آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ناکہ بندیوں کی جنگ: ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں ’بارودی سرنگیں بچھانے والی‘ تمام کشتیاں تباہ کرنے کا حکم

صدر ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں ’بارودی سرنگیں بچھانے والی‘ تمام کشتیوں کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد ٹول سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔

خلاصہ

  • ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر 'وقت کی کوئی قید نہیں': ٹرمپ
  • آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے تین جہازوں پر حملے کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان سی فیلن ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدہ
  • خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی 'اصل جڑ' امریکی اور اسرائیلی 'جارحیت' ہے: عباس عراقچی
  • آبنائے ہرمز میں بچھی بارودی سرنگیں صاف کرنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں: پینٹاگون
  • بلوچستان میں معدنیات کی کمپنی نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر حملہ

لائیو کوریج

  1. امریکہ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی: تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    پینٹاگون کی جانب سے یہ اعلان کیے جانے کے بعد کہ اس کی افواج نے بحرِ ہند میں ایک اور جہاز کو روکا ہے، ایران کی بحری ناکہ بندی سے متعلق تازہ ترین تفصیلات یہ ہیں:

    • امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع ہونے کے بعد سے اس نے 31 جہازوں کو واپس مڑنے یا بندرگاہ لوٹنے کا حکم دیا ہے
    • اس نے مزید بتایا کہ اس کارروائی میں 10 ہزار فوجی اہلکار، 100 سے زائد طیارے اور 17 جنگی بحری جہاز شامل ہیں
    • اتوار کے روز امریکہ نے اعلان کیا کہ اس نے ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز توسکا کو روک لیا ہے، جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ رکنے کی وارننگ پر عمل کرنے میں ناکام رہا۔ ایران نے اس کارروائی کو ’مسلح قزاقی‘ قرار دیا
    • منگل کے روز پینٹاگون نے کہا کہ امریکی افواج نے انڈو پیسیفک کمانڈ کے علاقے میں ایک ’پابندیوں کی زد میں آنے والے‘ آئل ٹینکر پر سوار ہو کر کارروائی کی، جس کے بارے میں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کو مادی معاونت فراہم کر رہا تھا
    • بدھ کو گفتگو کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر اس ناکہ بندی سے ’مطمئن‘ ہیں، اور ان کے بقول یہ ایران کی معیشت کو ’مکمل طور پر جکڑ‘ رہی ہے
    • کل سینٹ کام نے میڈیا کی ان رپورٹس کی بھی تردید کی جن میں کہا گیا تھا کہ ایران سے منسلک کئی جہاز ناکہ بندی سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ہیں
  2. ٹرمپ کا امریکی بحریہ کو آبنائے ہرمز میں ’بارودی سرنگیں بچھانے والی‘ کسی بھی کشتی کو ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کرنے کا حکم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کے شبہ میں کسی بھی چھوٹی کشتی کو ’نشانہ بنا کر تباہ‘ کر دیا جائے، اور اس حوالے سے کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہ برتی جائے۔

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 159 ایرانی بحری جہاز ’سب سمندر کی تہہ میں پہنچ چکے ہیں‘ اور کہا کہ امریکی مائن سویپنگ کارروائیاں اس وقت آبنائے ہرمز میں جاری ہیں۔

    ٹرمپ کے مطابق انھوں نے ان کارروائیوں کو موجودہ سطح سے تین گنا بڑھانے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

  3. بریکنگ, امریکی افواج کی بحرِ ہند میں ایران سے تیل لیجانے والے جہاز پر سوار ہو کر تلاشی

    امریکی افواج نے ایک پابندیوں کی زد میں آنے والے جہاز، جو ایران سے تیل لے جا رہا تھا، کو روک لیا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے ’امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایران سے تیل لے جانے والے پابندیوں کے شکار جہاز ایم/ٹی مجیسٹک، جو کسی ریاست کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہے، کو روکا اور اس پر سوار ہو کر تلاشی لی۔‘

    محمکے کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے جہاز پر سمندری مداخلت اور حقِ تفتیش کے تحت سوار ہو کر کارروائی کی۔

    محکمے کا کہنا ہے کہ امریکی فوج ان جہازوں کو روکنے کا عمل جاری رکھے گی جن پر ’ایران کو معاونت فراہم کرنے‘ کا شبہ ہو۔

