’جس کی قسمت میں ہو گا اسے ضرور ملے گا‘: پانی میں ڈوبا گاؤں جہاں آج بھی لوگ ہیروں کی تلاش میں پہنچتے ہیں

    • مصنف, بیٹ ستیش
    • عہدہ, بی بی سی ہندی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 12 منٹ

کوہِ نور ہیرا آخر کہاں دریافت ہوا تھا؟ اس سوال کا کوئی حتمی جواب تاریخ کے پاس نہیں۔ تاہم انڈیا کا ایک دور افتادہ گاؤں آج بھی اس دعوے کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہے کہ شاید دنیا کے مشہور ترین ہیروں میں سے ایک، کوہِ نور، یہیں سے نکلا تھا۔

آندھرا پردیش کے ضلع پلناڈو میں واقع کولور گاؤں تک پہنچنا آج بھی آسان نہیں۔ بیلام کونڈا سے کھیتوں، درختوں اور پہاڑیوں کے درمیان سے گزر کر یہاں پہنچا جا سکتا ہے، جبکہ آخری راستہ اتنا تنگ ہے کہ اس پر صرف موٹر سائیکل یا ٹریکٹر ہی چل سکتے ہیں۔

اس گاؤں میں نہ موبائل سگنل کی مناسب سہولت ہے اور نہ ہی بنیادی انفراسٹرکچر، لیکن اس کے باوجود دور دراز علاقوں سے لوگ آج بھی یہاں ہیرے تلاش کرنے آتے ہیں۔ بعض افراد کئی کئی ہفتوں تک اپنے گھروں سے دور رہ کر زمین کھودتے اور ریت چھانتے رہتے ہیں، اس امید میں کہ شاید ان کے ہاتھ کوئی قیمتی پتھر لگ جائے۔

تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ تقریباً 800 سال پہلے کولور دنیا کی مشہور ہیروں کی کانوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس کی تاریخ کا بڑا حصہ ہمیں 400 سال پہلے یہاں آنے والے یورپی سیاحوں اور تاجروں کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے۔

ہیروں کی تاریخی تجارت کا ذکر آئے تو اکثر لوگوں کے ذہن میں سب سے پہلے وجیانگر سلطنت کا نام آتا ہے، جو 14ویں سے 16ویں صدی کے دوران تجارت، ثقافت اور ہیروں کی منڈیوں کے لیے مشہور تھی۔ جنوبی انڈیا میں آج بھی رایا خاندان کے دور کے وہ قصے سنائے جاتے ہیں جب کرناٹک کے شہر ہمپی کی گلیوں میں ہیروں کی خرید و فروخت عروج پر تھی۔ اس موضوع پر متعدد فلمیں بھی بن چکی ہیں۔

تاہم کم لوگ جانتے ہیں کہ اسی خطے کی ایک اور طاقتور سلطنت، گولکنڈہ، بھی ہیروں کی تجارت کی وجہ سے غیرمعمولی شہرت رکھتی تھی۔ اس سلطنت کا دارالحکومت آج کے حیدرآباد میں واقع تھا اور کولور اس کی مشہور ہیرا کانوں میں شامل تھا۔

اگرچہ کوہِ نور کی دریافت کے بارے میں کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں، لیکن بیشتر مؤرخین اور ماہرینِ ارضیات کا خیال ہے کہ یہ مشہور ہیرا کولور کی کان سے ہی نکلا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پانی میں ڈوب چکے اس گاؤں کا نام آج بھی دنیا کے معروف ترین ہیروں میں سے ایک کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔

ہیروں کی کانوں کے لیے مشہور علاقہ

آج زیادہ تر تیلگو بولنے والوں کے لیے گولکنڈہ صرف ایک پرانے قلعے کا نام ہے۔ لیکن انگریزی زبان میں ’گولکنڈہ‘ کا لفظ خوشحالی اور دولت کی علامت کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں۔

جس طرح کبھی ہمپی کی گلیاں ہیروں کی تجارت کے لیے مشہور تھیں، اسی طرح آج کے حیدرآباد کے قدیم علاقے کارواں میں بھی ہیروں کی بڑی خرید و فروخت ہوا کرتی تھی۔ یاد رہے کہ 18ویں صدی تک انڈیا دنیا میں ہیروں کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ تھا۔

