آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’انڈین کاکروچ ہم سے ہی کچھ سیکھ لیں‘
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, صحافی و تجزیہ کار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
کاکروچ جنتا پارٹی کی مانگیں بالکل منصفانہ ہیں۔ لاکھوں بچوں کے مستقبل کا انحصار انٹری ٹیسٹ میں کامیابی یا ناکامی سے جڑا ہے۔ اگر امتحانی پرچہ افشا ہو کے گلی گلی بکنے لگے اور پھر پورا امتحان ہی منسوخ ہو جائے تو ایک 15، 16، 17 برس کے بچے پر کیا بیتتی ہے۔
یہ وہی جانتا ہے یا پھر خون پسینہ ایک کر کے اس بچے کو ٹیسٹ میں بٹھانے والے والدین جانتے ہیں۔
چنانچہ انڈیا کی نئی نسل کا جذباتی ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ مگر مجھ جیسے خبطی ہرگز ناامید نہیں۔ ایک دن یہ بچے بھی ہمارے بچوں کی طرح آئیڈیل ازم کے خیمے سے باہر نکل آئیں گے اور ریاست کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے زندہ رہنے کے متبادل راستے ڈھونڈھ لیں گے۔
کبھی ہم بھی اتنے ہی جذباتی اور دنیا بدل ڈالنے کے خواب دیکھنے والوں میں شامل تھے۔ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی سمیت جو پاکستانی طلبا و طالبات اس وقت 70-80 برس کے ہیں۔ انھیں یاد ہوگا کہ 1952-1953 میں دارالحکومت کراچی کی سڑکوں پر فیسوں میں اضافے کے خلاف چلنے والی طلبا تحریک کا یہ سب حصہ تھے اور پھر وہ جیت گئے۔
ڈھاکہ کی سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں طلبا آٹھ شہادتوں کی قیمت پر بنگالی کو قومی زبان کا درجہ دلانے میں کامیاب ہو گئے۔
انہی طلبا نے ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم سنبھال کے آمریت کی چولیں ہلا دیں اور پھر انہی طلبا نے 1968-1969 میں ڈکٹیٹر کو چلتا کردیا۔
بھٹو اور مجیب نے اسی سٹوڈنٹ پاور کو اپنے لیے استعمال کیا۔ مگر پھر کسی ایک دن فیصلہ ہوا کہ نوآبادیاتی خو بو والا اشرافی نظام بچانے کے لئے یونین کی آزادی پسند سیاست کو لگام دینا ضروری ہے۔
چنانچہ طلبا اور مزدور یونینوں کا سخت وقت شروع ہوا۔ قوانین میں بتدریج ردوبدل کر کے پہلے بے دست و پا کیا گیا اور پھر ان کا وجود بے معنی ہو گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طلبا اور مزدور تحریکیں قومی سیاست کی نرسریاں تھیں۔ جب نرسریاں دیمک زدہ ہوئیں تو ہر شعبے میں دولے شاہ کے چوہوں کی بھرمار ہو گئی۔ انھیں کنٹرول کرنا آسان تھا۔
اس حکمتِ عملی کے ثمرات ہر جانب بکھرے پڑے ہیں۔ بولنے، لکھنے، اختلاف کرنے، بنیادی حقوق کا نعرہ لگانے، احتجاجی جلوس نکالنے، جلسے کرنے، مارچ کرنے جیسے تمام حقوق جو 1970 کی دہائی تک حلال سمجھے جاتے تھے، آج وہ غداری، سماج دشمنی اور سرکار کے خلاف عوام کو اکسانے کے بریکٹ میں ڈال دیے گئے ہیں۔
کارٹیلائزڈ اشرافیہ اور ان کی آل اولاد کے لیے 21ویں صدی کی تعلیمی و طبی سہولتوں، روزگاری مواقع اور اختیاراتی و مراعاتی نظام کے جال کے اردگرد بظاہر قانونی شیشے کی فصیل ہے۔
