آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’میرے والد پاکستانی ہیں اس لیے مجھے گالیاں دی گئیں:‘ عراقی فٹبالر زیدان اقبال اور کویتی شائقین کے درمیان تنازع
’کویتی کھلاڑیوں اور اُن کے شائقین نے مجھے اور میرے خاندان کو گالیاں دیں اور میرا مذاق اُڑایا، کیونکہ میرے والد پاکستانی ہیں، حالانکہ میں عراقی ٹیم کے لیے کھیلتا ہوں۔‘
یہ کہنا ہے عراقی فٹبال ٹیم کے کھلاڑی زیدان اقبال کا جو سعودی عرب میں جاری 27 ویں گلف کپ میں کویت کے خلاف میچ کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اتوار کو کھیلے گئے اس میچ میں عراق نے کویت کو تین کے مقابلے میں دو گول سے شکست دے دی، لیکن اس میچ کے نتائج کے ساتھ ساتھ زیدان اقبال کی کویتی کپتان اور فینز کے ساتھ ہونے والی نوک جھونک کا معاملہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔
سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جس میں میچ کے بعد کویتی اور عراقی کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ دھکم پیل کر رہے ہیں، جبکہ بظاہر شائقین کی جانب سے گراؤنڈ میں بوتلیں بھی پھینکی جا رہی ہیں۔
روایتی حریف سمجھی جانے والی عراق اور کویت کی ٹیموں کے درمیان جدہ میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز میچ میں زیدان اقبال نے 52 ویں منٹ میں پہلا گول کر کے عراق کو برتری دلائی۔ مقررہ وقت پر میچ دو، دو گول سے برابر رہا، تاہم اضافی وقت میں عراق نے تیسرا گول کر کے کامیابی حاصل کی۔
’کویتی شائقین میچ سے پہلے ہی ہوٹنگ کر رہے تھے‘
میچ کے بعد اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے کویت کے کپتان یوسف ناصر کو کھلاڑیوں کی جانب سے جملے کسنے پر خبردار کیا تھا۔
ان کے بقول ’میں نے کویت کے کپتان سے بات کی اور کہا کہ مجھے آپ کے کھلاڑیوں سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن کھلاڑی کہہ رہے تھے کہ میرے والد پاکستانی ہیں، اور یہ سچ ہے۔‘
زیدان اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ’الحمدللہ میں مسلمان ہوں اور ہم سب ایک ہی امت ہیں، اس لیے چاہے آپ پاکستان سے ہوں، عراق سے ہوں یا کہیں اور سے کوئی مسئلہ نہیں، ہم سب اسلام کی پیروی کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
زیدان اقبال پر یہ تنقید ہو رہی ہے کہ اُنھوں نے پہلا گول سکور کر کے کویتی شائقین کے سامنے جا کر ’نامناسب انداز‘ میں جشن منایا۔
بعض سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ گول کرنے کے بعد جشن منانا کھلاڑی کا حق اور کھیل کا حصہ ہے، تاہم بعض کا کہنا ہے کہ مخالف ٹیم کے شائقین کو اشتعال دلانے والے انداز میں جشن منانا قابلِ قبول نہیں۔
اس معاملے پر زیدان اقبال کا کہنا تھا کہ ’میں میچ سے پہلے کویتی شائقین کی ہوٹنگ سن رہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ کوئی مسئلہ نہیں، میں گول کروں گا اور پھر آپ دیکھیں گے۔‘
’جب میں نے ان کی طرف دیکھ کر جشن منایا تو اُنھوں نے کچھ نہیں کہا، صرف مجھے دیکھتے رہے، تو میں نے کہا ٹھیک ہے، بہت خوب، اب انھیں وہ پاکستانی لڑکا یاد رہے گا جس نے کویت کے خلاف گول کیا۔‘
اقبال نے مزید کہا: ’اگر آپ میرے والد کو پاکستانی کہہ کر پکاریں گے اور میری والدہ کے بارے میں انتہائی نامناسب باتیں کریں گے تو پہلے جیتنا یقینی بنائیں، کیونکہ اگر میں جیت گیا تو جشن مناؤں گا۔ اگر وہ مجھ سے یہ باتیں کہیں اور میں میدان میں جواب دوں تو لوگ کہیں گے کہ زیدان مسائل پیدا کر رہا ہے، لیکن ورلڈ کپ میں میں نے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا، اور جب ہم دوسری ٹیموں کے خلاف کھیلتے ہیں تو بھی میں مسائل پیدا نہیں کرتا۔‘
زیدان کا کہنا تھا کہ ’فٹبال احترام کا کھیل ہے اور میں اس بات سے 100 فیصد اتفاق کرتا ہوں، لیکن اگر آپ میرے خاندان کی توہین کریں گے اور ان کا احترام کم کریں گے تو ٹھیک ہے، مگر پہلے جیتنا یقینی بنائیں، کیونکہ میچ ختم ہونے کے بعد سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔‘
متعدد صارفین نے رائے دی کہ جو کچھ ہوا وہ ’رقابت کا حصہ‘ ہے جو میدان سے باہر بھی جاری رہ سکتی ہے، تاہم اُنھوں نے کھلاڑیوں اور ان کے خاندانوں کو گالیاں دینے اور ان کی ذاتی زندگی کو مقابلے کا حصہ بنانے کو مسترد کیا۔
