گھر کا وائی فائی تیز کرنا چاہتے ہیں تو یہ طریقے آزمائیں

    • مصنف, تھامس جرمین
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

دنیا وائی فائی پر چلتی ہے، لیکن کچھ عجیب چیزیں اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں حتیٰ کہ آپ کا دوپہر کا کھانا بھی۔

الیکس ہلز ایک موجد ہیں، وہ اُن اولین لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے وائی فائی کنکشن کے مسائل کا سامنا کیا۔

سنہ 1993میں انھوں نے امریکہ کی کارنیگی میلن یونیورسٹی میں بطور پروفیسر اُن ٹیموں میں سے ایک کی قیادت کی جنھوں نے ابتدائی وائی فائی نیٹ ورکس میں سے ایک بنایا۔

ہلز اپنی کتاب وائی فائی اینڈ دی بیڈ بوائز آف ریڈیو میں یہ کہانی بیان کرتے ہیں۔

لیکن ’بیڈ بوائز‘ سے مراد انٹرنیٹ کے ان کے ساتھی نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ نام ہے جو انھوں نے اُن عوامل کو دیا جو وائی فائی کے ہموار چلنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

آپ کا گھر بھی ایسے ’بیڈ بوائز‘ سے بھرا ہو سکتا ہے، جو آپ کی میمز تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔

ان میں سے کچھ رکاوٹیں متوقع ہیں، جیسے موٹی دیواریں۔ جبکہ کچھ دوسری قدرے عجیب و غریب ہیں۔

ان رکاوٹوں کی نشاندہی آپ کے کنکشن کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے اور شاید آپ کی زندگی کی ایک اہم ترین ٹیکنالوجی کے بارے میں آپ کے سوچنے کا انداز بھی بدل دے۔

مائیکرو ویوز

17 سال تک پراسرار ریڈیو سگنلز نے آسٹریلیا کے ماہرینِ فلکیات کو الجھن میں ڈالے رکھا۔ کچھ نے اس کا سبب شمسی شعلوں کو قرار دیا۔

عوام کو شبہ تھا کہ اس کے پیچھے خلائی مخلوق ہے۔

آخرکار انھیں معلوم ہوا کہ اصل وجہ بہت قریب تھی۔ ان کی دوربین دوپہر کے کھانے کے وقت دفتر کے مائیکرو ویو سے نکلنے والی توانائی کی لہریں پکڑ رہی تھی۔

دوربینیں ہی ایسی واحد ٹیکنالوجی نہیں ہیں جو مائیکرو ویوز سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہ آپ کے وائی فائی میں بھی خلل ڈال سکتے ہیں۔

وائی فائی، زیادہ تر وائرلیس مواصلاتی ٹیکنالوجی کی طرح، معلومات کو ریڈیو لہروں کے ذریعے منتقل کرتا ہے۔

حکومتیں زیادہ تر ریڈیو فریکوئنسیوں کو مخصوص مقاصد کے لیے مختص کرتی ہیں، جیسے قانون نافذ کرنے والے ادارے، ہوائی ٹریفک کنٹرول، اور اے ایم اور ایف ایم ریڈیو سٹیشنز۔ لیکن کچھ فریکوئنسیاں ایسی بھی ہیں جو عوام کے بغیر لائسنس استعمال کے لیے کھلی ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر، 2.4 گیگا ہرٹز وائی فائی نیٹ ورکس اور بلوٹوتھ ڈیوائسز میں استعمال ہونے والی عام فریکوئنسیوں میں سے ایک ہے۔

اتفاق سے یہی وہ فریکوئنسی ہے جسے آپ کا مائیکرو ویو بچا ہوا کھانا گرم کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

