آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ایران کی آبنائے ہرمز کے بعد خطے کے دیگر اہم بحری تجارتی راستے بند کرنے کی دھمکی

پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اپنی ’جارحانہ کارروائیاں‘ ختم نہیں کرتا۔ ایرانی حکام نے خطے میں تیل اور گیس کی برآمد کے لیے استعمال ہونے والی دیگر اہم آبی گزرگاہوں کو بھی بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی ’خلاف ورزی‘ کی، معاہدہ ’عملاً ختم‘ ہوگیا: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

    ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر کے مفاہمتی یادداشت کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے اور یہ معاہدہ اب ’عملاً ختم‘ ہو چکا ہے۔

    گذشتہ چار روز سے امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں۔ جہاں واشنگٹن اپنی فوجی کارروائیوں میں ایران کے ساحلی علاقوں کا نشانہ بنا رہا ہے، وہیں تہران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری تھے، لیکن پھر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران سفارتکاری کا راستہ ترک نہیں کرے گا لیکن امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز بھی نہیں کرے گا۔

    انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ’فوجی دباؤ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کر سکتا ہے یا آبنائے ہرمز کے بارے میں اس کے مؤقف میں تبدیلی لا سکتا ہے۔‘

  2. ایران کی آبنائے ہرمز کے بعد خطے کے دیگر اہم بحری تجارتی راستے بند کرنے کی دھمکی

    امریکہ کی جانب سے ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کی نئی لہر شروع کیے جانے کے بعد ایران نے خطے کی دیگر اہم بحری تجارتی گزرگاوں کو بھی بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اپنی ’جارحانہ کارروائیاں‘ ختم نہیں کرتا۔ ایرانی حکام نے خطے میں تیل اور گیس کی برآمد کے لیے استعمال ہونے والی دیگر اہم آبی گزرگاہوں کو بھی بند کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بدھ کی صبح اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران میں فضائی اور بحری حملوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کا بھی استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل امریکی فوج کی جانب سے ایران میں فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے رات کے وقت بھی ایک سات گھنٹے طویل کارروائی کی گئی تھی۔

    حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کے لیے آبنائے ہرمز کی اہمیت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    تازہ حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ اس اہم بحری راستے سے ٹینکروں کی آمدورفت تقریباً رک گئی ہے۔

    سینٹکام نے اپنے بیان میں کہا کہ بدھ کی صبح کیے گئے حملوں کا مقصد ’ایران کی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا‘ تھا۔

  3. ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری، دو جہازوں کا رخ واپس موڑ دیا گیا: سینٹکام

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے جارو ہونے والے ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران کی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد گزشتہ 17 گھنٹوں کے دوران امریکی افواج نے ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کرنے والے دو تجارتی بحری جہازوں کو واپس بھیج دیا ہے۔‘

    سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’امریکی فوج صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ناکہ بندی پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تیار ہے۔‘

    واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس سے قبل ایکس پر ہی جاری ہونے والے ایک بیان میں یہ کہا گیا تھا کہ ’امریکی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی ہدایت پر امریکی افواج نے 14 جولائی سے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی بحری آمدورفت کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر رکھی ہے۔

  4. عمان کے ساحل کے قریب بحری جہاز پر حملے کے نتیجے میں انڈین شہری کی ہلاکت کی تصدیق

    دبئی میں قائم انڈین قونصل خانے نے بدھ کے روز تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب تجارتی بحری جہاز جے ایف ایس گلیکسی پر حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے انڈین شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

    30 سالہ ہرمبے کرمارکر کے سسر نے بھی اُن کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ہرمبے کرمارکر قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز پر انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، جسے اتوار کے روز عمان کے ساحل کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔

    قبرص میں حکام کے مطابق اس جہاز کے 24 رکنی عملے میں 11 انڈین شہری شامل تھے، جبکہ جہاز کو ایک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس نے اس جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ خبردار کیے جانے کے باوجود ایک ’غیر مجاز‘ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

