آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تین بچوں کی ماں حرا قیصر کا ’پاکستان آئیڈل‘ بننے کا سفر: ’چھوٹی بہن نے کہا بس ایک بار آڈیشن ضرور دیں‘
- مصنف, ظاہر محمود
- عہدہ, صحافی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
’میں نے پہلے دن سے یہی سوچ رکھا تھا کہ اگر میں یہ مقابلہ جیت گئی تو انعامی رقم سے اپنے بچوں کے لیے چھت بناؤں گی۔‘
یہ الفاظ پاکستان آئیڈل کے دوسرے سیزن کی فاتح حرا قیصر کے ہیں۔
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی تین بچوں کی ماں نے پاکستان آئیڈل کے فائنل میں دیگر چھ امیدواروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کیا۔
پاکستان آئیڈل کے دوسرے سیزن میں سات امیدوار مدِمقابل تھے جن میں حرا قیصر کے علاوہ آریان نوید بھٹی، ماہم طاہر، وقار حسین، طرب نفیس، سمعیہ گوہر اور نبیل عباس خان شامل تھے۔
فائنل مقابلے کے ججز میں راحت فتح علی خان، بلال مقصود، زیب بنگش اور فواد خان شامل تھے جبکہ عاطف اسلم بطور خصوصی مہمان مدعو کیے گئے تھے۔
اکتوبر 2025 سے شروع ہونے والے پاکستان آئیڈل کے اس دوسرے سیزن کو رمضان اور پھر مارچ میں علاقائی کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے دو بار روک دیا گیا مگر آخرکار 39 اقساط کے بعد یہ سیزن اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔
حرا قیصر نے پورے سیزن میں اپنی بہترین پرفارمنس، کم تکنیکی غلطیوں اور سادگی سے نہ صرف ججز بلکہ عوام میں بھی بھرپور پذیرائی حاصل کی ہے۔
حرا قیصر کون ہیں؟
حرا قیصر کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع فیصل آباد سے ہے۔ ان کے گھر میں ان کے سوا کسی کو بھی گانا گانے یا موسیقی سے اس قدر شغف نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حرا قیصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’میری پوری فیملی اس سفر میں مجھے بہت سپورٹ کرتی رہی۔۔۔ امی، بہنیں اور شوہر۔۔۔ پہلے پہل میرے بھائی کو تھوڑا مسئلہ تھا مگر پھر اُنھوں نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا اور کہا کہ تم یہ مقابلہ جیتو گی۔‘
حرا قیصر نے موسیقی کا فن باقاعدہ کسی ادارے سے نہیں سیکھا۔
اُنھوں نے بتایا کہ ’موسیقی کے حوالے سے مجھے جو کچھ بھی آتا ہے، وہ سب میرے والد قیصر علی کی وجہ سے ہے جو آٹھ سال پہلے اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔‘
حرا نے بتایا کہ ’میں نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر 2013 میں میری شادی ہو گئی۔‘
پاکستان آئیڈل میں شرکت کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے حرا قیصر نے بتایا کہ تین بچوں کی ماں ہونے کے باعث ان کا ابتدا میں مقابلے میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’میرا پاکستان آئیڈل میں جانے کا بالکل کوئی پروگرام نہیں تھا کیونکہ مجھے اپنے بچوں کی دیکھ بھال بھی کرنی ہوتی تھی۔ تاہم جب پاکستان آئیڈل کے آڈیشنز کا اشتہار آیا تو میری چھوٹی بہن نے مجھے مسلسل آڈیشن دینے پر زور دیا۔‘
حرا قیصر کے مطابق جب انھوں نے بچوں کی ذمہ داریوں کا جواز پیش کیا تو ان کی بہن نے انھیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر آپ زندگی میں کچھ حاصل کرنا چاہتی ہیں یا اپنی زندگی بدلنا چاہتی ہیں تو کم از کم ایک بار آڈیشن ضرور دیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ان کی بہن کو ہمیشہ یقین تھا کہ ان کی آواز لوگوں کو متاثر کرے گی۔ ’میں نے لاہور جا کر آڈیشن دیا جہاں میرا انتخاب ہو گیا۔ بعد ازاں مجھے کراچی بھی بلایا گیا۔
’یوں بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ میں نے اپنے خواب کو حقیقت بنانے کے لیے بھرپور محنت کی۔‘
’مجھے 15 لاکھ روپے انعام ملے گا‘
پاکستان آئیڈل کے بعد مقبول ہونے والے اپنے گانوں کا ذکر کرتے ہوئے حرا قیصر نے کہا کہ اگرچہ ان کے تقریباً تمام گانوں کو سامعین نے پسند کیا تاہم چند گانوں نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
ان کے مطابق ’میرا پہلا گانا جو بہت زیادہ مقبول ہوا، وہ ’جندڑیے ہُن تے مگروں لِہہ جا‘ تھا، جسے اس سے قبل میڈم نور جہاں نے گایا تھا۔ اس گانے کو بے حد پذیرائی ملی اور لاکھوں لوگوں نے سنا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد ’میری زندگی تیرا پیار بھی خاصا وائرل ہوا۔ اس گانے کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا سے بھی بہت اچھا ردِعمل ملا اور بہت سے نئے دوست بنے۔‘
حرا قیصر کے مطابق ان کا تیسرا سب سے مقبول گانا ’جھوک رانجھن‘ تھا۔
ان کے مطابق ’یہ گانا مجھے ذاتی طور پر بھی بہت پسند ہے اور اس نے میرے دیگر تمام گانوں کے ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ ویسے تو میرے تقریباً سبھی گانوں کو پسند کیا گیا، لیکن یہ تین گانے میرے دل کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔‘
اس کامیابی پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اُنھوں نے بتایا کہ ’میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری زندگی میں یہ وقت بھی آئے گا۔ گانا میرا بچپن کا خواب تھا، ویسے تو میری ساری فیملی ہی سُر میں ہے مگر گانے کا شوق صرف مجھے ہی تھا۔ میرے لیے اتنے بڑے لیجنڈز کے سامنے گانا اور پرفارم کرنا ہی بہت بڑی بات تھی۔‘
حرا قیصر کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان آئیڈل پہ آ کر ہی سب کچھ سیکھنے کو ملا ورنہ میں تو بچوں میں مشغول تھی، پاکستان آئیڈل میرا وسیلہ بنا، اب سیڑھی چڑھنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔‘
پاکستان آئیڈل سیزن ٹو کی فاتح قرار پانے پر ملنے والے انعام کے بارے میں حرا قیصر نے بتایا کہ ’مجھے 15 لاکھ روپے انعام ملے گا۔
’میں نے پہلے دن سے ہی یہ سوچ رکھا تھا کہ اگر میں یہ مقابلہ جیت گئی تو ملنے والی انعامی رقم سے اپنے بچوں کے لیے چھت بناؤں گی۔‘