مائیکرو ویو اوون کو اس طرح ڈھکا جاتا ہے کہ نوڈلز گرم کرنے والی لہریں مشین کے اندر ہی رہیں۔ لیکن ہلز کے مطابق، اگر آپ کا مائیکرو ویو پرانا اور خستہ حال ہے، یا آپ کھانا مکمل گرم ہونے سے پہلے دروازہ کھول دیتے ہیں، تو یہ آپ کے وائی فائی سگنل میں مداخلت کر سکتا ہے۔

ہلز کہتے ہیں: ’یہ مداخلت کے ان اہم ذرائع میں سے ایک ہے جن کا لوگ اکثر ذکر کرتے ہیں۔‘

اسی طرح فلوروسینٹ لائٹس یا گاڑیوں کے اگنیشن سسٹمز سے خارج ہونے والی فریکوئنسیاں بھی یہی مسئلہ پیدا کر سکتی ہیں۔

ہلز کہتے ہیں کہ ’آج کل مائیکرو ویوز پہلے جتنا مسئلہ نہیں رہے۔‘

اب انھیں بہتر انداز مںی تیار کیا جا رہا ہے اور وائی فائی 2.4 گیگا ہرٹز کے بجائے فائیو گیگا ہرٹز پر بھی کام کر سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ کے پاس پرانا وائی فائی نظام یا پرانا مائیکرو ویو ہے، تو جما ہوا کھانا گرم کرنا آپ کی میمز تک رسائی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔

مچھلیوں کے ایکویریم

اگر آپ کے گھر میں پانی میں رہنے والے پالتو جانور ہیں، تو یہ بھی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

ہلز کہتے ہیں ’ریڈیو سگنل فطری طور پر فاصلے کے ساتھ کمزور ہوتا جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ کسی ایسی چیز سے گزرتا ہے جو سگنل کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔ ہم اسے ’شیڈونگ‘ کہتے ہیں۔‘

وائی فائی اور پانی کی آپس میں نہیں بنتی۔ دیگر مسائل کے علاوہ، پانی کے سالمے چھوٹے مقناطیس کی طرح کام کر سکتے ہیں جو ریڈیو سگنل کی طاقت کو کم کر دیتے ہیں۔ اگر آپ اور آپ کے راؤٹر کے درمیان مچھلیوں کا ایکویریم رکھا ہو، تو یہ وائی فائی کے لیے ایک ایسا علاقہ بنا سکتا ہے جہاں سگنل نہ پہنچے۔

ہلز کے مطابق، شیڈونگ وائی فائی نیٹ ورکس میں لوگوں کو پیش آنے والا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور یہ صرف مچھلیوں کے ایکویریم کی وجہ سے نہیں ہوتا۔

ریڈیو سگنلز لکڑی اور ڈرائی وال جیسے بعض مواد سے نسبتاً آسانی سے گزر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کی دیواریں اینٹ یا کنکریٹ جیسے مواد سے بنی ہوں، تو یہ زیادہ مشکل ثابت ہوتا ہے۔

ہلز کہتے ہیں کہ ’اپنے راؤٹر اور اس ڈیوائس کے درمیان ایک سیدھی لکیر کا تصور کریں جسے آپ کنکشن دینا چاہتے ہیں۔‘

سگنل کمرے میں اِدھر اُدھر ٹکرا کر رکاوٹوں کے گرد دوسرے راستے بھی تلاش کر سکتا ہے۔ لیکن جتنی زیادہ رکاوٹیں راستے میں ہوں گی، اتنا ہی مسئلہ بڑھے گا۔

کم فاصلہ وائی فائی کے لیے بھی مددگار ہوتا ہے۔ راؤٹر کو گھر کے وسط میں رکھنا اور اسے زیادہ سے زیادہ اونچائی پر لگانا اچھا ابتدائی قدم ہے۔

اگر اس سے مسئلہ حل نہ ہو، تو آپ وائی فائی ایکسٹینڈر استعمال کر سکتے ہیں، جو سگنل کو مضبوط بناتا ہے، یا اپنے راؤٹر کی جگہ میش نیٹ ورک لگا سکتے ہیں، جو کئی چھوٹے آلات کے ذریعے پورے علاقے میں وائی فائی تقسیم کرتا ہے۔