    سمندری مداخلت سے مراد کسی بحریہ کی جانب سے ان جہازوں کو روکنا یا ان کا معائنہ کرنا ہے جن پر دشمنی یا قانون کی خلاف ورزی کا شبہ ہو۔

    جب سے امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کی ہے، وہ درجنوں جہازوں کو روک چکا ہے۔ یہ جہاز ایران کے قریب نہیں بلکہ بحرِ ہند میں نسبتاً دور روکے جا رہے ہیں۔

  4. پاسدارانِ انقلاب کی تجارتی جہازوں پر قبضے کی ویڈیو کیا ظاہر کرتی ہے؟, پال براؤن

    بی بی سی ویریفائی نے ایک ویڈیو کی جانچ کی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (پاسدارانِ انقلاب) کو کل آبنائے ہرمز میں دو مال بردار جہازوں کے قریب آتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور یہ بظاہر اس وقت فلمائی گئی جب ان پر ابتدائی حملہ ہو چکا تھا۔

    دو منٹ کی یہ ویڈیو چھوٹی کشتیوں کو دکھاتی ہے جن میں مسلح افراد سوار ہیں، جو ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونڈاس کی طرف بڑھ رہے ہیں، دونوں جہازوں نے کل صبح ان پر فائرنگ کی اطلاع دی تھی۔

    اگرچہ مال بردار جہاز واضح طور پر شناخت کیے جا سکتے ہیں، فضائی مناظر بظاہر تقریباً 15:00 بی ایس ٹی (مقامی وقت 17:00) پر فلمائے گئے، کیونکہ ان کی سفر کی سمت اس وقت کے جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا سے مطابقت رکھتی ہے۔ یہ ابتدائی طور پر رپورٹ کیے گئے حملے کے کئی گھنٹے بعد کا وقت ہے اور اس کے علاوہ بھی ایسے شواہد موجود ہیں کہ فوٹیج کے کچھ حصے کیمرے کے لیے ترتیب دیے گئے ہو سکتے ہیں۔

    مثال کے طور پر، وہ ہیچ جس کے ذریعے یہ افراد ایم ایس سی فرانسسکا پر سوار ہوتے ہیں، ایرانی کشتی کے پہنچنے سے پہلے ہی کھلا ہوا ہوتا ہے۔ ایم ایس سی فرانسسکا کے اندر فلمایا گیا ایک اور کلپ بھی ان کی آمد کو دکھاتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی ریکارڈنگ کے لیے پہلے ہی کوئی شخص جہاز پر موجود تھا۔

    ایک مختلف منظر میں ایک کشتی کو یونان کی ملکیت والے ایپامینونڈاس کے پچھلے حصے کی طرف بڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ جہاز کے اندرونی حصے کی بعد ازاں سامنے آنے والی فوٹیج اسی پر فلمائی گئی تھی یا ایم ایس سی فرانسسکا پر۔

    یونانی حکام نے ایپامینونڈاس کی ضبطی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا کپتان بدستور کنٹرول میں ہے۔

    جہازوں سے متعلق ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ایپامینونڈاس نے علاقہ چھوڑ کر شمال مغرب کی سمت قشم جزیرے کی طرف سفر شروع کیا، جس کے بعد اس کے ٹرانسپونڈرز بند کر دیے گئے۔ ایم ایس سی فرانسسکا کے ٹرانسپونڈرز بھی کل بند کر دیے گئے تھے، جبکہ نشریاتی معلومات کے مطابق جہاز حملے کے علاقے میں کئی گھنٹے تک موجود رہا۔

  5. ’ایرانی فوجیوں کے تجارتی بحری جہاز پر چھاپے کے مناظر‘

    ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ایسی فوٹیج جاری کی ہے جس میں ان کے دعوے کے مطابق ایرانی فوجیوں کو تجارتی بحری جہازوں پر چھاپہ مارتے دیکھا جا سکتا ہے۔

  6. اس تنازع میں امریکہ کے برعکس ایرانیوں کے پاس ’زیادہ وقت‘ ہے

    سابق امریکی سفارتکار کا کہنا اس تنازع میں ایرانی زیادہ طویل وقت تک انتظار کر سکتے ہیں۔

    امریکہ کے سابق سفارتکار ڈیوڈ سیٹر فیلڈ، جنھوں نے بائیڈن انتظامیہ کو مشورہ دیا، کہتے ہیں کہ امریکہ اور ایران کی جنگ کا نتیجہ اس بات پر منحصر ہے کہ ’کس کے پاس وقت پہلے ختم ہوتا ہے‘۔