افریقہ اور جنوبی امریکہ میں ہیروں کی کانیں 18ویں صدی کے بعد دریافت ہوئیں۔ اس سے پہلے جنوبی انڈیا میں کرشنا، تونگ بھدرا اور پینا دریاؤں کے اطراف کے علاقے ہیروں کے لیے مشہور تھے۔

اسی وجہ سے وجیانگر، بیجاپور اور گولکنڈہ جیسی سلطنتیں، اور مجموعی طور پر دکن کا خطہ، ہیروں کی تجارت کے حوالے سے معروف تھے۔

پانی میں ڈوبا ہیروں والا گاؤں

1618 سے 1622 کے درمیان یورپ سے آنے والے ایک سیاح ولیم میتھولڈ کولور پہنچے۔ وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔

انھوں نے لکھا کہ گاؤں کے قریب واقع ہیروں کی کانوں میں 30 ہزار افراد کام کرتے تھے۔ اس کے تقریباً 50 سال بعد، 1665 میں فرانسیسی سیاح ژاں باپتیست تاورنیے بھی یہاں آئے۔

ان کے مطابق اس گاؤں کی ہیروں کی کانوں میں 30 ہزار نہیں بلکہ 60 ہزار لوگ کام کرتے تھے۔

مارکو پولو، ہنری ہاورڈ اور کولن میکنزی سمیت کئی سیاحوں اور محققین نے بھی ان کانوں کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔

بعد کے برسوں میں یہ گاؤں ایک آبی ذخیرے میں ڈوب گیا اور بالآخر مکمل طور پر زیرِ آب آ گیا۔

تقریباً ایک دہائی قبل خالی کیے گئے اس گاؤں میں اب صرف چار خاندان رہتے ہیں، جو بکریاں پال کر گزر بسر کرتے ہیں۔

یہاں سے کشتی کے ذریعے چند کلومیٹر آگے، دریائے کرشنا پر بنے پولی چنتلا آبی ذخیرے کے بیچ ایک جزیرہ دکھائی دیتا ہے۔

درحقیقت یہ کسی جزیرے کے بجائے پانی میں ڈوب جانے والے ایک گاؤں کا اونچا ٹیلہ ہے۔ کچھ لوگ آج بھی یہاں چھوٹے خیموں میں رہتے ہیں اور زمین کھود کر ہیروں کی تلاش کرتے ہیں۔

اب بھی وقتاً فوقتاً یہاں ہیرے ملنے کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں، اسی امید میں بڑی تعداد میں لوگ اپنی قسمت آزمانے کے لیے یہاں آتے ہیں۔

2018 میں بی بی سی کی ایک ٹیم نے اس مقام کا دورہ کیا تھا۔ اُس وقت بھی درجنوں افراد ہیروں کی تلاش میں مصروف تھے۔

2025 میں بی بی سی کی ٹیم ایک بار پھر اس گاؤں پہنچی۔

کولور کانوں کی پہچان بن گیا

ایک وقت تھا جب کولور کا نام ہیروں کی کانوں کے لیے استعمال ہونے لگا تھا۔ اس گاؤں کی شہرت اتنی تھی کہ لوگ کانوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی کولور کا نام لیتے تھے۔

انڈیا کے جیولوجیکل سروے (جی ایس آئی) کے ریٹائرڈ سائنسدان ایس وی ستیہ نارائنہ کے مطابق 18ویں صدی تک جنوبی انڈیا کا دکن کا خطہ دنیا میں ہیروں کا ایک بڑا مرکز تھا۔

ان کے مطابق صرف کوہِ نور ہی نہیں بلکہ گریٹ مغل، ریجنٹ، اورلوف، نظام اور ہوپ جیسے مشہور ہیرے بھی اسی علاقے سے ملے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ 13ویں سے 17ویں صدی کے درمیان ہیروں کی تجارت اپنے عروج پر تھی۔

ان کے مطابق آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں دریائے کرشنا اور دریائے پینا کے اطراف بڑی تعداد میں ہیرے دریافت ہوئے۔