  5. سینٹکام کا ایران میں ساحلی دفاعی نظام اور میزائل سٹوریج مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کی صبح ایران پر حملوں میں جزیرہ تنب میں اس کے ساحلی دفاعی نظام اور میزائل سٹوریج مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سینٹکام نے اس حملے کی ایک مختصر ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ سینٹکام کے مطابق ایران پر یہ حملے 90 منٹ تک جاری رہے۔

    سینٹکام نے دعویٰ کیا کہ ’ان حملوں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کر دیا۔‘

  6. ایران کے خلاف حملوں کی نئی لہر کا آغاز کر دیا گیا ہے: سینٹ کام

    امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بدھ کے روز ایرانی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر 30 منٹ پر ایران پر نئے حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’ان حملوں کا مقصد ایرانی افواج کی ان عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جنھیں وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا۔‘

    رپورٹ کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں ایرانی حکام خطے کے مختلف ممالک، جن میں اردن، بحرین اور کویت شامل ہیں، میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    ادھر امریکہ نے گزشتہ روز ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کے قریب اپنی بحری ناکہ بندی بھی دوبارہ شروع کر دی ہے۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، جس نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کو ایک باضابطہ شکل دی تھی اب ختم ہو چکی ہے۔

    اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایکس پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’امریکی صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی ہدایت پر امریکی افواج نے 14 جولائی سے ایران کی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والی بحری آمدورفت کی ناکہ بندی دوبارہ شروع کر رکھی ہے۔

    تاہم اس حوالے سے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایکس پر ایک نقشہ بھی جاری کیا ہے، جس میں سرخ حاشیے کے ذریعے ایران کی ان بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بحری ناکہ بندی کی زد میں ہوں گے۔ نقشے کے مطابق ان علاقوں کی جانب کوئی بھی تجارتی یا مال بردار بحری جہاز نہ داخل ہو سکے گا اور نہ ہی اُسے وہاں سے روانہ ہونے کی اجازت ہوگی۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی فوج خطے کی سمندری گزرگاہوں میں ان تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کی حمایت جاری رکھے گی جو اس ناکہ بندی پر عملدرآمد جاری رکھیں گے۔

  7. ایرانی فضائی حملوں کی متعدد کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں: بحرین کی فوج کا دعویٰ

    بحرین کی فوج نے کہا ہے کہ بدھ کی صبح علی الصبح خطرے کے سائرن بجنے کے بعد ایران کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کی متعدد کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔

    بحرین کی فوج نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ’ایران شہریوں کو نشانہ بنانے والے مجرمانہ حملوں کے ذریعے اپنی جارحانہ اور منظم پالیسی پر عمل پیرا ہے۔‘

    بیان کے مطابق بحرینی مسلح افواج نے آج صبح ایران کی جانب سے کیے گئے متعدد فضائی حملوں کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران انھوں نے کویت، بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

    اس حوالے سے دونوں ممالک کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

  8. ایرانی ایجنٹ کو میزائل حملوں کی ویڈیوز بھیجنے کے عوض ’رقم وصول‘ کرنے کے الزام میں اسرائیلی فوجی اہلکار کو سزا

    اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایک حاضر سروس فوجی اہلکار کو ایک ایرانی ایجنٹ کو میزائل حملوں کو روکنے کی ویڈیوز بھیجنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    اسرائیلل فوج کے مطابق مذکورہ فوجی اہلکار نے گذشتہ موسمِ گرما میں ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران ایسی دو ویڈیوز شیئر کیں اور ’ان کے عوض رقم وصول کی۔‘

    اسرائیلی فوج نے مزید کہا کہ فوجی اہلکار نے شہری علاقوں میں ریکارڈ کی گئی متعدد ویڈیوز بھی ’ایرانی فریق‘ کو فراہم کی تھیں۔

    خیال رہے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران اسرائیلی حکام نے حملوں سے متاثرہ مقامات کی فلم بندی اور تصاویر بنانے پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔

  9. ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری ہلاک: حکومتی ترجمان

    ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ جنوبی ایران پر حالیہ امریکی حملوں میں 30 سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق فاطمہ مہاجرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں لکھا ہے کہ ’ملک کے جنوبی حصوں میں حالیہ دنوں کے دوران ہونے والے حملوں میں 30 سے زیادہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‘

    ایران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعات مختلف علاقوں سے رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق گزشتہ روز صوبہ ہرمزگان کے محکمہ ماحولیات کے حکام نے بتایا کہ صوبے کے شمال میں واقع شہر حاجی آباد پر امریکی میزائل حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

    ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک ماہر ماحولیات کے خاندان کے تین افراد شامل تھے۔

  10. فوجی چھاؤنی پر کیے گئے امریکی حملے میں سات ہلاکتیں، متعدد زخمی: ایرانی فوج

    ایرانی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے بامپور میں ایک فوجی چھاؤنی پر امریکی حملے میں سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق بدھ کی صبح امریکی فوج نے بامپور میں واقع ایرانی زمینی افواج کی ایک بیرک کے رہائشی حصے کو لگ بھگ 13 میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں ایران شہر کی 388ویں بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے سات اہلکار، جن میں حاضرِ سروس اور ریٹائرڈ اہلکار شامل تھے، ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے بامپور سمیت خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب کئی ساحلی شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات دی تھیں۔

    اس دعوے پر امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

  11. چین کی اقتصادی ترقی میں ’نمایاں سست روی‘ کی وجوہات کیا ہیں؟, پیٹر ہوسکنز، بزنس رپورٹر

    چین کی اقتصادی ترقی اپریل سے جون کے دوران نمایاں طور پر سست پڑ گئی۔ اس کی وجہ ملک کے اندر کمزور طلب اور ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے کو قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات مضبوط برآمدات پر بھی حاوی رہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی دوسری بڑی معیشت کی مجموعی قومی پیداوار دوسری سہ ماہی میں 4.3 فیصد بڑھی، جو بیجنگ کے سالانہ ہدف سے کم ہے۔ اس سے قبل پہلی سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کی شرح پانچ فیصد رہی تھی۔

    یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ایک روز قبل جاری ہونے والے سرکاری ڈیٹا میں بتایا گیا تھا کہ جون میں چین کی برآمدات گذشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 27 فیصد بڑھ گئی ہیں۔

    مارچ میں چین نے اپنی اقتصادی ترقی کا ہدف کم کرتے ہوئے 4.5 سے پانچ فیصد کے درمیان مقرر کیا تھا، جو 1991 کے بعد ملک کا سب سے کم ترقیاتی ہدف ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق اس اقدام سے حکومت کو اقتصادی پالیسیوں کے نفاذ میں زیادہ لچک حاصل ہوئی ہے۔

    28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد یہ جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر مشتمل پہلی مکمل سہ ماہی ہے۔ واضح رہے کہ سنہ 2022 کے اختتام کے بعد، جب چین سخت کووِڈ پابندیوں سے باہر آ رہا تھا، یہ اقتصادی توسیع کی سب سے کم رفتار بھی ہے۔

    چین کے قومی ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال اور بیرونی عوامل میں اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے مطابق ملکی معیشت میں پیداوار اور طلب کے درمیان عدم توازن بھی برقرار ہے، جہاں رسد مضبوط ہے لیکن طلب نسبتاً کمزور ہے۔

    بدھ کو جاری ہونے والے دیگر اعداد و شمار نے بھی چین کو درپیش اندرونی اقتصادی مشکلات کی نشاندہی کی، جن میں جائیداد کی منڈی کا طویل بحران اور صارفین کے کمزور اخراجات شامل ہیں۔

    جون میں نئے گھروں کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی ریکارڈ کی گئی، اگرچہ 0.1 فیصد کی یہ کمی مئی کے مقابلے میں قدرے کم تھی۔ دوسری جانب ’ریٹیل سیلز‘ میں بہتری دیکھی گئی اور جون میں یہ ایک فیصد بڑھی، جبکہ مئی میں اس میں 0.6 فیصد کمی آئی تھی۔

