کو یقین دہانی کروا چکا ہے کہ وہ یمن کے تنازع میں ’براہِ راست‘ مداخلت نہیں کرے گا۔
دوسری جانب مصر کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کی سلامتی کے دفاع کے لیے اسے درکار تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
حوثیوں کے خلاف مصری فوج کی ممکنہ کارروائی سے متعلق مصری پارلیمان میں ہونے والی ووٹنگ 26 اکتوبر تک مؤخر کر دی گئی ہے۔ مصر کی فوج عرب دنیا کی بڑی فوجی قوتوں میں شمار ہوتی ہے۔