اس کے باہر کھڑے کروڑوں لوگ اس نظام کے دوام کا خام مال ہیں۔ انھیں بار بار جتایا جاتا ہے کہ اگر یہ نظام نہ ہو تو جو تھوڑا بہت انھیں میسر ہے وہ بھی نہیں ہو گا۔ مگر کیا کیا میسر ہے؟ یہ سوال کرنا ہی غداری ہے۔
ایسا نہیں کہ سب کے سب محرومین شیشے کی دیوار کے باہر کھڑے رال ٹپکا رہے ہیں۔ ان میں سے جو سیانے کھنچے ہوئے دائرے کے اندر کھیلنے کے لیے ’غیر مشروط بیعت‘ پر راضی ہیں ان کے لیے اندر آنے کا دروازہ کچھ دیر کے لئے وقتاً فوقتاً کھولا بھی جاتا ہے۔
سنتے ہیں 18ویں صدی تک برطانیہ میں خواص کے لیے مختص نیلا اور سرخ رنگ عام آدمی نہیں پہن سکتا تھا۔ اس کا لباس بھورا تھا۔ جنوبی افریقہ کے سفید فام پر لازم نہیں تھا کہ وہ شناختی کارڈ جیب میں رکھیں۔ البتہ سیاہ فام اکثریت شناختی کارڈ کے بغیر نقل و حرکت نہیں کر سکتی تھی۔
ہمارے ہاں بظاہر ایسی کوئی روایت یا قانون نہیں مگر غیر اعلانیہ اپارتھائیڈ کی اس سے روشن مثال کیا ہو گی کہ نیلا رنگ سماجی برہمنوں کے لیے اور سبز شودروں کے لیے مختص ہو چکا ہے (اپنا اپنا پاسپورٹ دیکھ لیں)۔
یہ سبز پاسپورٹ بھی آپ کا حق نہیں بلکہ آپ کو دی جانے والی رعایت ہے جو نیلے پاسپورٹ والے قانون ساز اور اس قانون پر عمل کروانے والے آپ سے کسی بھی وقت واپس لے سکتے ہیں، منسوخ یا ضبط کر سکتے ہیں۔
انڈین ’کاکروچ‘ تو ابھی نئے نئے ہیں اسی لیے چند پرچے لیک ہونے پر سیخ پا ہیں۔ اگر وہ ہماری کاکروچ ساز فیکٹریاں دیکھ لیں تو ٹھنڈے پڑ جائیں۔ ہمارے ہاں رونا رویا جاتا ہے کہ دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے وہ ہیں جنھوں نے کبھی سکول کا منہ ہی نہیں دیکھا۔ مگر جن کروڑوں بچوں نے سکولوں کا منہ دیکھ بھی لیا ہے انھیں کس معیار کی تعلیم اور سہولتیں حاصل ہیں؟
انڈیا کا لڑکا لڑکی بھونچکا ہے کہ پیپر کیسے لیک ہوگیا۔ وزیرِ تعلیم استعفیٰ دے۔ ہمارے ہاں میڈیکل کا انٹری ٹیسٹ ہو، بیوروکریسی کے مقابلے کا امتحان ہو، میٹرک یا انٹر کا پرچہ ہو یا اے اور او لیول کا امتحان۔ اگر کسی سیزن میں لیک نہ ہو تو حیرت ہوتی ہے۔ ایسے ہر سکینڈل کے بعد وزیرِ تعلیم تو رہا ایک طرف، ایک امتحانی کلرک بھی استعفی دے دے تو معجزہ سمجھیے گا۔
اب تو یہ کروڑوں روپے کی انڈسٹری ہے۔ جانے ایف بی آر نے اب تک اس صنعت کو ٹیکس سے مستثنیٰ کیسے کر رکھا ہے؟
جو پرچے لیک نہیں بھی ہوتے، ان کی مارکنگ کیسے ہوتی ہے اور کون کرتا ہے۔؟ مارکنگ پڑھ کے کی جاتی ہے یا جواب کی لمبائی چوڑائی ناپ کے ہوتی ہے؟
فارم 47 کا نام تو عام آدمی نے اب سنا ہے۔ اکثر ممتحن عرف امتحانی جانچ کے اہلکار مارک شیٹس جس طرح مرتب کرتے ہیں، فارم 47 کا ماڈل اس کے سامنے کچھ بھی نہیں۔
ان کاکروچ فارمز سے نکلنے والے بچے کل ملک سنبھالیں گے؟ تب تک کاکروچ فیکٹریاں منظور کرنے، بنانے اور چلانے والے جانے کس کینیڈا، امریکہ، آسٹریلیا یا یورپ میں بس چکے ہوں گے۔
ان میں سے کسی ایک کی قلعہ بند اولاد نے سکول کے نام پر وہ تعلیمی کنسنٹریشن کیمپ نہیں دیکھے جو ان کے بااختیار بزرگوں نے ہمارے اور آپ کے بچوں کے لیے ملک کے طول و عرض میں خواندگی پھیلانے کے نام پر کھول رکھے ہیں۔