    سرمایہ کاری پلیٹ فارم آئی جی سے وابستہ مارکیٹ تجزیہ کار فابیئن ییپ کے مطابق چینی کاروباری ادارے توانائی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت خود برداشت کر رہے ہیں کیونکہ صارفین کی طلب اتنی مضبوط نہیں کہ ان اضافی اخراجات کا بوجھ برداشت کر سکے۔

    ان کے مطابق ایران جنگ جتنی طویل ہوگی، چین کے لیے اس صورتحال کا انتظام کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔

    منگل کو جاری ہونے والے کسٹمز اعداد و شمار کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق ڈیٹا سینٹرز کے لیے سیمی کنڈکٹرز کی عالمی طلب میں اضافے نے چین کی ٹیکنالوجی برآمدات کو نمایاں سہارا دیا۔

    اس کے علاوہ چینی الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ نے بھی برآمدات میں اہم کردار ادا کیا۔ جون میں پہلی بار چین کی ماہانہ گاڑیوں کی برآمدات 10 لاکھ سے تجاوز کر گئیں۔

  12. امریکہ نے ایران کے 130 ملین ڈالر سے زائد کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے

    امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے مرکزی بینک سے منسلک 130 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرسکاٹ بیسنٹ نے لکھا کہ امریکی محکمۂ خزانہ ایران کی غیر قانونی مالی سرگرمیوں بشمول ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

    سکاٹ بیسنٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) نے ایران کے مرکزی بینک سے منسلک متعدد ڈیجیٹل والٹس پر پابندیاں عائد کیں، جس کے نتیجے میں 130 ملین ڈالر سے زیادہ مالیت کے اثاثے منجمد ہو گئے۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور ایرانی حکومت کو ان رقوم تک رسائی سے روکنے کی کوشش کرے گا جو (واشنگٹن کے مطابق )غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔

    اس سے قبل ایک بیان میں سکاٹ بیسنٹ نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایرانی حکومت دھوکے پر قائم ہے اور شمخانی نیٹ ورک اس کے سب سے منافع بخش مالیاتی نیٹ ورکس میں سے ایک ہے۔‘

    یاد رہے کہ امریکی محکمۂ خزانہ نے حالیہ مہینوں میں ایران سے منسلک کئی بڑے کرپٹو ایکسچینجز اور مالیاتی نیٹ ورکس پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔

    امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ نیٹ ورکس ایرانی اداروں کے لیے مالی لین دین کو آسان بنانے اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔

  13. امریکہ: سینیٹ میں ڈیموکریٹس کے ایران سے جنگ پر خدشات، دفاعی بجٹ بل پر پیش رفت میں تاخیر

    امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹ ارکان نے ایران کے ساتھ جنگ کے خدشات کے باعث سالانہ دفاعی پالیسی بل (این ڈی اے اے) کی مخالفت کی ہے جس کے نتیجے میں یہ بل اگلے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق ووٹنگ میں بل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 46 ووٹ پڑے جو اسے آگے بڑھانے کے لیے کافی نہیں تھے۔

    اگرچہ بل کی حتمی منظوری کے عمل میں ابھی کئی ماہ باقی ہیں، لیکن سینیٹ میں اسے آگے بڑھانے میں ناکامی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے گہری سیاسی تقسیم اور محکمہ دفاع کی پالیسیوں و بجٹ پر اس کے ممکنہ اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

    ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے کہا کہ وہ اس بل کی حمایت سے پہلے چاہتے ہیں کہ انتظامیہ ایران کے بارے میں اپنی حکمتِ عملی واضح کرے اور کانگریس سے منظوری حاصل کرے۔

    ایک اور ڈیموکریٹ سینیٹر، ٹیمی ڈک ورتھ، نے بھی کہا کہ وہ اس وقت تک بل کی حمایت نہیں کریں گی جب تک ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے مزید فنڈنگ محدود کرنے سے متعلق ان کی ترمیم شامل نہیں کی جاتی۔

    ان کا کہنا تھا کہ مزید فوجی اخراجات کسی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بلکہ ایک طویل جنگ کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

