کراچی میں نوجوان تاجر
میر رضا کے قتل کے کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے اسسٹنٹ سپرانٹینڈنٹ
پولیس (اے ایس پی) ندا جنید سے سوال کیا ہے کہ کیا انھیں شواہد خراب کرنے یا تحقیقات
کو کسی مخصوص سمت میں لے جانے کے لیے کسی نے احکامات دیے یا دباؤ ڈالا۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس
عمر سیال پر مشتمل ایک رکنی کمیشن نے اے ایس پی ندا سے تحقیقات میں ان کی غیر معمولی
شمولیت پر سخت سوالات کیے۔ کمیشن نے سوال کیا کہ نہ میر رضا کا فون انھیں ملا اور نہ
ہی فون ان کی تحویل میں تھا، تو وہ کیس کی مختلف میٹنگز میں کیوں شریک رہیں؟
کمیشن نے پانچ اگست
کو پولیس سرجن کی میٹنگ میں ان کی شرکت، وہاں موجودگی کی وجہ اور این سی سی آئی اے
جانے کے اختیارات سے متعلق بھی سوالات کیے۔
کمیشن نے کہا کہ بچوں سے زیادتی یا
ریپ کے کیس میں خاتون افسر کو ساتھ لے جانا سمجھ آتا ہے، لیکن اس معاملے میں ان کا
کیا کام تھا؟ ندا نے بتایا کہ انھیں سینیئر افسر کی ہدایت تھی، جبکہ ڈی آئی جی عامر
فاروقی نے این سی سی آئی اے جانے کی ہدایت کی تھی۔
کمیشن نے سوال کیا کہ
اگر سینیئر افسر غیر قانونی ہدایت دے تو کیا وہ بھی مان لیں گی؟ ندا نے کہا کہ این
سی سی آئی اے کے ساتھ معمول کی ملاقات تھی اور سینیئر پولیس افسران بھی ساتھ تھے۔
کمیشن نے کہا کہ وہ اس کیس میں خلافِ
ضابطہ بہت آگے نکلی ہوئی تھیں اور سوال کیا کہ ڈی آئی جی عامر فاروقی نے انھیں تحقیقات
میں کیا کردار دیا تھا۔ ندا کے مطابق انھیں میر رضا کے خاندان کے بیانات کے وقت بیٹھ
کر نوٹس لینے کی ہدایت کی گئی تھی، تاہم خاندان کا بیان تفتیشی افسر نے ریکارڈ کیا
اور ان کی جانب سے بیان میں کوئی مداخلت نہیں کی گئی۔
میر رضا کی فیملی
کے وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ وہ بھی خاندان کے بیان کے موقع پر موجود تھے۔
ان کے مطابق اے ایس پی ندا نے میر رضا اور احمد کی آخری گفتگو کو عجیب قرار دیا تھا،
جبکہ خاندان نے بھی اے ایس پی ندا کی موجودگی پر اعتراض کیا تھا۔
جبران ناصر کے مطابق
ڈی آئی جی عامر فاروقی نے کہا تھا کہ اے ایس پی ندا معاونت کے لیے موجود ہیں۔
جوڈیشل کمیشن نے ندا
سے پوچھا کہ کیا پولیس نے کبھی ان کا بیان ریکارڈ کیا اور کیا ان کی شمولیت کا کوئی
روزنامچہ بنایا گیا؟ ندا نے جواب دیا کہ ان کا کوئی بیان نہیں لیا گیا۔
جبران ناصر نے کہا کہ
گواہ فیض کے مطابق علی شاز نے بتایا تھا کہ اے ایس پی نے میر رضا کے دوستوں یا کرپٹو
سے متعلق سوالات پوچھنے کی ہدایت کی تھی، تاہم ندا نے کہا کہ انھوں نے علی شاز کو کوئی
سوالات نہیں بھیجے۔ اس پر کمیشن نے کہا کہ یہاں جو آ رہا ہے اسے کچھ نہیں پتا اور جو
آ رہا ہے وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ندا کو مشکوک نہیں لگا کہ ایک شخص
ان سے منسوب ایسی باتیں کر رہا ہے۔
کاروباری معاملات کے
حوالے سے کمیشن نے میر رضا کے بزنس پارٹنر عابد سے میر رضا کے کاروبار میں نقصان اور
مالی دباؤ سے متعلق سوالات کیے۔ عابد نے کہا کہ اسے میر رضا کے کسی اور کاروبار میں
نقصان کی معلومات نہیں تھیں اور میر رضا نے کبھی مالی دباؤ کا ذکر نہیں کیا۔
کمیشن نے اپریل کے بعد
میر رضا سے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں پوچھا تو عابد نے بتایا کہ میر رضا سے بہت
ملاقاتیں ہوتی رہیں اور عید الاضحیٰ پر جانور خریدنے بھی وہ ان کے ساتھ گئے تھے۔
کمیشن نے میر رضا کی