    انھوں نے یہ بات بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام میں بتائی۔

    وہ کہتے ہیں، ’میرا اندازہ ہے کہ ایرانیوں کے پاس زیادہ وقت ہے‘، اور خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ کو ’کشیدگی میں اضافے کے جال‘ میں پھنسنے کا خطرہ لاحق ہے۔

    سیٹر فیلڈ کے مطابق، اگر امریکہ ایران کے خلاف کشیدگی بڑھاتا ہے تو خلیجی ریاستوں کے خلاف ردِعمل کی ایران کی صلاحیت ’اس وقت پہنچنے والے نقصان کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا امریکہ ایران کو پہنچا سکتا ہے‘۔

  7. ایران اور امریکہ دونوں اپنی اپنی جگہ اڑے ہوئے ہیں, لیز ڈوسیٹ - چیف انٹرنیشنل نامہ نگار، تہران

    سٹریٹیجک آبنائے ہرمز پر دو مخالف ناکہ بندیاں اب مذاکرات میں پیش رفت کو روک رہی ہیں۔

    نہ امریکہ اور نہ ہی ایران دونوں میں سےکوئی بھی پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار نہیں دکھا رہے۔

    امریکہ کا خیال ہے کہ اس بندش کی سنگین معاشی قیمت تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور ان کے معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کرے گی۔

    ایران یقینی طور پر بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔

    تہران میں لوگ ہمیں ملازمتوں کے ختم ہونے اور قیمتوں میں اضافے کے بارے میں بتاتے ہیں۔۔۔ وہ آنے والے وقت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

    لیکن ایران کی قیادت ہتھیار نہیں ڈالے گی۔ یہ اس نظام کی فطرت میں نہیں ہے۔

    ان کا یقین ہے کہ وہ اس تکلیف کو برداشت کر سکتے ہیں، اور یہ کہ امریکہ پہلے جھک جائے گا۔ اس تعطل کو توڑنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں، جن میں مرکزی ثالث پاکستان بھی شامل ہے۔

    کل، ایران کے مرکزی مذاکرات کار باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اس کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، نیز ٹرمپ کی جانب سے ایران پر بمباری کی بار بار دی جانے والی دھمکیاں، جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں اور انھوں نے انھیں ’حقیقی مذاکرات‘ میں بنیادی رکاوٹیں قرار دیا۔

    نازک جنگ بندی کی شرائط کے تحت ایران پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ اس سمندری راہداری کو ’مکمل طور پر کھولا‘ جائے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ وہ ایسا صرف اپنی شرائط پر کرنے کے لیے ہی تیار ہوگا۔

  8. ہرمز ٹول ٹیکس سے پہلی آمدن مرکزی بینک میں جمع کرا دی گئی: ایران

    ایران کی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمیدرضا حاجی بابائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر عائد ٹول سے حاصل ہونے والی پہلی آمدنی مرکزی بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔

    تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں کہ یہ آمدنی کس طرح وصول کی گئی یا کس نے ادا کی، اور بی بی سی آزادانہ طور پر ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    موجودہ جنگ بندی سے قبل تہران نے کہا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو صرف ان ممالک تک محدود کر دیا ہے جنہیں وہ ’دوست‘ قرار دیتا ہے، اور اس دوران اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنے کی بات بھی کی جا رہی تھی۔

    تاہم اس وقت یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ ایران گزرنے کے لیے کتنا ٹول وصول کر رہا ہے یا آیا وہ واقعی کوئی فیس لے بھی رہا ہے یا نہیں۔

    مثال کے طور پر، مارچ کے آخر میں انڈیا میں ایران کے سفارت خانے نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی کہ تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے دو ملین ڈالر (15 لاکھ پاؤنڈ) وصول کر رہا ہے۔

    آج ایران کے ایک اور سینئر رکنِ پارلیمنٹ علی رضا سلیمی نے تسنیم سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میں نے قابل اعتماد ذرائع سے سنا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہر جہاز سے وصول کی جانے والی رقم اور فیس کی مقدار کارگو کی نوعیت، مقدار اور خطرے کی سطح کے مطابق مختلف ہوتی ہے، اور ایران خود طے کرتا ہے کہ یہ فیس کیسے اور کس حد تک وصول کی جائے۔ ہم قواعد طے کرتے ہیں۔‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی ان جہازوں کو دھمکی دے چکے ہیں جو آبنائے ہرمز استعمال کرنے کے لیے ایران کو ٹول ادا کرتے ہیں۔