اس طرح آپ کو بیچاری مچھلیوں کو پریشان بھی نہیں کرنا پڑے گا۔

آئینے

مائیکرو ویوز وائی فائی سگنلز میں خلل ڈال سکتے ہیں، ایکویریم انھیں جذب کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک اور عام مسئلہ بھی ہے ’انعکاس‘۔

ریڈیو دراصل روشنی کی ایک اور شکل ہے۔ اور جس طرح روشنی آئینوں جیسی چمکدار سطحوں سے ٹکرا کر واپس منعکس ہو جاتی ہے، اسی طرح آپ کا وائی فائی سگنل بھی منعکس ہو سکتا ہے۔

کوئی بھی ہموار اور چمکدار سطح، جیسے ٹی وی سکرین، یہی مسئلہ پیدا کر سکتی ہے۔ اگر آپ کی دیواروں کی تعمیر میں دھات کی چادریں استعمال ہوئی ہوں تو بھی یہی مشکل پیش آ سکتی ہے۔

اگر آپ کے گھر میں کوئی ایسا حصہ ہے جہاں وائی فائی سگنل نہیں پہنچتا، تو اپنے اور راؤٹر کے درمیان ایک سیدھی لکیر کا تصور کریں اور سوچیں کہ کہیں وہاں کوئی آئینہ یا بڑا ٹی وی تو موجود نہیں جو سگنل کو دوسری طرف منعکس کر رہا ہو۔

آپ چمکدار سطحوں کی جگہ تبدیل کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ یا اگر آپ اپنے کمرے کی ترتیب میں تبدیلی نہیں کرنا چاہتے، تو یہ ایک اور ایسا مسئلہ ہے جس کے حل میں وائی فائی ایکسٹینڈرز مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سردیاں

بارش عام طور پر آپ کے وائی فائی میں خلل نہیں ڈالتی، جب تک کہ آپ ایسا نیٹ ورک استعمال نہ کر رہے ہوں جو کسی دوسری عمارت میں ہو اور دونوں کے درمیان کھلی جگہ موجود ہو۔ لیکن جب موسم بہت خراب ہو جائے، تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

برف باری کسی گھر، محلے یا یہاں تک کہ پورے قصبے کو سروس فراہم کرنے والے انفراسٹرکچر کو متاثر کر سکتی ہے، چاہے شدید سردی کیبلز کے اندر موجود دھات کو نقصان پہنچائے یا برف جمع ہو کر سیٹلائٹ سگنلز کا راستہ روک دے۔

شدید گرمی بھی اسی طرح کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اور اگر موسم خود مسئلہ پیدا نہ بھی کر رہا ہو، تب بھی نیٹ ورک سست ہو سکتا ہے جب گھر کے تمام لوگ ایک ہی وقت میں اندر بیٹھ کر یوٹیوب دیکھ رہے ہوں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ میمز تک رسائی میں خلل بھی موسمیاتی تبدیلی کے نتائج میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

اس کا حل؟ زمین کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے علاوہ، آپ ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیوں اور مقامی حکام پر زور دے سکتے ہیں کہ وہ پیشگی حفاظتی اقدامات کریں۔

جہاں تک الیکس ہلز کا تعلق ہے، وہ آج کل الاسکا میں رہتے ہیں، جہاں انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک بڑا حصہ دور دراز قصبوں اور دیہات کو انٹرنیٹ سے جوڑنے میں گزارا ہے۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز نے اس کام کو کافی آسان بنا دیا ہے، لیکن ان کے اپنے وائی فائی کے ’بیڈ بوائز‘ بھی ہیں۔

کبھی کبھار، جب برفانی طوفان آپ کی سیٹلائٹ ڈِش کو برف سے ڈھانپ دیتا ہے، تو آپ کو بیلچہ اٹھانا ہی پڑتا ہے۔