پاکستان کے صوبہ
بلوچستان کے ساحلی
ضلع گوادر سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی اور حق دو تحریک کے سربراہ مولانا
ہدایت الرحمان کے خلاف سکیورٹی چیک پوسٹ پر خواتین کی تصاویر بنانے سے متعلق معاملے پر ویڈیو بنانے اور لوگوں کو سکیورٹی اداروں کے خلاف کے الزام پر گوادر میں مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مقدمہ سوشل
میڈیا پر مولانا ہدایت الرحمان کی سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ کے قریب
ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد درج کیا گیا ہے۔
گوادر پولیس کے مطابق
اس سلسلے میں قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مولانا ہدایت الرحمان
کے ویڈیو بیان میں کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر
وائرل ہونے والی ویڈیو میں مولانا ہدایت الرحمان کو ایک چیک پوسٹ کے قریب کھڑے دیکھا
جا سکتا ہے۔
ویڈیو میں انھیں کہتے
سنا جا سکتا ہے کہ صبح وہ جب یہاں سے جا رہے تھے تو انھیں بتایا گیا کہ فورس کے کمانڈنگ
افسر کا حکم ہے کہ پیشکان اور جیونی سے جو خواتین آئیں گی تو ان کا پردہ ہٹا کر چیک
پوسٹ پر لگے کیمرے میں ان کی تصاویر اتاری جائیں۔
انھوں نے اسے بلوچ
خواتین کے غیرت کے ساتھ کھیلنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر اس کیمرے
کو نہیں ہٹایا گیا اور چیک پوسٹ پر بلوچ خواتین کے پردے کو ہٹا کر ان کی تصاویر بنائی
گئیں تو وہ اس چیک پوسٹ پر عوام کے ساتھ آ کر احتجاج کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ
انھوں نے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر اور دیگر ذمہ دار سرکاری حکام کو آگاہ کردیا ہے۔
ایف آئی آر میں میں کیا کہا گیا ہے؟
مولانا ہدایت الرحمان
کے خلاف سٹی پولیس سٹیشن میں گوادر کے رہائشی فدا حکیم رند کی مدعیت میں مقدمہ درج
کیا گیا ہے۔
مدعی کا کہنا ہے کہ
مولانا ہدایت الرحمان نے گوادر اور پشکان روڈ پر قائم سکیورٹی چیک پوسٹ پر اپنی گاڑی
کو روک کر کار سرکار میں مداخلت کی اور وہاں سکیورٹی اہلکاروں اور اداروں کے خلاف قابل
اعتراض ریمارکس دیے۔
انھوں نے الزام لگایا
کہ ویڈیو میں رکن بلوچستان اسمبلی نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے سکیورٹی اداروں پر بے
بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔
مدعی مقدمہ کے بقول
مولانا ہدایت الرحمن کے اقدام سے نہ صرف عوام مشتعل ہو سکتی ہے بلکہ موجودہ حالات میں
قیام امن کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پولیس نے تعزیرات پاکستان
کی دفعات 353، 186، 503، 504، 505 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں جب سٹی
پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او بشیر احمد سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ
ایک شہری نے تھانے میں درخواست دی تھی جس پر مقدمہ درج کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ مقدمے
کے اندراج کے بعد اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں اور قانون کے مطابق کاروائی کی جائے
گی۔
دوسری جانب حق دو تحریک
کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے خلاف احتجاج
پر مولانا ہدایت الرحمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جو افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