آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ویپنگ: ’ای سگریٹ سے دانتوں پر سیاہ دھبے پڑے تو میری مسکراہٹ بھی چِھن گئی‘
- مصنف, پال پیگوٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
ایک سابقہ ڈینٹل نرس، جن کی 120 پاؤنڈ ماہانہ ویپنگ کی لت کے باعث ان کے سامنے کے دو دانت ’کالے‘ ہو گئے، اب وہ اس کے نقصانات سے خبردار کر رہی ہیں۔
برطانیہ میں ویلز کے علاقے سوانزی سے تعلق رکھنے والی 41 سالہ سٹیسی گارڈنر نے سنہ 2017 میں ویپنگ شروع کی اور اس کی عادی ہو گئیں۔ بعض اوقات وہ صرف ایک ہی دن میں 600 پف والا عام ویپ استعمال کر لیتی تھیں۔
انھوں نے چھ ماہ قبل اس وقت اچانک ویپنگ چھوڑ دی، جب ایک ڈینٹسٹ نے انھیں بتایا کہ ان کے سامنے کے دونوں دانتوں کے اوپری حصے پر موجود دو سیاہ دھبے غالباً ویپنگ کی وجہ سے ہیں۔
انھوں نے کہا ’میں ہمیشہ دن میں دو بار دانت صاف کرتی تھی، میں مٹھائیاں نہیں کھاتی، اور شروع میں مجھے اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ مسئلہ کس وجہ سے ہو رہا ہے۔‘
خراب دانتوں کو ڈھانپنے کے لیے انھوں نے نقلی خول چڑھائے، اس پر 200 پاؤنڈز خرچ ہوئے اور سٹیسی گارڈنر نے اپنی مسکراہٹ واپس حاصل کی۔
انھوں نے کہا: ’مجھے بتایا گیا ہے کہ ویپس دانتوں اور مسوڑھوں کی اوپری لائن کے اردگرد ایک تہہ چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی چیز نقصان کا باعث بنتی ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پانچ سال قبل سب سے پہلے اپنے سامنے والے دائیں دانت کے اوپری حصے پر ایک سیاہ نشان دیکھا، لیکن اس وقت انھیں یہ خیال ہی نہیں آیا کہ اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے۔
ویپنگ چھوڑنے کے بعد سٹیسی گارڈنر نے کہا کہ انھیں احساس ہوا کہ وہ دراصل اسے پسند ہی نہیں کرتی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر نے ویپ کی طلب کم کرنے کے لیے سٹیسی کو نکوٹین پیچ تجویز کیے، لیکن ان کے مطابق اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔
انھوں نے کہا کہ اسے چھوڑنا بہت مشکل تھا۔ میں نکوٹین کی عادی نہیں تھی، لیکن یہ میرے معمول کا حصہ بن چکی تھی۔ 600 پف والا عام ویپ بعض اوقات صرف ایک ہی دن میں ختم ہو جاتا تھا۔
ان کے مطابق یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ کتنی مقدار میں ویپنگ کر رہی ہیں۔ ’میرے خیال میں سگریٹ کے معاملے میں انسان حساب رکھ سکتا ہے کہ وہ کتنے پی رہا ہے۔‘
سٹیسی گارڈنر نے بتایا کہ ’یہ مشکل تو تھا لیکن ایک دن اچانک ہی میں نے ویپنگ مکمل طور پر چھوڑ دی۔‘
سابقہ ڈینٹل نرس نے بتایا کہ دانتوں کے نقلی خول نے اعتماد واپس لانے میں ان کی مدد کی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں گھر میں انھیں نہیں پہنتی، لیکن اگر باہر جانا ہو تو لگا لیتی ہوں۔ مجھے باہر جانا اچھا نہیں لگتا تھا اور لوگوں سے بات کرنا بھی نا پسند تھا۔ بات کرتے وقت میرے منھ کی بناوٹ کی وجہ سے وہ سیاہ نشان بہت نمایاں نظر آتا تھا۔ اسی کی وجہ سے تصاویر بنواتے ہوئے میں ہمیشہ ہونٹ سکیڑ لیتی تھی اور کبھی مسکرایا نہیں کرتی تھی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ویپس سے متعلق بحث میں زیادہ زور پھیپھڑوں پر پڑنے والے مضر اثرات پر دیا جاتا ہے، جبکہ دانتوں پر اس کے اثرات کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اگر یہ کوئی 15 سالہ بچہ ہو تو وہ 20 سال کی عمر تک اسی حالت میں پہنچ سکتا ہے جس میں اس وقت میں ہوں اور مجھے نہیں لگتا کہ اس بارے میں لوگوں میں مطلوبہ آگاہی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر اس بارے میں کہ ویپس کی مٹھاس اور دانتوں پر رہ جانے والی تہہ کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔‘
نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ویپنگ ’سگریٹ نوشی کے مقابلے میں بہت کم خطرات رکھتی ہے۔‘
ادارے کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’فروخت کے لیے دستیاب تمام مصنوعات کی اطلاع میڈیسنز اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی کو دینا لازمی ہے، جس میں تمام اجزا کی تفصیلی فہرست شامل ہوتی ہے۔‘
مزید ہدایت میں کہا گیا کہ ’ہمیشہ ویپنگ کی مصنوعات کسی معتبر فراہم کنندہ سے خریدیں، جیسے کسی مخصوص ویپ شاپ، فارمیسی، سپر مارکیٹ یا برطانیہ میں قائم آن لائن ریٹیلر سے، تاکہ وہ برطانیہ کے حفاظتی اور معیاری ضوابط کے تحت ہوں۔‘