امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں میں وقفے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی
امریکہ اور ایران کے درمیان دو روز سے حملوں میں وقفے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔
پیر کی صبح ہونے والی ٹریڈنگ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تیل کی قیمتوں کا عالمی معیار سمجھی جانے والی برینٹ کروڈ کی قیمت پیر کی صبح ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً پانچ فیصد گر کر تقریباً 92 ڈالر تک آ گئی۔
حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتیں ایک موقع پر 100 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں کیونکہ دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں اور دھمکیوں میں شدت آ گئی تھی۔
یاد رہے کہ جمعرات کی شام سے دونوں فریقین کے درمیان کسی حملے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی کوششوں کو مزید وقت دینے کے لیے مسلسل دوسری رات ایران پر حملوں کا سلسلہ روکا ہوا ہے دوسری جانب تہران نے بھی جواباً خطے میں اپنے جوابی حملے روکنے کا بیان دیا ہے۔
ثالثوں کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی منڈیوں کو امید ہے کہ فوجی جھڑپوں میں یہ وقفہ زیادہ مستحکم جنگ بندی کا سبب بنے گاجس سے ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ملے گی۔