ستیہ نارائنہ کہتے ہیں کہ چند چھوٹی کانوں کے علاوہ یہ علاقہ دنیا میں ہیروں کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ یہ صورت حال 1725 میں برازیل میں ہیروں کی کانیں دریافت ہونے تک برقرار رہی۔

ان کے بقول برطانوی دور سے پہلے انڈیا کی بیرونی تجارت میں ہیروں کی اہم جگہ تھی، اور وجیانگر، بیجاپور اور گولکنڈہ کی سلطنتوں کے زمانے میں یہ ہیرے خاصی شہرت رکھتے تھے۔

تاریخ کے محقق اور صحافی نانی سیٹی شریش کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہیرے تونگ بھدرا اور کرشنا دریاؤں کے علاقوں سے ملتے تھے، جن میں کولور سب سے زیادہ مشہور تھا۔

ان کے مطابق راولاکونڈا جیسی دوسری کانیں بھی موجود تھیں جبکہ گنڈی کوٹا ہیروں کی تجارت کے اہم مراکز میں شمار ہوتا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ وجیانگر سلطنت ہیروں کی وجہ سے بہت مشہور تھی جبکہ بعد میں بیجاپور اور گولکنڈہ کی سلطنتوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔

ان کے بقول ہیروں سے جڑی کئی دلچسپ کہانیاں بھی مشہور ہیں اور بعض ہیروں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ منحوس ثابت ہوئے۔

عام طور پر گرمیوں میں جب دریاؤں کا پانی کم ہو جاتا ہے تو لوگ پانی ہٹنے کے بعد سامنے آنے والی زمین میں ہیرے تلاش کرتے ہیں۔

’مزدوروں کی شام کے وقت تلاشی‘

1518 سے 1687 تک قطب شاہی حکمرانوں نے حیدرآباد سے گولکنڈہ سلطنت پر حکومت کی۔

یہ سلطنت مغرب میں سورت اور مشرق میں مچیلی پٹنم تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ دونوں شہر اُس زمانے میں تجارت کے بڑے مراکز تھے جبکہ ان کے درمیان واقع حیدرآباد گولکنڈہ سلطنت کا اہم شہر تھا۔

حیدرآباد کے پرانے شہر کا علاقہ کارواں کبھی ہیروں کی تراش خراش اور خرید و فروخت کے لیے مشہور تھا۔ گجراتی، مارواڑی اور دوسرے تاجر یہاں آ کر آباد ہوئے تھے، جبکہ غیرملکی تاجر بھی یہاں آتے رہتے تھے۔

تاریخ کے محقق نانی سیٹی شریش کے مطابق فرانسیسی سیاح تھیوینو نے گولکنڈہ کو ’ہیروں کی سرزمین‘ قرار دیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ 17ویں صدی تک گولکنڈہ کے زیرِ انتظام 23 اور بیجاپور کے زیرِ انتظام 15 ہیروں کی کانیں تھیں۔ ان کانوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار ملتا تھا۔

ان کے مطابق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اورنگزیب کے گولکنڈہ پر حملے کی ایک وجہ وہاں موجود ہیروں کی بے پناہ دولت تھی۔

شریش بتاتے ہیں کہ پرانے زمانے میں حکمران ہیروں کی تلاش کے لیے لوگوں کو اجرت دیتے تھے۔

ان کے مطابق اگر کسی شخص کو ایک قیراط یا اس سے کم وزن کا ہیرا ملتا تو وہ اسے اپنے پاس رکھ سکتا تھا، لیکن اس سے بڑا ہیرا ملنے پر اسے بادشاہ کے حوالے کرنا پڑتا تھا۔

اسی لیے کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی شام کے وقت تلاشی لی جاتی تھی تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ ہیرے چھپا کر تو نہیں لے جا رہے۔

وہ کہتے ہیں کہ کانوں میں جتنے مزدور کام کرتے تھے، تقریباً اتنے ہی محافظ بھی تعینات ہوتے تھے۔ شریش کے مطابق وجیانگر سلطنت کے زوال کے بعد گولکنڈہ ہیروں کے تاجروں کا ایک بڑا مرکز بن گیا۔