  9. ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندیوں اور مذاکرات کی ٹائم لائن پر ایک نظر

    8 اپریل: ثالث کے طور پر کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کرتا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ یہ معاہدہ اس شرط پر طے پایا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ لبنان بھی اس میں شامل ہے۔ ایران اس پر اتفاق کرتا ہے، لیکن امریکہ اور اسرائیل اس کی تردید کرتے ہیں۔

    9 اپریل: ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ لبنان میں بھی جنگ بندی ہونی چاہیے، اور خبردار کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے اجازت کے بغیر گزرنے والے جہازوں کو ’نشانہ بنا کر تباہ کر دیا جائے گا‘۔

    11 اپریل: نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت امریکہ اور ایران کے اعلیٰ حکام پاکستان میں ملاقات کرتے ہیں۔ 21 گھنٹے کی بات چیت کے بعد بھی دونوں فریق ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر رہتے ہیں۔

    12 اپریل: ٹرمپ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہیں۔

    17 اپریل: اسرائیل اور لبنان کے درمیان عارضی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ایران مختصر طور پر آبنائے ہرمز کھول دیتا ہے۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد وہ ایک بار پھر اس بحری راستے کو بند کر دیتا ہے، اور کہتا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا یہ بند ہی رہے گا۔

    19 اپریل: ٹرمپ کہتے ہیں کہ ان کے نمائندے بات چیت کے لیے پاکستان واپس آئیں گے۔ تاہم ایسا نہیں ہوتا، کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس نے ابھی شرکت کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

    21 اپریل: ٹرمپ غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی میں توسیع پر رضامند ہو جاتے ہیں تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔

  10. ایران میں اصل طاقت کس کے پاس ہے؟, غنچہ حبیب زادہ، بی بی سی فارسی

    یہ ایران کے موجودہ حکومتی نظام کی ساخت اور ملک میں طاقت کہاں مرکوز ہے، اس پر ایک نظر ہے۔

    ایران کے سپریم لیڈر، مجتبیٰ خامنہ‌ای، کے بارے میں معلوم ہے کہ تمام بڑے معاملات میں حتمی فیصلہ انھی کا ہوتا ہے۔ تاہم مارچ کے اوائل میں تقرری کے بعد سے وہ عوامی سطح پر نہ تو نظر آئے ہیں اور نہ ہی حالیہ ویڈیوز یا تصاویر میں دکھائی دیے ہیں۔

    ایک سینئر ایرانی حکومتی اہلکار نے کہا کہ مذاکرات کار خامنہ‌ای کی ’ہدایت‘ کے تحت کام کرتے ہیں۔ انھوں نے مذاکرات کا براہِ راست ذکر تو نہیں کیا، تاہم ان سے منسوب حالیہ پیغامات میں امریکہ پر تنقید کی گئی ہے۔

    مذاکراتی ٹیم، پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزارتِ خارجہ کے اہلکار، جیسے عباس عراقچی، حالیہ ہفتوں میں زیادہ نمایاں نظر آئے ہیں۔

    قالیباف کے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ آئی آر جی سی کا اثر و رسوخ ایک روایتی فوجی کردار سے کہیں آگے تک ہے، خاص طور پر جنگ کے زمانے میں۔

    اگرچہ آئی آر جی سی نے کئی سینئر فوجی اہلکاروں کو کھو دیا ہے، لیکن یہ اب بھی ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی قیادت والی حکومت کے متوازی ایک ڈھانچے کے طور پر کام کرتی ہے۔ صدر پزشکیان بیانات جاری کر رہے ہیں، مگر یہ سوال موجود ہے کہ ان کے پاس درحقیقت کتنی طاقت ہے۔

  11. بلوچستان کے ضلع چاغی میں مائننگ کمپنی کی سائٹ پر حملہ، نو افراد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایک مائننگ کمپنی کے سائٹ پر نامعلوم افراد کے حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    سرکاری حکام نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں دو سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔

    بدھ کی شام ضلع چاغی کے علاقے داریگوان میں ہونے والے اس حملے کی کمپنی کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی تاہم اس واقعے میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔

    کمپنی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو محفوظ بنا لیا تھا۔

    حملہ کس کمپنی کی سائٹ پر ہوا؟

    بدھ کے روز حملہ ضلع چاغی میں نیشنل ریسورسز (پرائیوٹ) لمیٹڈ کی سائٹ پر کیا گیا۔

    کمپنی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، 22 اپریل 2026 کو تقریباً شام 5 بج کر 45 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی میں داریگوان کے علاقے میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔

    بیان کے مطابق فرنٹیئر کور سمیت سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو محفوظ بنا لیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اہلکاروں اور تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

    نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور مزید معلومات دستیاب ہونے پر تازہ صورتِ حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملازمین اور آپریشنز کی حفاظت اور سلامتی کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔

    این آر ایل کوئٹہ میں رجسٹرڈ ایک نجی پاکستانی کمپنی ہے۔ یہ فاطمہ فرٹیلائزر، لبرٹی ملز اور لکی سیمنٹ کے درمیان قائم ایک جوائنٹ وینچر کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔

    کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق این آر ایل کے پاس بلوچستان میں 500 مربع کلومیٹر میں سونے اور تانبے کی تلاش کا لائسنس ہے۔

    اس حملے کے بارے میں سرکاری حکام کا کیا کہنا ہے؟

    جب اس حملے کے حوالے سے کوئٹہ میں بلوچستان کے سرکاری حکام سے رابطہ کیا گیا تو ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں مزدوروں اور کارکنوں کے علاوہ دو پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ مزدوروں کی ہلاکت حملے کے دوران ایک ٹینک کے پھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔

    ہلاک ہونے افراد کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال دالبندین منتقل کی گئیں۔

    ہسپتال کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حملے میں دو افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔

    ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ہلاک ہونے والوں میں ترکی شہری بھی شامل ہے جو وہاں ڈرلنگ کا کام کرتا تھا۔

    تاہم سرکاری حکام نے تاحال اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں نے سائیٹ پر کمپنی کی مشنری کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ جب سینیئر سرکاری اہلکار سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ تاحال ان کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات نہیں۔

    داریگوان ضلع چاغی میں کہاں واقع ہے؟

    ضلع چاغی بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے مغرب میں اندازاً ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ دالبندین سے اس کا فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر ہے۔

    ضلع چاغی نہ صرف معدنی وسائل سے مالا مال ہے بلکہ ایک سرحدی ضلع ہونے کے باعث سٹریٹیجیک اہمیت کا بھی حامل علاقہ ہے۔ اس ضلع کی سرحدیں شمال میں افغانستان جبکہ مغرب میں ایران سے ملتی ہیں۔

    بلوچستان کے دو دیگر بڑے معدنی منصوبے ریکوڈک اور سائندک بھی اسی ضلع میں واقع ہیں جبکہ معدنیات کے کئی اقسام پائے جانے کی وجہ سے اس ضلع کو منرل میوزیم بھی کہا جاتا ہے۔

    بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے اس ضلع میں بھی سنگین بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم شورش سے زیادہ متائثر ہونے والے علاقوں کے مقابلے میں یہاں ایسے حملوں کی تعداد کم رہی ہے۔

    گذشتہ سال ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں سکیورٹی فورسز کے ہیڈکوارٹر پر ایک بڑا حملہ کیا گیا تھا۔

    دریگوران میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں ضلع چاغی میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کالعدم بی ایل اے اور کالعدم بی ایل ایف کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔

  12. ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر ’وقت کی کوئی قید نہیں‘: ٹرمپ

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میزبان مارٹھا میکالَم کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے معاملے پر ’وقت کی کوئی قید نہیں‘۔

    مارٹھا میکالَم کے مطابق صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں انھیں بتایا کہ وہ تنازع کے خاتمے کے لیے ’کسی عجلت میں نہیں‘ اور وہ ’ایک بہترین معاہدہ‘ چاہتے ہیں۔

    اس سے قبل بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ ’جنگ بندی کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔‘

