آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مکسڈ مارشل آرٹس کی پاکستانی فاتح منیشا: ’ہمارا بھائی فائٹر تھا، اس کی خواہش تھی کہ ہم بھی فائٹر بنیں‘
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
افریقہ کے ملک انگولا میں ’آئی ایم ایم ایف ایف‘ کے فائنل تک پاکستان کی منیشا علی کی رسائی کو ٹورنامنٹ کا بڑا اپ سیٹ قرار دیا جا رہا تھا اور کم لوگوں کو توقع تھی کہ وہ دو مرتبہ کی عالمی چیمپیئن لیونیلا ازابیل بلائیے کے سامنے کچھ زیادہ مزاحمت کر پائیں گی۔
انگولا ہی سے تعلق رکھنے والی عالمی چیمپیئن لیونیلا ازابیل بلائیے تجربہ کار ہونے کے ساتھ ساتھ منیشا علی سے قد میں بھی لمبی تھی۔ فائنل کا مقابلہ شروع ہوا تو توقع کے مطابق تجربہ کار لیونیلا ازابیل نے منیشا پر تابر توڑ حملے کیے اور اُن کے کئی طاقتور پنچ منیشا کو لگے بھی۔
پہلا راونڈ ختم ہوا تو لیونیلا ازابیل کا پلڑا بھاری تھا اور دوسرے راؤنڈ کی ابتدا میں بھی صورتحال لگ بھگ کچھ ایسی ہی رہی۔ دوسرے راونڈ کے اختتام میں محض 30 سیکنڈ باقی تھے اور پے در پے حملوں کے بعد تھکن کا شکار لیونیلا بدستور منیشا پر مکوں کی بارش کر رہی تھیں۔
بظاہر لیونیلا مقابلہ جلد ختم کرنے کی کوشش میں تھیں مگر شاید انھیں اندازہ نہیں تھا کہ چند ہی سیکنڈ بعد مقابلے کا غیرمتوقع انجام ہونے والا ہے۔
منیشا نے اسی موقع پر حریف کی ایک غلط حرکت کا فائدہ اٹھایا، انھیں ’سٹینڈنگ گیلوٹین‘ میں جکڑا اور اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
سٹینڈنگ گیلوٹین اس کھیل میں ایک خطرناک داؤ ہوتا ہے جس میں فائٹر اپنے حریف کے سر اور گردن کو اپنے بازوؤں کے حصار میں جکڑ لیتا ہے جس کے باعث خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔
چند سیکنڈ تو لیونیلا اس داؤ سے نکلنے کی کوشش کی مگر منیشیا کی گرفت مضبوط ثابت ہوئی اور جلد ہی وہ بے بس ہو گئیں تو ایمپائر نے منیشا کی جیت کا اعلان کر دیا۔
یوں منیشا علی فاتح ٹھہریں، جس کی کوئی بھی توقع نہیں کر رہا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی منیشا علی نے اس فتح کے ساتھ پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیت لیا۔
فتح کے فوراً بعد منیشا نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ گئیں۔ تماشائیوں میں موجود اُن کی جڑواں بہن ملیحہ علی بھی انھیں پکار رہی تھیں۔
یہ ورلڈ کپ دنیا کی 15 ٹاپ رینکنگ ٹیموں کی شرکت کے ساتھ ہوا، جس میں امیچر مکسڈ مارشل آرٹس کے نمایاں فائٹرز شریک تھے۔
’کوچ پلٹ کر وار کرنے کو کہہ رہے تھے لیکن میں بس اُس کی غلطی کی تلاش میں تھی‘
منیشا کا تعلق گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ سے ہے اور وہ لاہور کے بریو جم میں تربیت حاصل کرتی ہیں۔ منیشا کی جڑاوں بہن ملیحہ بھی ایتھلیٹ ہیں۔
منیشا بتاتی ہیں کہ جب فائیٹ کا آغاز ہوا تو لیونیلا نے اُن پر تابڑ توڑ حملے کیے اور اُن کے مطابق اِس دوران انھیں لگ رہا تھا کہ لیونیلا انھیں سانس لینے اور سنبھلنے کا موقع دینے کو تیار نہیں تھیں۔
’لیونیلا کا مجھے لگا ہوا ایک پنچ ابھی بھی میری آنکھ میں تکلیف کر رہا ہے، اور میری کی آنکھ نہ صرف سوجی ہوئی ہے بلکہ پنچ کی شدت سے کالی بھی ہو چکی ہے۔‘
اپنی سٹریٹجی سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دوسرا راؤنڈ شروع ہوا تو پھر لیونیلا نے تابڑ توڑ حملے کیے مگر ’اب میری حکمت عملی بدل چکی تھی۔ میرے ساتھی اور میرے کوچ مجھے سنبھلنے اور پلٹ کر وار کرنے کا کہہ رہے تھے۔‘
