پیٹرول، ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے بیچ، اس شعبے سے منسلک پاکستانی کمپنیاں جو اربوں کا منافع کما رہی ہیں

    • مصنف, عمیر سلیمی اور عمیر محمود
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

ایسے وقت میں جب پاکستانی صارفین مہنگے پیٹرول اور ڈیزل کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں، ملک کی متعدد آئل ریفائنریز، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنے منافع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔

ریفائنریز کے منافع میں تو گذشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی کو جنم دیا۔ اسی دوران خام تیل، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور پاکستان میں بھی اس کے اثرات دیکھنے میں آئے۔

توانائی کی عالمی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ (20 فیصد) آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس بحری گزر گاہ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو متاثر کیا، اور پاکستان سمیت مختلف ممالک میں تیل اور ایندھن کی قیمتیں بڑھیں۔

جنگ سے قبل پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل بالترتیب تقریباً 276 اور 287 روپے فی لیٹر میں مل رہے تھے، تاہم بعد ازاں عالمی منڈی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، یہاں تک کہ یہ 400 روپے فی لیٹر تک بھی پہنچیں۔

حکومت نے اس غیر معمولی صورتحال کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر شروع کیا، جبکہ مہنگے ایندھن کے اثرات روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی قیمتوں میں بھی محسوس کیے گئے۔

پاکستان کے ادارۂ شماریات کے مطابق فروری میں ملک میں مہنگائی کی شرح سات فیصد تھی، اور بعد ازاں بڑھتے بڑھتے 11 فیصد تک بھی پہنچی۔

تاہم پاکستان کی بڑی ریفائنریوں اور تیل سے منسلک دیگر کمپنیوں کے مالی نتائج ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

ان کمپنیوں کی تازہ مالیاتی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ عالمی بحران کے اسی عرصے میں توانائی کے شعبے کے مختلف حصوں، خصوصاً ریفائنریوں، نے غیر معمولی منافع کمایا۔

کس کمپنی نے کتنا منافع کمایا؟

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں درج چار آئل ریفائنریز میں سے تین نے اپنے سہ ماہی مالی نتائج جاری کیے ہیں۔

اٹک ریفائنری نے گذشتہ سال جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں 1.45 ارب روپے خالص منافع کمایا تھا، تاہم کمپنی کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال اسی عرصے میں اس کا خالص منافع بڑھ کر 18.65 ارب روپے ہو گیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 1184 فیصد زیادہ ہے۔

نیشنل ریفائنری کا خالص منافع گذشتہ سال جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں 1.03 ارب روپے تھا، جو رواں سال اسی مدت میں بڑھ کر 11.57 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ یوں کمپنی کے منافع میں تقریباً 1029 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کا خالص منافع گذشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں 1.02 ارب روپے تھا، جو رواں سال بڑھ کر 13.97 ارب روپے ہو گیا، یعنی ایک سال کے دوران منافع میں تقریباً 1274 فیصد اضافہ ہوا۔

صرف ریفائنریز ہی نہیں، بلکہ تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار سے وابستہ کمپنیوں کے مالی نتائج بھی مضبوط رہے۔

پاکستان آئل فیلڈز نے گذشتہ سال جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں 5.43 ارب روپے خالص منافع کمایا تھا، تاہم کمپنی کی تازہ رپورٹ کے مطابق رواں سال اسی عرصے میں اس کا خالص منافع بڑھ کر 8.19 ارب روپے ہو گیا، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 51 فیصد زیادہ ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی اس عرصے میں بہتر نتائج رپورٹ کیے۔

اٹک پیٹرولیم لمیٹڈ نے گذشتہ سال جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں 3.81 ارب روپے خالص منافع کمایا تھا، جبکہ رواں سال اسی مدت میں اس کا خالص منافع بڑھ کر 6.64 ارب روپے ہو گیا، یہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 74 فیصد اضافہ بنتا ہے۔

یہ اعداد و شمار ایک واضح تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک طرف صارفین مہنگے ایندھن اور بڑھتی مہنگائی کا سامنا کر رہے تھے، جبکہ دوسری طرف اسی شعبے سے وابستہ کئی کمپنیوں کے منافع تیزی سے بڑھ رہے تھے۔