کیا کوہِ نور یہیں سے ملا تھا؟

یہ بات یقینی طور پر معلوم نہیں کہ کوہِ نور کہاں ملا تھا، لیکن بیشتر مؤرخین اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کولور کی کان سے نکلا تھا۔

شاہ جہاں تک پہنچنے کے بعد کوہِ نور کی تاریخ تو ریکارڈ پر موجود ہے، مگر یہ ان تک کیسے پہنچا، اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا۔

محقق نانی سیٹی شریش کے مطابق یہ ہیرا کولور سے میر جملہ تک پہنچا، جنھوں نے اسے شاہ جہاں کو تحفے میں دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ مغل دور کی دستاویزات میں ہیرے کی جو خصوصیات بیان کی گئی ہیں، وہ کوہِ نور سے ملتی ہیں، اور اُس زمانے میں اتنے بڑے ہیرے صرف کولور کی کانوں سے ملتے تھے۔

شریش کے مطابق دریافت کی تاریخ اور وزن کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اس بات پر خاصا اتفاق ہے کہ کوہِ نور دریائے کرشنا کی وادی سے ملا تھا۔

وہ ہیروں کی کانیں آج کہاں ہیں؟

ماہرین کے مطابق ماضی میں موجودہ آندھرا پردیش کے اضلاع کرشنا، گنٹور، کرنول اور اننت پور میں بڑی تعداد میں ہیرے ملتے تھے۔ اس کے علاوہ تلنگانہ کے محبوب نگر، کرناٹک کے رائچور اور مہاراشٹر کے ویرا گڑھ میں بھی ہیروں کی کانیں موجود تھیں۔

جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے ریٹائرڈ سائنسدان ایس وی ستیہ نارائنہ کے مطابق 1677 میں ہنری ہاورڈ کی تیار کردہ دستاویزات سے ان مقامات کو قدیم ہیروں کی کانوں کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ کانیں دریائے کرشنا اور تونگ بھدرا کے سنگم سے وجے واڑہ تک تقریباً 300 کلومیٹر کے علاقے میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس خطے میں آج کے کرشنا، گنٹور، کرنول، محبوب نگر، پرکاشم، کڑپہ اور اننت پور کے اضلاع شامل ہیں۔

ستیہ نارائنہ کا کہنا ہے کہ ہیروں کی زیادہ تر کانیں کولورپریتالا پٹی میں واقع تھیں اور کوہِ نور، گریٹ مغل، ریجنٹ، اورلوف، نظام اور ہوپ جیسے مشہور ہیرے بھی اسی علاقے سے ملے تھے۔

ان کے مطابق اس خطے میں ایسی چٹانیں اور مٹی پائی جاتی ہیں جن میں ہیرے بننے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ صدیوں تک یہ علاقہ دنیا کے اہم ترین ہیرا پیدا کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا رہا۔

ستیہ نارائنہ کے بقول تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ 1610 کے آس پاس وجراکرور میں 400 قیراط سے زیادہ وزن کا ایک ہیرا دریافت ہوا تھا جبکہ 1534 میں وجیانگر میں ایک ایسا ہیرا ملا تھا جس کا حجم ایک چھوٹے مرغی کے انڈے کے برابر بتایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کئی اور بڑے ہیرے بھی دریافت ہوئے تھے۔

اب وہاں کان کنی کیوں نہیں ہوتی؟

کولور اور آس پاس کے علاقوں میں تقریباً 600 سال تک ہیروں کی کان کنی ہوتی رہی۔ ماہرین کے مطابق اس عرصے میں زیادہ تر قیمتی ہیرے نکال لیے گئے، جس کے بعد کان کنی منافع بخش نہیں رہی۔

محقق نانی سیٹی شریش کہتے ہیں کہ کسی کان میں بڑے پیمانے پر کام اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب وہاں ہیرے بڑی تعداد میں ملیں۔ ان کانوں میں اب ایسا نہیں ہوتا۔