    لیویٹ نے جنگ بندی میں تین سے پانچ دن کی توسیع سے متعلق خبروں کو ’غلط‘ قرار دیا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی وہ بحری ناکہ بندی سے ’مطمئن‘ ہیں اور ’سمجھتے ہیں کہ ایران اس وقت بہت کمزور پوزیشن میں ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ایرانی قیادت کی جانب سے مختلف نوعیت کے بیانات سامنے آ رہے ہیں،‘ جنھیں انھوں نے ’عوامی سطح پر بے معنی باتیں‘ قرار دیا۔

    ’ہم ایک متفقہ ردِعمل اور جواب کے منتظر ہیں۔‘

  13. آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے تین جہازوں پر حملے کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کی جانب سے تین جہازوں پر حملے کی اطلاعات کے بعد جمعرات کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کے پیمانے کے طور پر استعمال ہونے والا برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی منڈی میں فروخت ہونے والا تیل 94 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا ہے۔

    منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ توسیع کا مقصد ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے مزید وقت فراہم کرنا ہے۔

  14. خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی ’اصل جڑ‘ امریکی اور اسرائیلی ’جارحیت‘ ہے: عباس عراقچی

    ایران کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خلیج اور آبنائے ہرمز میں عدمِ تحفظ کی ’اصل جڑ‘ امریکہ اور اسرائیل کی ’جارحیت‘ ہے۔

    ایرانی حکومت کی جانب سے ایکس پر جاری بیانات میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی نے تہران میں جنوبی کوریا کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کی۔

    اس ملاقات کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ نے دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ان حملوں کی مذمت میں واضح اور سخت مؤقف اختیار کریں‘۔

    بیان کے مطابق عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کہ ایران نے اپنی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت اقدامات کیے ہیں، اور کسی بھی ممکنہ نتائج کی ’ذمے داری جارح فریقوں پر عائد ہوتی ہے‘۔

    یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کا کہنا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں دو جہاز ’تحویل میں لے لیے‘ ہیں، جبکہ ایک تیسرے مال بردار جہاز پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔

  15. پاکستانی وزیرِ داخلہ کی اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور سے ملاقات: ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت کی امید ہے، محسن نقوی

    پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ ایران کی جانب سے مثبت پیش رفت کی امید ہے۔

    جمعرات کے روز ہونے والی ملاقات کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کے حوالے سے سفارتی کاوشوں پر بھی بات چیت ہوئی۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ بندی میں توسیع کے اقدام کو سراہا۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع خوش آئند ہے۔ انھوں نے اسے کشیدگی میں کمی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔

    وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے بھی مثبت پیش رفت کی امید ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر مسئلے کے حل کے لیے ہر سطح پر بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    ’امید ہے کہ فریقین سفارتی اور پر امن حل کو موقع دیں گے۔‘

    نیٹلی بیکر نے خطے میں قیام امن اور تنازع کے حل کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔

  16. ایران میں جاری جنگ نے یورپ کو ’کمزور‘ کرنا شروع کر دیا ہے: ترک صدر اردوغان

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے جرمنی کے صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کہا ہے کہ ایران میں جاری نے جنگ یورپ کو بھی ’کمزور‘ کرنا شروع کر دیا ہے۔

    اردوان کے دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بدھ کو فون پر بات چیت ہوئی، جس میں باہمی تعلقات کے علاوہ ایران اور یوکرین میں جاری جنگوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر اردوغان نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہمارے خطے میں جنگ نے یورپ کو بھی کمزور کرنا شروع کر دیا ہے، اور اگر اس رجحان کا تدارک امن پر مبنی حکمتِ عملی کے ذریعے نہ کیا گیا تو اس تنازع سے ہونے والا نقصان کہیں زیادہ سنگین ہو جائے گا۔‘

  17. پاسداران انقلاب کا دو بحری جہازوں کو تحویل لینے کا دعویٰ: ’دونوں جہاز چوری چھپے آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے‘

    ایسی اطلاعات ہیں کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تین جہازوں پر حملہ کیا ہے اور ان میں سے دو کو تحویل میں لے لیا ہے۔

    ایران نے یہ اقدام امریکہ کی جانب سے خلیج میں بحری ناکہ بندی کے تحت ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز کو تحویل میں لیے جانے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ تہران نے اس پر جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

    اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ توسکا نامی جہاز کو امریکی بحریہ نے اس وقت تحویل میں لیا جب وہ رکنے کے ہدایات پر عمل میں ناکام رہا۔

    ایران کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور وہ اس ’مسلح بحری قزاقی‘ کے خلاف جلد جوابی کارروائی کرے گا۔

