کم نمبروں اور غلط پرچے کی شکایت کے بعد طالب علم پر ’پاکستانی‘ اور ملک دشمن ہونے کا الزام: ’کیا پاکستانی بھی انڈین بورڈ کے امتحانات دیتے ہیں؟‘

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 8 منٹ

’ویدانت اپنے فزکس کے نتیجے سے مطمئن نہیں تھا۔ فزکس کے ساتھ ساتھ ہم نے ریاضی، انگریزی اور سوشل سائنس کی بھی دوبارہ جانچ پڑتال کی درخواست دی تھی۔ جب ہم نے سکین شدہ کاپی دیکھی تو پتا چلا کہ فزکس کی جوابی کاپی اس کی اپنی کاپی سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔‘

ویدانت کے بھائی سدھانت شریواستو نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا۔

یہ معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب نتائج کے اعلان کے بعد ویدانت اپنے فزکس کے نمبروں سے مطمئن نہ تھے اور انھوں نے ری ایویلیوایشن یعنی نظرثانی کے لیے درخواست دی۔ اس عمل کے دوران جب انھوں نے اپنی جوابی کاپی کی سکین شدہ نقل ڈاؤن لوڈ کی تو ان کا دعویٰ تھا کہ وہ کاپی ان کی نہیں بلکہ کسی اور طالب علم کی ہے اور اس پر موجود تحریر بھی ان کی لکھائی سے مطابقت نہیں رکھتی۔

لیکن بجائے اس کے کہ ان کی شکایت کا ازالہ ہوتا انھیں ملک دشمن بنا دیا گیا۔

سدھانت نے بتایا کہ کہ ’اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے ویدانت نے اس معاملے پر سی بی ایس ای کو ای میل کی، سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر پوسٹ کیا اور انسٹاگرام پر ویڈیو بھی شیئر کی۔‘

سدھانت نے مزید کہا کہ ’ہماری یہ پوسٹ وائرل ہوگئی، لیکن بہت سے لوگوں نے ہمیں شدید ٹرول کیا۔ یہاں تک کہ ہمیں پاکستانی بھی کہا گیا۔ کئی نیوز اینکرز نے بھی بغیر تصدیق کے ہمیں پاکستانی کہنا شروع کر دیا۔‘

ویدانت نے اپنا مؤقف سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا، جس کے بعد یہ معاملہ تیزی سے وائرل ہوگیا۔ ایک جانب کئی لوگوں نے ان کی حمایت کی، وہیں دوسری جانب انھیں شدید ٹرولنگ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

بعض صارفین نے انھیں ’ملک دشمن‘ تک قرار دیا، جبکہ ان کے اکاؤنٹ کی لوکیشن کی بنیاد پر انھیں ’پاکستانی‘ کہہ کر بھی نشانہ بنایا گیا۔

بعد ازاں سی بی ایس ای نے پیر کی رات ایک ای میل کے ذریعے ویدانت کو آگاہ کیا کہ ان کی شکایت کا جائزہ لینے کے بعد معاملہ درست کر دیا گیا ہے اور ان کی اصل جوابی کاپی انھیں ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ ان کے نتائج کو بھی اپڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ بورڈ نے اس موقع پر طالب علم کے صبر کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

اب انڈیا میں مرکزی بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے 12ویں جماعت کے طالب علم ویدانت شریواستو کیس میں امتحانی بورڈ نے بالآخر یہ تسلیم کر لیا کہ فزکس کی جوابی کاپی کے معاملے میں غلطی ہوئی تھی۔

ان کے مطابق طالب علم کو درست کاپی بھیج دی گئی ہے، تاہم اس پورے تنازع نے نہ صرف امتحانی نظام بلکہ سوشل میڈیا کے رویّوں پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے۔

ویدانت کے بھائی سدھانت شریواستو نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ اب یہ معاملہ حل ہو گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو نچلی سطح پر موجود تمام خامیوں کو دور کرنا چاہیے اور طلبہ کی بھرپور حمایت کرنی چاہیے۔

یہ تنازع تھا کیا؟

درحقیقت، سی بی ایس ای کے 12ویں جماعت کے نتائج جاری ہونے کے بعد بعض طلبہ نے شکایت کی تھی کہ انھیں آن سکرین مارکنگ کے باعث کم نمبر دیے گئے ہیں۔

ویدانت کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انھوں نے ری ایویلیوایشن کے عمل کے تحت اپنی جوابی کاپی کی سکین شدہ نقل ڈاؤن لوڈ کی۔ اس کے بعد ویدانت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ڈاؤن لوڈ کی گئی کاپی ان کی نہیں ہے اور ان کی تحریر اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔

انھوں نے لکھا کہ ’میں سی بی ایس ای کا 12ویں جماعت کا طالب علم ہوں۔ فزکس میں توقع سے کم نمبر آنے کے بعد میں نے ری ایویلیوایشن کے تحت اپنی جوابی کاپی کی فوٹو کاپی کے لیے درخواست دی۔ آج ہمیں کاپیاں موصول ہوئیں۔ مجھے بہت افسوس ہے کیونکہ سی بی ایس ای کی اپ لوڈ کردہ فزکس کی جوابی کاپی میری نہیں ہے۔‘

