’میرے فٹنس ٹریکر کو مجھ سے پہلے پتا چل گیا تھا کہ میں حاملہ ہوں‘

    • مصنف, اشیتھا ناگیش
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 8 منٹ

راویکا اپنے شوہر کے ساتھ سالگرہ کی تعطیلات منا رہی تھیں جب انھیں اپنے فٹنس ٹریکر سے ایک غیر معمولی اطلاع موصول ہوئی۔

ان کے اُورا رنگ نے بتایا کہ ان کا ہیلتھ سکور خراب ہے۔ ان کی دل کی دھڑکن بڑھ گئی تھی، جسمانی درجہ حرارت تیز تھا اور دل کی دھڑکن میں تغیر کم ہو گیا تھا۔

تاہم راویکا خود کو بالکل ٹھیک محسوس کر رہی تھیں۔

جب ایک ہفتے بعد بھی اعدادوشمار میں بہتری نہ آئی تو ویسٹ مڈلینڈز سے تعلق رکھنے والی 34 سالہ سالیسٹر نے آن لائن تحقیق کی اور خواتین کی ایک ایسی کمیونٹی دریافت کی جن کا کہنا تھا کہ ان کے فٹنس ٹریکرز نے جمع کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر انھیں حاملہ ہونے کے اشارے دیے تھے۔

ایک ہفتے بعد ان کا حمل کا ٹیسٹ مثبت آ گیا۔

لیکن پیٹ میں درد اور فون پر موصول ہونے والی ایک اطلاع، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا جسم شدید دباؤ کا شکار معلوم ہوتا ہے، کے بعد وہ ڈاکٹر کے پاس گئیں۔

انھیں بتایا گیا کہ 10 دن بعد دوبارہ آئیں تاکہ یہ معلوم کرنے کے لیے ٹیسٹ کیے جا سکیں کہ حمل صحت مند ہے یا نہیں۔

یہ انتظار اذیت ناک تھا اور اس دوران وہ بے چینی کے عالم میں اپنے فٹنس ٹریکر کے اعدادوشمار بار بار چیک کرتی رہیں، ہر روز صبح چار بجے جاگ جاتیں۔

’صرف اپنی ایپ ریفریش کرنے کے لیے تاکہ دیکھ سکوں کہ کیا میرے اعدادوشمار اب بھی کم ہیں، کیا میرا درجہ حرارت اب بھی بلند ہے۔ میں نے امید کا دامن تھاما ہوا تھا کہ یہ ایک صحت مند حمل ہو گا۔‘

ان کے مطابق یہ اعدادوشمار ایک ’جنون‘ بن گئے تھے، لیکن ’مجھے واقعی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے زندگی اور موت کا معاملہ ہو۔‘

بہت سی خواتین کے لیے حمل کی پہلی نشانی یہ ہوتی ہے کہ ماہواری متوقع وقت پر نہیں آتی۔ اسی وقت کے آس پاس حمل کا ٹیسٹ کرنا بھی ممکن ہوتا ہے۔

چند ایسے ٹیسٹوں کے علاوہ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ حمل کو ابتدائی مرحلے میں شناخت کر سکتے ہیں، زیادہ تر ٹیسٹ ماہواری نہ آنے کے پہلے دن تک ہارمونز میں تبدیلی کو نہیں پہچان سکتے۔

لیکن راویکا ان سینکڑوں خواتین میں سے ایک ہیں جو آن لائن یہ بتا رہی ہیں کہ وہ اس سے پہلے ہی اپنے فٹنس ٹریکرز کے ڈیٹا کے ذریعے یہ اشارے دیکھ رہی ہیں۔

فٹنس ٹریکرز، جن میں سمارٹ رنگ، سمارٹ واچز اور سینے پر باندھے جانے والے ٹریکرز شامل ہیں، برطانیہ میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں۔

YouGov کی تحقیق کے مطابق جنوری 2026 میں برطانیہ کے 36 فیصد بالغ افراد فٹنس ٹریکر رکھتے تھے اور استعمال کرتے تھے، جو جولائی 2019 کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تناسب ہے۔

فن لینڈ اور امریکہ کی کمپنی اورا سمارٹ رنگ کی مصنوعات اپنی قسم میں مارکیٹ میں سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ اس مارکیٹ میں انڈیا کی الٹرا ہیومن اور ہانگ کانگ کی رنگ کون بھی شامل ہیں۔

حمل کے ساتھ ساتھ اسقاطِ حمل کی پیش گوئی

حمل کی ایک اہم نشانی جسمانی درجہ حرارت میں تبدیلی ہے، اسی لیے جسمانی درجہ حرارت کی نگرانی کرنے والے ٹریکرز اُن افراد میں مقبول ہیں جو حمل ٹھہرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔

عام ماہانہ سائیکل میں عورت کے جسم کا درجہ حرارت ماہواری سے کچھ پہلے تک بلند رہتا ہے، پھر اچانک کم ہو جاتا ہے۔

ابتدائی حمل میں جسمانی درجہ حرارت عموماً بلند ہی رہتا ہے۔

اگر کوئی فٹنس ٹریکر جسمانی درجہ حرارت ناپتا ہے تو وہ اس ابتدائی علامت کو شناخت کر سکتا ہے۔

اپنے اعداد و شمار کے ساتھ ساتھ راویکا نے ریڈ اِٹ پر ایسی خواتین کی پوسٹس بھی پڑھنا شروع کیں جن کا کہنا تھا کہ ان کے اورا رنگ نے ’اہم علامات‘ کے ذریعے نہ صرف حمل بلکہ حمل ضائع ہونے کی بھی پیش گوئی کی تھی۔