’میں صحیح پوزیشن تلاش کر رہی تھی۔ آنکھ میں تکلیف کے باوجود میں پورے حواس میں تھی اور ابھی دوسرا راونڈ ختم ہونے میں چند سیکنڈ باقی تھے جب میرے لیے موقع بنا کہ اپنی حریف کو ناک آؤٹ کر دوں، میں بس اُس کی غلطی کی تلاش میں تھی۔ ایسے میں لیونیا سے غلطی ہوئی جس کا میں نے فائدہ اٹھایا اور اسے سٹینڈنگ گیلوٹین میں جکڑ لیا۔‘
منیشا کے مطابق ان کی مد مقابل حریف سات، آٹھ سیکنڈ ہی میں بے بس ہو گئیں اور پھر ایمپائر نے میری فتح کا اعلان کر دیا۔
’فتح میرے بھائی کے نام‘
منیشا کا کہنا ہے کہ مقابلے کے دوران اُن کے ذہن میں اپنے بھائی شہزاد کی تصویر آ رہی تھی جس نے انھیں مارشل آرٹ کی ابتدائی ٹریننگ دی تھی۔ منیشا نے بتایا کہ شہزاد عطا آباد جھیل کے واقعے میں لوگوں کو مدد فراہم کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔
’جب میری فتح کا اعلان ہوا تو ایسے لگا کہ میں نے اپنے بھائی کے خوابوں کی تعبیر پا لی ہے۔ ہمارا بھائی خود بھی فائٹر تھا اور وہ ہمیں خود فائیٹ سکھاتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ ہم بھی فائٹر بنیں اور اس کے لیے وہ بہت محنت کرتا تھا۔ مگر زندگی نے اس کو مہلت نہ دی۔ جب میری فتح کا اعلان ہوا تو اس وقت مجھے لگا کہ آج میرا بھائی بہت خوش ہو گا۔‘
منیشا کے مطابق انھوں نے اور اُن کی بہن ملیحہ (جو خود بھی ایتھلیٹ ہیں) نے ابتدائی تعلیم اور بیچلرز کی ڈگری ہنزہ ہی سے حاصل کی تھی۔ ’اس کے بعد ہم دونوں بہنیں لاہور منتقل ہوئیں اور لاہور میں ہمیں تربیت کے بہتر مواقع دستیاب ہوئے تھے۔ ہمارے والد سرکاری ملازم ہیں جبکہ ہماری والدہ ہاؤس وائف ہیں۔
’ہمیں اس سارے سفر میں اپنے والدین اور خاندان کی طرف سے بھرپور سپورٹ ملی۔ معاشرے کی جانب سے تھوڑا بہت ہوا مگر وہ ہم لوگوں نے نظر انداز کر دیا، اگر والدین ساتھ ہوں تو باقی لوگوں کے کہے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔‘
انھوں نے کہا کہ ہمارے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی مشکلات تھیں۔ ’ہماری خوراک پوری نہیں ہوتی تھی مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح ہم نے اس کو جاری رکھا اور آج ہم نے پاکستان کا نام روشن کیا اور اپنی عالمی شناخت بنائی ہے۔‘
منیشا کی اگلی منزل پاکستان اوپن ہے، جس کے بعد وہ یکم نومبر سے جارجیا میں شروع ہونے والی آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ میں عالمی ٹائٹل کے لیے مقابلہ کریں گی۔ اُن کا ہدف آئی ایم ایم اے ایف کی عالمی چیمپئن بننے کے ساتھ پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر بن کر یو ایف سی تک پہنچنا بھی ہے۔
منیشا کے مطابق انھوں نے مارشل آرٹس کا سفر کم عمری میں شروع کیا اور کئی برس تک مختلف کھیلوں میں مقابلہ کرنے کے بعد مکسڈ مارشل آرٹس، یعنی ایم ایم اے، میں اپنی جگہ بنائی۔
آج وہ پاکستان کی ان خواتین فائٹرز میں شامل ہیں جو بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کر رہی ہیں، لیکن عالمی سطح تک پہنچنے سے پہلے ان کا سفر تائیکوانڈو اور ووشو کے مقابلوں سے شروع ہوا تھا۔
منیشا کی جڑواں بہن ملیحہ ان کی ٹریننگ پارٹنر بھی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تربیت کرتی اور مقابلوں کی تیاری کرتی ہیں۔
جولائی 2026 میں پاکستان ایم اینم فیڈریشن کی کنٹینڈر سریز میں ان کا مقابلہ کراچی کی فائٹر امامہ سے ہوا۔ منیشا نے تین راؤنڈز کے بعد متفقہ فیصلے سے مقابلہ جیتا اور فائیٹ آف دی نائیٹ کا اعزازبھی حاصل کیا۔ یہ کامیابی انھیں بین الاقوامی مقابلے کے لیے مزید مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے لائی۔