جیولوجیکل سروے آف انڈیا کے ریٹائرڈ سائنسدان ایس وی ستیہ نارائنہ کے مطابق 1725 میں برازیل میں نئی ہیروں کی کانیں دریافت ہونے اور ہیروں کی تجارت میں تبدیلی کے بعد یہاں کی کانیں آہستہ آہستہ بند ہو گئیں۔

ان کے بقول بعد میں بھی کئی بار کولور اور پریتالا سمیت مختلف علاقوں میں ہیروں کی تلاش کی گئی، لیکن صرف چھوٹے ہیرے ملے۔ اسی لیے تجارتی پیمانے پر کان کنی دوبارہ شروع نہیں ہو سکی تاہم آج بھی بعض لوگ ان علاقوں میں قسمت آزمانے کے لیے ہیرے تلاش کرتے ہیں۔

آج بھی بہت سے لوگ، خاص طور پر غریب اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خاندان، ہیرا ملنے کی امید میں ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بارشوں کے آغاز پر ہیرے ملنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے مئی کے آخر سے جولائی تک جونناگیری، وجراکرور، پریتالا اور کولور میں لوگوں کی آمد بڑھ جاتی ہے۔

کچھ لوگ اپنے خاندان کے ساتھ آتے ہیں، جبکہ کچھ کئی ہفتوں یا مہینوں تک گھر سے دور رہ کر زمین کھودتے اور مٹی چھانتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرنے والے بیشتر افراد نے بتایا کہ انھیں خود کبھی ہیرا نہیں ملا، لیکن وہ ایسے لوگوں کی کہانیاں ضرور سناتے ہیں جنھیں ہیرا ملا اور انھوں نے اسے فروخت کر دیا۔

مرچ اور کپاس کی فصل میں نقصان اٹھانے والی وجے اما قرض چکانے کی امید میں ایک ماہ تک کولور میں ہیرے تلاش کرتی رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جس کی قسمت میں ہیرا ہو گا، اسے مل جائے گا۔‘

اسی طرح نرسمّا اپنے شوہر کے ساتھ کئی ماہ تک یہاں ہیرے تلاش کرتی رہیں تاکہ قرض اتار سکیں۔

مقامی لوگوں میں سے کچھ اب ہیروں کے بروکر کا کام کرتے ہیں۔ اگر کسی کو کوئی مشتبہ پتھر ملے تو وہ اسے ان کے پاس لے جاتا ہے، جہاں اس کی جانچ کی جاتی ہے اور ممکنہ خریدار تلاش کیے جاتے ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ تمام سرگرمیاں ہمیشہ قانونی دائرے میں رہ کر انجام دی جاتی ہیں۔

تاریخ میں ہیروں کا ذکر کیسے ملتا ہے؟

مہابھارت اور ارتھ شاستر سمیت قدیم انڈین کتابوں میں ہیروں کا ذکر ملتا ہے، لیکن یہ کم ہی بتایا گیا ہے کہ وہ کہاں سے نکالے جاتے تھے۔

ان ہیروں کی کانوں کے بارے میں زیادہ تر معلومات غیرملکی سیاحوں اور تاجروں کی تحریروں سے ملتی ہیں۔

13ویں صدی میں مارکو پولو نے دریائے کرشنا کی وادی میں واقع ہیروں کی کانوں کا ذکر کیا تھا، جنھیں بعض محققین کولور سے جوڑتے ہیں۔ انھوں نے لکھا تھا کہ یہاں دنیا کے بہترین ہیروں میں سے بعض ہیرے ملتے تھے۔

ہیروں کی کانوں اور تجارت کے بارے میں سب سے تفصیلی معلومات فرانسیسی سیاح ژاں باپتیست تاورنیے نے فراہم کیں۔ انھوں نے کانوں، تجارت، ہیرے تراشنے اور ان کے معیار کے بارے میں تفصیل سے لکھا۔

یورپی مصنفین نے کولور کے علاوہ ملاوارم، کوڈاوتیکل اور پریتالا جیسی کانوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

آج کولور گاؤں تقریباً تاریخ کا حصہ بن چکا ہے، لیکن اب بھی بہت سے لوگ اس امید کے ساتھ یہاں آتے ہیں کہ شاید ایک ہیرا ان کی زندگی بدل دے۔