ضلع کیچ میں چار افراد کی ہلاکت پر احتجاج، وکلا کا عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بالیچہ میں چار افراد کی ہلاکت کے خلاف مکران ڈویژن میں وکلا نے جمعرات کو بطور احتجاج عدالتوں کی کاروائی کا بائیکاٹ کیا۔
یہ چاروں افراد گذشتہ جمعے کو بالیچہ کے تفریحی مقام پر پکنک منانے کے دوران مارے گئے تھے۔
مارے جانے والے تین افراد کے ایک رشتہ دار خلیل تگرانی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ افراد دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے کی وجہ سے مارے گئے، جو کہ فضا سے آ کر ان پر گرا تھا۔
کیچ میں آل پارٹیز کیچ کے نام سے سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں صاف اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔
بی بی سی اردو نے اس واقعے پر مؤقف جاننے کے لیے متعلقہ حکومتی اور انتظامی عہدیداروں سے رابطہ کیا، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ہلاک ہونے والے افراد کون تھے؟
ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے کلگ تگران اور بالیچہ سے تھا۔
یہ علاقہ تربت سے اندازاً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر مند کی جانب واقع ہے۔
ہلاک ہونے والوں کے شناخت زبیر تگرانی، محمد یاسر کریم ، سمیر عبدالخالق اور دیدگ بلوچ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان میں شامل زبیر تگرانی یونین کونسل کلگ تگران کے وائس چیئرمین تھے۔
ان کے قریبی رشتہ دار خلیل تگرانی نے بتایا کہ زبیر تگرانی کا سیاسی تعلق مرکزی جمیعت اہلحدیث سے تھا اور وہ سنہ 2024 کے عام انتخابات میں جماعت کی طرف سے بلوچستان اسمبلی کی نشست کے بھی امیدوار تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی عمر چالیس سال کے لگ بھگ تھی اور وہ شادی شدہ تھے۔
خلیل تگرانی کے مطابق محمد یاسر کریم اور سمیر عبدالخالق بھی ان کے قریبی رشتہ دار تھے۔
ان کے ایک اور قریبی رشتہ دار صغیر احمد (فرضی نام ) نے بتایا کہ محمد یاسر کریم کی عمر 26 سال تھی، وہ شادی شدہ تھے اور ان کی آٹھ ماہ کی ایک بچی ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ محمد یاسر اور سمیر عبدالخالق ڈرائیور تھے اور وہ محنت مزدوری کرتے تھے۔
ان کے مطابق ان چاروں کے ساتھ جانے والے دو دیگر افراد اس واقعے میں زندہ بچ گئے کیونکہ وہ واقعے کے وقت ان کے قریب نہیں تھے، بلکہ 7سے 8 سو میٹر کے فاصلے پر تھے۔
خلیل تگرانی کہتے ہیں کہ مارے جانے والے افراد کی لاشیں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ان کے حوالے کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے انصاف کے جو بھی تقاضے ہیں وہ حکومت اور ریاستی ادارے پورے کریں۔
’واقعے کے بارے میں صاف اور شفاف تحقیقات کی جائے اور متائثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔‘
دوسری جانب آل پارٹیز کیچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ایسے واقعات عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے مزید بڑھانے کا سبب بنتے ہیں، جبکہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔‘
آل پارٹیز کیچ نے متاثرہ خاندان کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ وہ واقعے کی غیر جانب دارانہ، شفاف اور مکمل تحقیقات کرے۔
اس واقعے کے حوالے سے حکومت اور انتظامیہ کا موقف جاننے کے لیے وزیر داخلہ بلوچستان، وزیر اعلیٰ کے معاون برائے میڈیا اور محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا کے علاوہ کمشنر مکران ڈویژن، ڈپٹی کمشنر کیچ اور ایس ایس پی کیچ سے رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن انھوں نے نہ ہی کال وصول کی اور نہ اس حوالے سے میسیج کا جواب دیا۔