عراق کے کپتان ایمن حسین نے زیدان اقبال اور کویت کے کپتان یوسف ناصر کے درمیان تنازع ختم کرانے میں کردار ادا کیا اور یوسف ناصر کو عراقی ٹیم کے ڈریسنگ روم میں لے گئے تاکہ دونوں کے درمیان صلح کرائی جا سکے۔
صلح کی ویڈیو میں اقبال نے وضاحت کی کہ وہ کویتی شائقین کی جانب سے اپنے خلاف ہونے والی ہوٹنگ پر ناراض تھے جس کے بعد دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر معاملہ ختم کر دیا۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے مطالبہ کیا کہ محفوظ اور آرام دہ ماحول یقینی بنانے کے لیے سخت اور واضح سزائیں دی جائیں تاکہ سٹیڈیم میں موجود تمام شائقین اور بچوں کے ساتھ آنے والے افراد کے لیے موزوں ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
اُن کا کہنا تھا کہ گالی گلوچ اور کھلاڑیوں یا شائقین کے درمیان جھڑپوں جیسے رویے فیملیز کی حوصلہ شکنی کر سکتے ہیں اور انھیں سٹیڈیم آنے سے روک سکتے ہیں۔
بعض شائقین کا یہ بھی خیال تھا کہ کھلاڑیوں کے درمیان جھڑپ، میچ سے پہلے اور دورانِ میچ شائقین کی جانب سے شدید اشتعال انگیزی کا فطری نتیجہ تھی، لہذا اس کے لیے سخت سزائیں ہونی چاہییں۔
مسعود یاسین نامی صارف نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ خلیجی اور دیگر عربوں کے کچھ حلقوں کے سوچنے کا انداز یہی ہے، وہ قبائلی تعصب پر مبنی منطق اپناتے ہیں اور ایک عراقی کھلاڑی کا اس لیے مذاق اڑاتے ہیں کیونکہ اس کے والد پاکستانی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’اس بات میں کیا عیب ہے کہ ان کے والد پاکستانی ہیں؟ کیا پاکستان ایک خود مختار اسلامی ملک اور ایٹمی طاقت کا حامل نہیں ہے؟ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بعض ممالک کو خود اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے، ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں پاکستان کی ان صلاحیتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔‘
’تو پھر حسب نسب کی بنیاد پر یہ نسل پرستی اور حقارت کیوں؟ آپ کون ہوتے ہیں جو لوگوں کو ان کے والد کے آبائی پس منظر کی وجہ سے طعنے دیں؟‘
اس پر ایک صارف ابو محمود الکویتی نے جواب دیا کہ سب سے پہلے تو یہ کہ قبیلہ آپ کا اور آپ کے خاندان کا احترام کرتا ہے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ’بصرہ میں ہونے والے گلف کپ کے دوران، پاکستانی نژاد اقبال نے کویتی ٹیم کے ریزرو کھلاڑیوں کے ساتھ بلاوجہ تنازع کھڑا کر دیا تھا... کیوں؟ تاکہ اپنے احساسِ کمتری کا ازالہ کر سکے اور عراقی عوام کی ہمدردی حاصل کر سکے... (اگر آپ دیکھنا چاہیں تو اس کی ویڈیو موجود ہے)۔‘
’لہٰذا، اگر آپ کو معلوم ہی نہیں کہ اصل مسئلہ کیا تھا، تو بات نہ کریں۔‘
خرم نامی صارف نے پاکستان اور کویت کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کویتیوں کو پاکستان کا احترام کرنا چاہیے۔
زیدان اقبال کون ہیں؟
زیدان اقبال نے حال ہی میں ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ میں بھی عراق کی نمائندگی کی تھی۔
جون میں بی بی سی سپورٹس کو دیے گئے انٹرویو میں زیدان نے کہا تھا کہ ’میرے والد پاکستانی ہیں۔ میرے والد ایسی شخصیت ہیں جن کا میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ احترام کرتا ہوں اور جنھوں نے میرے کیریئر میں میری بہت مدد کی ہے۔‘
’میں عراق کے لیے کھیلتا ہوں، انگلینڈ میں پلا بڑھا ہوں۔ مگر میرے والد پاکستان میں پیدا ہوئے۔ میرے دادا کا تعلق بھی وہیں سے تھا۔ اس لیے مجھے اپنے خاندان کا بہت احترام ہے۔‘
زیدان اقبال مانچسٹر میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ وہ اپنے والد کی طرف سے پاکستانی اور اپنی والدہ کی طرف سے عراقی ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے جوتوں پر اپنی شناخت کیوں ظاہر کرتے ہیں تو 23 سالہ کھلاڑی نے اپنے خاندان کے دونوں پہلوؤں کے لیے اپنے ’احترام‘ کو دہرایا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے بائیں پاؤں پر عراقی پرچم اور دائیں طرف پاکستانی پرچم پہنتا ہوں۔‘
’میرا خیال ہے کہ یہ اس لیے ہے کیونکہ میں دونوں طرف کا احترام کرتا ہوں۔‘