    بدھ کے روز پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نقل و حرکت کی ’نگرانی‘ کر رہے ہیں اور ’خلاف ورزی کرنے والوں‘ کے خلاف ’سخت‘ کارروائی کا عندیہ دیا۔

    جہازوں ایم ایس سی فرانسسکا اور ایپامینونداس کو تحویل میں لینے کے بعد پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا کہنا تھا کہ یہ دونوں جہاز ’بنا اجازت‘ چل ہوئے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب کا الزام ہے کہ یہ دونوں جہاز چوری چھپے آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اور انھوں نے نیویگیشن سسٹمز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔

    بی بی سی ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

  18. ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا شہر میں پیٹرول کی قلت کی خبروں کا نوٹس

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی قلت کی خبروں پر ردِ عمل دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا ہے کہ شہر بھر میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کا سٹاک وافر مقدار میں موجود ہے۔

    ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیوی ٹریفک کی بندش کی وجہ سے چند پیٹرول پمپس کو وقتی پریشانی کا سامنا رپورٹ ہوا تاہم پیٹرول ٹینکرز کے ذریعے ایسے تمام پمپس پر فیول کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے علاقوں میں پمپس پر سٹاک کی دستیابی پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بھی شہر بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی اور دستیابی کی مانیٹرنگ جاری ہے۔

    یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات کے پیشِ نظر شہر میں ہیوی ٹریفک کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

  19. بلوچستان میں معدنیات کی کمپنی نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر حملہ

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں معدنیات کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی نیشنل ریسورسز (پرائیوٹ) لمیٹڈ (این آر ایل) کی ایک سائٹ پر بدھ کے روز نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا ہے۔

    کمپنی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، 22 اپریل 2026 کو تقریباً شام 5 بج کر 45 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی میں داریگوان کے علاقے میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی سائٹ پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔

    بیان کے مطابق فرنٹیئر کور سمیت سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو محفوظ بنا لیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اہلکاروں اور تنصیبات کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

    نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کا کہنا ہے کہ کمپنی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور مزید معلومات دستیاب ہونے پر تازہ صورتِ حال سے آگاہ کیا جائے گا۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملازمین اور آپریشنز کی حفاظت اور سلامتی کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔

    این آر ایل کوئٹہ میں رجسٹرڈ ایک نجی پاکستانی کمپنی ہے۔ یہ فاطمہ فرٹیلائزر، لبرٹی ملز اور لکی سیمنٹ کے درمیان قائم ایک جوائنٹ وینچر کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔

    کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق این آر ایل کے پاس بلوچستان میں 500 مربع کلومیٹر میں سونے اور تانبے کی تلاش کا لائسنس ہے۔

  20. آبنائے ہرمز میں بچھی بارودی سرنگیں صاف کرنے میں چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں، پینٹاگون

    پینٹاگون کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے عمل میں چھ ماہ تک لگ سکتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ یہ کارروائی امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد ہی شروع کی جائے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بارودی سرنگیں ایران کی جانب سے بچھائی گئی ہیں۔

    بی بی سی عربی نے واشنگٹن پوسٹ کی ایک خبر کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ بات محکمۂ دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کے روز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ارکان کو بند کمرے میں دی گئی بریفنگ کے دوران کہی۔ اس بریفنگ سے آگاہ تین عہدیداروں نے اس کی تصدیق کی ہے۔

    ان میں سے دو عہدیداروں نے بتایا کہ اس ٹائم لائن پر ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں کے ارکان نے مایوسی کا اظہار کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی امن معاہدے کے بعد بھی ایندھن اور تیل کی قیمتیں بلند رہ سکتی ہیں۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تینوں عہدیداروں نے بتایا کہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر آبنائے ہرمز کے آس پاس کے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

    ایک اعلیٰ عہدیدار نے کانگریس کو بتایا کہ ان میں سے بعض بارودی سرنگیں جی پی ایس ٹیکنالوجی کے ذریعے دور سے نصب کی گئیں، جس کے باعث تنصیب کے دوران امریکی افواج کے لیے ان کی نشاندہی کرنا مشکل ہو گیا۔

    مزید یہ کہ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ دیگر بارودی سرنگیں ایرانی افواج نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے بھی بچھائی ہیں۔