آخر ایسا ہوا کیوں؟

غیر معمولی منافع کی تین بنیادی وجوہات

ماہرین سے ہونے والی گفتگو سے مجموعی طور پر تین بڑی وجوہات سامنے آتی ہیں۔

پہلی یہ کہ جنگ اور سپلائی (رسد) میں رکاوٹوں کے باعث ڈیزل اور پیٹرول کی عالمی قیمتیں خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھیں، جس سے ریفائنریوں کے منافع کے مارجن میں اضافہ ہوا۔

دوسری یہ کہ بعض کمپنیوں کو قیمتوں میں اضافے سے انوینٹری گین (یعنی نسبتاً کم قیمت پر خریدے گئے تیل یا پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرے کی قدر میں اضافہ) حاصل ہوا۔

تیسری یہ کہ عالمی سطح پر ریفائنڈ مصنوعات، خصوصاً ڈیزل، کی فراہمی خام تیل کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہوئی، جس سے ڈیزل کی قیمتوں اور ریفائنری مارجن میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

زاہد میر ملک میں تیل و گیس کے شعبے میں کئی دہائیوں تک مختلف کمپنیوں کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ریفائنریوں کے منافع میں اضافے کی بنیادی وجہ پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل (کروڈ آئل) کی قیمت سے طے ہوتی ہیں۔

زاہد میر نے بتایا کہ ریفائنریوں کی آمدن کا ایک اہم پیمانہ خام تیل اور تیار شدہ مصنوعات (یعنی پیٹرول اور ڈیزل) کی قیمتوں کے درمیان فرق ہوتا ہے، جسے صنعت کی زبان میں گراس ریفائنری مارجن (گراس ریفائنری مارجن) یا ’کریک سپریڈ‘ کہا جاتا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے پہلے پیٹرول پر یہ فرق تقریباً 12 ڈالر فی بیرل تھا جو بڑھ کر 26 سے 27 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ ڈیزل پر یہی فرق 12 سے 15 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 50 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

زاہد میر کے بقول ’اسی وجہ سے ریفائنریوں کے منافع میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں پاکستانی ریفائنریوں کا اوسط گراس ریفائنری مارجن تقریباً پانچ سے چھ ڈالر فی بیرل ہوا کرتا تھا۔

زاہد میر کے مطابق عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے بھی اس صورتحال میں کردار ادا کیا۔

ان کے بقول پاکستان میں استعمال ہونے والے ڈیزل کا ایک حصہ مشرق وسطیٰ سے آتا تھا، تاہم خطے کی بعض ریفائنریوں کی پیداوار میں کمی اور کویت سے سپلائی متاثر ہونے کے باعث مارکیٹ میں دباؤ پیدا ہوا۔

’اسی طرح باب المندب اور دیگر اہم بحری راستوں پر سکیورٹی خدشات نے بھی رسد اور قیمتوں کو متاثر کیا۔‘

جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں اور آئل ریفائنریز زیادہ مہنگا خام تیل درآمد کر رہی تھیں، تو پھر ان کے منافع میں کمی آنے کے بجائے اضافہ کیوں ہوا؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے زاہد میر نے کہا کہ اگرچہ ریفائنریاں خام تیل بیرون ملک سے درآمد کرتی ہیں اور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہونے سے ان کی لینڈنگ کاسٹ بھی بڑھتی ہے، لیکن پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافے نے ریفائنری مارجن کو بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں ان کمپنیوں کے مالی نتائج مضبوط رہے۔

اسد علی پاکستان میں سرمایہ کاری اور سٹاک مارکیٹ سے متعلق خدمات فراہم کرنے والی کمپنی (بروکریج فرم) ٹاپ لائن سیکیورٹیز میں توانائی اور بینکاری شعبے کے تجزیہ کار ہیں۔

ان کے مطابق جب عالمی منڈی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں خام تیل کی قیمت کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھتی ہیں تو ریفائنریوں کے مارجن بہتر ہوتے ہیں، جس سے ان کے منافع میں اضافہ ہوتا ہے۔

اسد علی کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی اس صورتحال سے فائدہ پہنچا۔ ان کے بقول ان کمپنیوں کے منافع میں اضافے کی ایک اہم وجہ ’انوینٹری گین‘ تھی۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اور ’انوینٹری گین‘ کا تصور سمجھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ریگولیٹری تقاضوں کے تحت آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ایندھن کا ایک مخصوص ذخیرہ برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