  14. آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک ’دشمن‘ اپنی کارروائیاں بند نہیں کرتا: پاسداران انقلاب

    ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے خبر دی ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکی اہداف کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اردن میں واقع الازرق فضائی اڈے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت کے علاقے مینا عبداللہ میں واقع امریکی فوج کے لاجسٹکس مرکز پر کروز میزائل داغے ہیں۔

    ایرانی برآمدات رُکیں تو خطے کی توانائی رسد بھی متاثر ہو سکتی ہے: پاسدارانِ انقلاب

    پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی تیل اور گیس کی برآمدات کو روکنے کی کوشش کی گئی یا انھیں مسلسل معطل رکھا گیا تو وہ خطے کے دیگر ممالک کی برآمدات کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’اگر ایران اپنی توانائی کی برآمدات انجام نہیں دے سکتا تو دوسرے ممالک بھی محفوظ طریقے سے اپنی برآمدات جاری نہیں رکھ سکیں گے۔‘

    پاسدارانِ انقلاب کا یہ سخت بیان امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے اس اعلان کیے بعد سامنے آیا تھا جس میں امریکہ نے جنوبی ایرانی بندرگاہوں کے گرد بحری ناکہ بندی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    ’ایران کے خلاف کسی بھی معاشی یا عسکری دباؤ کا ’متناسب جواب‘ دیں گے‘

    پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی معاشی یا عسکری دباؤ کا ’متناسب جواب‘ دیں گے۔

    پاسدارانِ انقلاب نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ اپنی ’دشمنانہ کارروائیاں‘ بند نہیں کرتا۔

    دوسری جانب ایران کے ان دعووں کے جواب میں امریکہ، اردن یا کویت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

  15. سینٹکام کا ایران کے خلاف سات گھنٹوں پر محیط حالیہ حملوں کے اختتام کا اعلان

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کےموجودہ مرحلے کا اختتام ہو گیا ہے۔

    سینٹکام کے مطابق یہ کارروائیاں امریکی وقت کے مطابق رات 10 بجے مکمل ہوئیں، جس دوران آبنائے ہرمز اور ایران کے ساحلی علاقوں کے قریب واقع فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایرانی ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتوں اور ساحلی دفاعی نظام کو ہدف بنایا گیا۔ اس کارروائی میں ڈرونز، جنگی طیاروں اور بحری جنگی جہازوں کا استعمال کیا گیا۔

    سینٹکام کے مطابق یہ آپریشن ایران کے خلاف بحری اور ساحلی ناکہ بندی کی بحالی کے ساتھ کیا گیا اور سات گھنٹوں کے اندر مکمل ہوا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ’تجارتی جہازوں اور عملے کو ایران سے لاحق خطرات میں کمی لانا‘ تھا۔

  16. ایران کے شہر دہلوران میں منرل واٹر فیکٹری کو حملے کا نشانہ بنایا گیا: حکام

    ایران میں مقامی حکام نے خبر دی ہے کہ دہلوران شہر کے قریب منرل واٹر کی ایک فیکٹری کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق دہلوران کے گورنر نے بدھ کی صبح ایران میں خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا کہ ’دہلوران شہر کے ضلع موسیان میں ایک منرل واٹر بنانے والی فیکٹری کو دشمن کے تین میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔‘

    مقامی حکام کے مطابق حملے میں کوئی انسانی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم نقصان کی حد کا ابھی تک مکمل طور پر پتہ نہیں چل سکا۔

    یاد رہے کہ بدھ کی صبح سینٹکام نے ایران کے خلاف حملوں کی یک نئی لہر کا اعلان کیا اور جوابی کارروائی میں پاسداران انقلاب اور ایرانی فوج نے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا۔

  17. اگر ایران مذاکرات کی میز پر نہیں آتا تو ہم اگلے ہفتے اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ اگلے ہفتے ایران کے پاور پلانٹس پر حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔

    بدھ کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’امریکہ نے ایران پر معاہدہ کرنے کے لیے زور دیا تھا اور اس بات پر اصرار کیا تھا کہ وہ ایسے کسی معاہدے پر رضامند نہیں ہوں گے جس میں اس بات کی ضمانت نہ ہو کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے دو ہفتے کے فاصلے پر ہے اور اگر اس کی جوہری تنصیبات پر بمباری نہ کی جاتی تو اس کو روکنا مشکل تھا۔

    فاکس نیوز کے نمائندے ٹیری ینگ سیٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا زمینی کارروائی کا امکان ہے، تو اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں اس بارے میں بھی کچھ نہیں کہنا چاہتا، کبھی کبھی زمینی آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے لیے وہ زمینی کارروائی کریں گے۔‘

  18. ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکہ کی ایران کے جنوبی علاقوں پر نئے حملوں کے اعلان کے تقریباً ایک گھنٹے بعد پاسدارانِ انقلاب نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے منگل کی شب جاری ہونے والے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیک وقت میزائل اور ڈرون کارروائی کے دوران ’بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر دشمن کے بحری جہازوں اور طیاروں کے لیے اسلحہ اور پرزہ جات ذخیرہ کرنے والے کئی گودام تباہ کر دیے گئے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’اس کے علاوہ کویت میں علی السالم ایئر بیس پر اس مقام کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں دشمن کے ایم کیو-9 ڈرونز تعینات تھے۔ اس حملے کے کے نتیجے میں متعدد ڈرونز تباہ ہو گئے یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔‘

  19. امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ بحری ناکہ بندی نافذ کر دی: سینٹکام

    امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کا کہنا ہے کہ ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ لگا دی گئی ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں سینٹکام کا کہنا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بجے (جو کہ مشرقی امریکی وقت کے مطابق شام چار بجے بنتا ہے) ایران کی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی جانب آنے اور وہاں سے جانے والے بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ لگا دی گئی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحریہ کے 20 سے زیادہ جنگی جہاز اور سیکڑوں فوجی طیارے تعینات ہیں۔ امریکی افواج بدستور چوکس، مہلک اور کارروائی کے لیے تیار ہیں۔‘

    اس سے ایک گھنٹہ قبل جاری ایک اور بیان میں امریکی سینٹکام کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والی ایرانی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔

    ایرانی میڈیا نے خبر دی ہے کہ ملک کے جنوب میں واقع کئی علاقوں بشمول بندر عباس، سیریک اور اہواز میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے ہرمزگان کے گورنر کے حوالے سے بتایا ہے کہ بندر عباس شہر کے قریب ایک مقام کو امریکی میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تاہم اس سے تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے جبکہ سیریک شہر کو بھی ایک ’امریکی میزائل‘ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

  20. اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم بدھ کے روز آگے بڑھنے سے پہلے اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

    • اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں گذشتہ رات ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
    • ڈونلڈ ٹرمپ نے اب آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے نئے منصوبے سے متعلق کہا ہے کہ وہ گزرنے والے کارگو پر مجوزہ 20 فیصد فیس واپس لینے کے بدلے میں خلیجی ممالک کی جانب سے امریکہ میں سرمایہ کاری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
    • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان برادر اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘
    • اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کا جواب پہلے کے مقابلے میں ’کہیں زیادہ طاقتور‘ ہوگا۔‘
    • یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے ایئرلائنز کو بحرین، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود اور خلیجِ عمان کے اوپر سے گزرنے والی پروازوں سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ خطے میں ’غیر متوقع فوجی پیش رفت، میزائلوں، ڈرونز، جنگی طیاروں اور فضائی دفاعی نظام کے ممکنہ استعمال کے باعث پروازوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔‘
    • انڈیا کی سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدراس ہائیکورٹ کے اس حکم پر عمل درآمد روک دیا جس میں تمل ناڈو حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ریاست میں کہیں بھی گائے یا بچھڑے کے ذبح کرنے کو یقینی طور پر روکے۔
    • ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرین کے حملے میں ایک رینجرز اہلکار ہلاک ہوا ہے۔