ویدانت کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر اس کے پروفائل کے سکرین شاٹس شیئر کیے گئے اور یہ الزامات لگائے گئے کہ ان کا اکاؤنٹ پاکستان سے چلایا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انھیں ’ملک دشمن‘ بھی کہا گیا۔

کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیا۔ انھوں نے کہا کہ 17 سالہ لڑکا انصاف کی امید میں سوشل میڈیا پر آیا، لیکن بی جے پی نے اسے ’غدار‘ قرار دے دیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر لکھا کہ ’مودی-پردھان کی جوڑی نے ایک اور ادارے کو دھاندلی کی علامت بنا دیا ہے۔ دہائیوں میں پہلی بار سی بی ایس ای بورڈ امتحانات پر اتنے سنجیدہ سوالات اٹھے ہیں۔ 18.5 لاکھ طلبہ نے امتحان دیا، اور ایک ہفتے سے غلط نمبر دینے اور امتحانی بے ضابطگیوں کی شکایات سنی تک نہیں گئیں، جبکہ وزیرِ تعلیم اپنی کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’ایک 17 سالہ لڑکا، جس کی جوابی کاپی غلط چیک کی گئی، انصاف کی امید میں سوشل میڈیا پر آیا۔ لیکن مدد کے بجائے اسے گالیاں ملیں۔۔۔ بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے اسے اینٹی نیشنل، سوروس ایجنٹ اور ڈیپ سٹیٹ کا حصہ قرار دیا۔ ایک 17 سالہ لڑکا اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھاتا ہے اور بی جے پی اسے غدار بنا دیتی ہے۔‘

شیو سینا کی رہنما اور سابق راجیہ سبھا رکن پریانکا چترویدی نے بھی کہا کہ طالبعلم کی حمایت کرنے کے بجائے کچھ لوگ اسے ’پاکستانی‘ قرار دے رہے ہیں۔

انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’اس طالبعلم کی حالت اور حکومتی حامیوں کے تبصرے پڑھ کر افسوس ہوا۔ سوچیں ایک طالب علم کتنی بڑی بات اٹھا رہا ہے۔ مگر اس کی مدد کرنے کے بجائے اسے پاکستانی کہا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو ایک ناکام وزیرِ تعلیم اور اتنے ہی ناکام افسران کو بچانے کے لیے ایک طالب علم پر ذہنی دباؤ ڈال رہے ہیں۔‘

اس معاملے پر کافی ٹرولنگ بھی ہوئی

ویدانت کے ایکس اکاؤنٹ کے سکرین شاٹس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے جن میں ان کی لوکیشن ’جنوبی ایشیا‘ دکھائی دے رہی تھی، اور اسی بنیاد پر کئی لوگوں نے 17 سالہ ویدانت کو ’پاکستانی‘ کہہ کر ٹرول کرنا شروع کر دیا۔

ڈی ڈی نیوز کے اینکر اشوک شریواستو نے ویدانت کی پروفائل کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’کیا پاکستانی بھی انڈین بورڈ کے امتحانات دیتے ہیں؟‘

تاہم جب سی بی ایس ای نے ویدانت کی شکایت کو درست تسلیم کر لیا تو اشوک شریواستو نے ویدانت اور ان کے خاندان سے معافی مانگی اور ایکس پر لکھا کہ انھیں اب معلوم ہوا ہے کہ ویدانت واقعی ایک طالب علم ہیں، البتہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کے ٹویٹ کی لوکیشن انڈیا سے باہر کیوں ظاہر ہو رہی تھی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنا پرانا ٹویٹ حذف کر رہے ہیں اور ویدانت اور ان کے خاندان کے بارے میں پھیلائی گئی غلط معلومات پر معذرت کرتے ہیں، تاہم انھیں امید ہے کہ اکاؤنٹ کی لوکیشن کے بارے میں درست معلومات سامنے آنے سے معاملہ مزید واضح ہو جائے گا۔

دوسری جانب ویدانت کے بھائی سدھانت شریواستو نے اپنے ایکس ہینڈل پر لکھا کہ ٹوئٹر میں ایک تکنیکی خرابی کے باعث وہ لوکیشن تبدیل نہیں کر پا رہے، جبکہ پی ٹی آئی کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ان کے اکاؤنٹ کی لوکیشن جنوبی ایشیا دکھائی دے رہی تھی جس کی وجہ سے انھیں پاکستانی کہہ کر ٹرول کیا گیا، حالانکہ ان کے مطابق جنوبی ایشیا میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا بھی شامل ہیں، اور افسوس کی بات یہ ہے کہ بڑے اینکرز نے بھی اس کی تصدیق کیے بغیر انھیں نشانہ بنایا۔

ویدانت کا معاملہ اگرچہ اب سرکاری طور پر حل ہو چکا ہے، لیکن اس نے امتحانی نظام کی شفافیت، آن لائن جانچ کے طریقہ کار، اور سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے الزامات لگانے کے رجحان کو ایک بار پھر بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ کسی بھی شکایت کو سنجیدگی سے سننے کے ساتھ ساتھ عوامی ردعمل میں ذمہ داری اور احتیاط بھی اتنی ہی ضروری ہے۔