چنانچہ جن کمپنیوں نے نسبتاً کم قیمت پر خریدی گئی پیٹرولیم مصنوعات ذخیرے میں رکھی ہوئی تھیں، انھیں بعد میں قیمتیں بڑھنے پر ان مصنوعات کی فروخت سے اضافی منافع حاصل ہوا۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ستمبر کے اختتام پر تیل کی قیمتیں نسبتاً بلند تھیں، جس سے ان کمپنیوں کے مارجن اور منافع پر مثبت اثر پڑا۔

انھوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات اور خام تیل کی دستیابی میں کمی کے باعث سپلائی (رسد) کا دباؤ بھی موجود ہے۔ اس کے نتیجے میں خام تیل درآمد کرنے اور اسے ملک تک پہنچانے کی لاگت، یعنی لینڈڈ کاسٹ یا فریٹ کاسٹ، میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں اسد علی کا کہنا تھا کہ اگرچہ خام تیل خریدنے کی لاگت بھی بڑھی، لیکن پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اس سے کہیں زیادہ اضافے نے کمپنیوں کے منافع میں اضافہ کر دیا۔

تاہم بعض ماہرین کے نزدیک مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں تھا بلکہ عالمی سپلائی کے ڈھانچے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا بھی تھا۔

کاروباری اور اقتصادی امور پر تجزیہ دینے والے خرم حسین کے مطابق آبنائے ہرمز اور خطے میں کشیدگی کے باعث سب سے زیادہ دباؤ ریفائننگ صلاحیت اور ریفائنڈ مصنوعات کی سپلائی پر آیا۔ چونکہ دنیا کے کئی ممالک ڈیزل اور دیگر ریفائنڈ فیول کی فراہمی کے لیے خلیجی ریفائنریوں پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے سپلائی میں رکاوٹوں نے ڈیزل کی قیمتوں کو خام تیل کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھایا۔

خرم حسین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں پاکستانی ریفائنریوں کو فائدہ پہنچا کیونکہ وہ خام تیل درآمد کر کے مقامی سطح پر اسے ریفائن کر رہی تھیں، جبکہ تیار شدہ مصنوعات خصوصاً ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتیں نمایاں طور پر اوپر جا رہی تھیں۔

ان کے بقول: ’آئل ریفائنریز کا مارجن صرف پاکستان میں ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر میں بڑھا ہے۔‘

اور عالمی کمپنیوں کے اعداد و شمار بھی خرم حسین کی بات کی تصدیق کرتے ہیں۔

امریکہ کی توانائی کمپنی ولیرو انرجی نے 22 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ اس کا خالص سہ ماہی منافع 1.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 6.8 ارب ڈالر ہو گیا، جبکہ اس کے ریفائننگ شعبے کا آپریٹنگ منافع 1.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 8.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا (450 فیصد اضافہ)۔

اس سوال پر کہ کیا حکومت قیمتوں اور مارجن پر اثر انداز ہونے کے لیے اقدامات کر سکتی ہے اور آئل ریفائنریز کے منافع پر حد مقرر کر سکتی ہے، خرم حسین کا جواب اثبات میں تھا۔

ان کے مطابق حکومت کے پاس مختلف پالیسی آپشن موجود ہوتے ہیں، جن میں قیمتوں یا مارجن پر حد مقرر کرنا (کیپ لگانا)، ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صارفین کے لیے سبسڈی کی صورت میں استعمال کرنا شامل ہے۔

یاد رہے کہ حکومت یہ اقدامات کر بھی چکی ہے۔

مالیاتی اور توانائی کے شعبے کی خبریں فراہم کرنے والے ادارے میٹس گلوبل نے اگست میں رپورٹ کیا تھا کہ حکومت پاکستان نے ڈیزل کے ’کریک سپریڈ‘ یا مارجن پر بالائی حد (کیپ) مقرر کی ہے تاکہ عالمی منڈی میں بڑھتے ہوئے ریفائنری مارجن کا مکمل بوجھ مقامی صارفین پر منتقل نہ ہو۔

اُس وقت یہ حد 41.89 ڈالر فی بیرل رکھی گئی تھی، تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ اور بروکریج فرمز کی رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں اسے مزید کم کر کے 38 ڈالر فی بیرل کر دیا گیا ہے۔

بروکریج فرم ٹاپ لائن سکیورٹیز کی جانب سے 20 اکتوبر کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کریک سپریڈ پر لگائی گئی حد کی وجہ سے ریفائنریوں کے منافع پر دباؤ آئے گا اور مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی میں صنعت کے مجموعی مارجن کم ہو سکتے ہیں۔