گمشدگی سے قبل تین کروڑ روپے مانگنے کے بارے میں سوال کیا تو عابد نے کہا کہ اسے معلوم
نہیں کہ یہ رقم کیوں مانگی گئی تھی، کیونکہ رضا سے گفتگو میں کبھی ایسی بات نہیں ہوئی۔
عابد نے بتایا کہ پولیس
نے ممکنہ طور پر 16 اگست کو انھیں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے بلوایا تھا اور اس نے
پولیس کو سرمایہ کاری سے متعلق بھی بیان دیا۔
ان کے مطابق ڈی آئی
جی عامر فاروقی نے کرپٹو، بزنس پارٹنر احمد اور میر رضا سے متعلق سوالات کیے۔
عابد نے بتایا کہ پولیس
نے ان سے واٹس ایپ چیٹ کا ریکارڈ نہیں لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ میر
رضا کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے وقت وہ مدینہ میں تھے، بعد میں شیری نے انھیں میر رضا
کی لاش ملنے کے بارے میں بتایا۔
عابد کے مطابق پولیس
کو بیان دینے کے موقع پر اس کی خاندان سے ملاقات ہوئی۔
کمیشن نے عابد سے سوال
کیا کہ اتنی سرمایہ کاری کے باوجود وہ خاندان سے ملنے گھر کیوں نہیں گئے، جس کے بعد
کمیشن نے دوسرے پارٹنر آصف کو بھی روسٹرم پر طلب کر لیا۔
آصف کا کہنا تھا کہ
میر رضا سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے اور وہ اور اس کا بھائی عابد ساتھ ہی ہوتے تھے۔
کمیشن نے عابد کے پولیس بیان سے متعلق بھی سوال کیا۔ عابد نے بتایا کہ ان کا بیان کیمرے
کے سامنے ریکارڈ کیا گیا تھا، تاہم انھیں ان کا بیان کبھی پڑھ کر نہیں سنایا گیا۔
کمیشن نے نشاندہی کی
کہ پولیس کے بیان میں رقم کے علاوہ دیگر معاملات کا ذکر نہیں، جبکہ کرپٹو اور احمد
سے متعلق بھی سوالات کیے گئے تھے۔ عابد نے بتایا کہ پولیس نے ان سے کرپٹو اور احمد
کے بارے میں سوالات کیے تھے لیکن انھیں نہیں معلوم کہ یہ باتیں بیان میں شامل کیوں
نہیں کی گئیں۔
کارروائی کے دوران پولیس
سرجن ڈاکٹر سمیہ بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئیں اور دستاویزات جمع کروائے جو کمیشن کے
رجسٹرار نے وصول کیے۔
پولیس سرجن نے کمیشن
کو ایک درخواست بھی پیش کی۔ کمیشن نے کہا کہ ڈاکٹر سمیعہ پہلے ہی بہت بہادری کا مظاہرہ
کر رہی ہیں، ان پر اور کمیشن دونوں پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ ڈاکٹر
سمیعہ کی درخواست پر احکامات جاری کیے جائیں گے۔
جبران ناصر نے بتایا
کہ پولیس سرجن کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ کے بعد سپر میڈیکل بورڈ بنائے جانے کی اطلاعات
ہیں اور ڈاکٹر اسامہ کے بیان کے بعد سپر میڈیکل بورڈ بنانے کی تجویز سامنے آئی۔
کمیشن کا کہنا تھا
کہ اگر سپر میڈیکل بورڈ بنتا ہے تو اسے سندھ ہائی کورٹ کے پلیٹ فارم پر چیلنج کیا
جا سکتا ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ
خاندان کے سوال کا ابھی تک جواب نہیں دیا گیا اور میڈیکل بورڈ عدالت کے احکامات پر
بنایا گیا تھا۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا سپر میڈیکل بورڈ عدالتی احکامات کو سپر سیڈ
کرسکتا ہے۔
کمیشن کے مطابق ڈاکٹر
سمیہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے ان کے خلاف منفی مہم چلائی جا رہی ہے اور
اس مہم کی وجہ سے وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
کمیشن کا کہنا تھا کہ سوموار کے روز تفتیشی افسر ڈی ایس
پی سراج لاشاری اور سی پی ایل سی کے نمائندے کاشف کو بلایا جائے گا، جبکہ اسی روز اے
آئی جی آزاد خان، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کو سوالنامے بھیجے
جائیں گے۔