32 سالہ صوفیہ بھی ان ہی خواتین میں شامل تھیں۔ ان کا دو مرتبہ حمل ضائع ہوا اور دونوں مواقع پر انھیں اپنی اورا رنگ کے ڈیٹا سے اس کا اندازہ ہوا تھا۔ پھر وہ تیسری بار حاملہ ہوئیں اور اب ان کا پانچ ماہ کا بیٹا ہے۔

گذشتہ سال جب وہ پہلی بار حاملہ ہوئیں تو وہ ہر صبح اپنی ایپ چیک کرتی تھیں۔

انھوں نے کہا: ’جب میں جاگتی اور درجۂ حرارت کی لائن کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھتی تو مطمئن ہوتی۔ پھر ایک صبح میں نے ایپ میں دیکھا کہ میرا درجۂ حرارت کم ہو گیا ہے اور تب مجھے احساس ہوا کہ کچھ غیر معمولی ہے۔‘

’جب میرا حمل ضائع ہوا تو میں کسی حد تک ذہنی طور پر پہلے ہی تیار تھی، کیونکہ میں نے ڈیٹا میں اس کے آثار دیکھ لیے تھے۔‘

تین ماہ بعد یہی صورتحال دوبارہ پیش آئی۔ اس کے بعد صوفیہ اور ان کے شوہر نے کچھ عرصے کے لیے حمل ٹھہرانے کی کوشش سے وقفہ لینے کا فیصلہ کیا۔

تاہم اسی وقفے کے دوران انھیں اپنی اورا رنگ سے ’معمولی جسمانی دباؤ کی علامات‘ کی اطلاع موصول ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ ان کا جسمانی درجۂ حرارت دوبارہ بلند ہو گیا ہے۔ انہوں نے حمل کا ٹیسٹ کیا، جو مثبت آیا۔

اگرچہ یہ حمل صحت مند ثابت ہوا لیکن ابتدائی ہفتوں میں صوفیہ شدید بے چینی کا شکار رہیں اور بار بار اپنے ڈیٹا کا جائزہ لیتی رہیں۔

انھوں نے کہا: ’میں سوچتی تھی، ’یا خدا، کیا یہ دوبارہ ہونے والا ہے؟‘ مجھے یاد ہے کہ میں صبح چار یا پانچ بجے جاگ جاتی تھی اور فوراً اپنی ایپ چیک کرتی تھی تاکہ دیکھ سکوں کہ کہیں میرا درجۂ حرارت کم تو نہیں ہو گیا۔‘

’میں اس ایک ڈیٹا پوائنٹ کے بارے میں اس قدر حساس ہو گئی تھی کہ جب حمل کو سات یا آٹھ ہفتے ہو گئے تو مجھے اپنی انگوٹھی اتارنی پڑی، اور میں نے پہلے سہ ماہی (ٹرائمسٹر) کے دوران اسے بالکل نہیں پہنا۔‘

بڑھتا ہوا اضطراب

لندن کے یونیورسٹی کالج ہسپتال میں تولیدی طب کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر اسٹیورٹ لیوری کا کہنا ہے: ’لوگ فطری طور پر اس ٹیکنالوجی کا استعمال اس لیے کر رہے ہیں کہ وہ اپنے جسم اور صحت کے بارے میں بہتر سمجھ حاصل کر سکیں اور ممکنہ تبدیلیوں یا مسائل کو جتنا جلد ممکن ہو پہچان سکیں، کیونکہ اگر آپ حمل کی منصوبہ بندی کر رہے ہوں تو اس کے نتائج آپ کی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں‘

تاہم انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا: ’ممکن ہے ہم چلنا سیکھنے سے پہلے ہی دوڑنے کی کوشش کر رہے ہوں۔‘

ان کے مطابق: ’شاید ہمیں ان آلات کے قابلِ اعتماد ہونے کے بارے میں کہیں زیادہ ڈیٹا اور تحقیق کی ضرورت ہے۔ ورنہ صورتِ حال یہ ہو سکتی ہے کہ لوگوں کی بے چینی کی سطح بہت زیادہ بڑھ جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ایسی ٹیکنالوجی، ایپلی کیشنز یا پہننے کے قابل آلات (ویئریبل ڈیوائسز) استعمال کریں گے تاکہ ان معاملات کا جلد پتہ چل سکے۔ لیکن میرے خیال میں ان کے ساتھ ایک واضح تنبیہ بھی ہونی چاہیے کہ ان کی درستگی پر کس حد تک بھروسا کیا جا سکتا ہے۔‘

حمل کے ابتدائی مراحل میں رنگ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو بار بار چیک کرنے کے نتیجے میں خواتین میں پیدا ہونے والی بے چینی کے بارے میں پوچھے جانے پر اورا کی خواتین کی صحت سے متعلق کلینیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر کرس کری نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ’حیاتیاتی اعداد و شمار کی نگرانی ہو یا نہ ہو، حمل ایک ایسا مرحلہ ہوتا ہے جس میں غیر یقینی کی کیفیت موجود رہتی ہے اور بہت سی خواتین، خصوصاً پہلی بار حاملہ ہونے والی خواتین، اس بارے میں واضح معلومات نہیں رکھتیں کہ کون سی علامات معمول کے مطابق ہیں اور کون سی نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر خواتین خود کو ذہنی دباؤ یا بے چینی کا شکار محسوس کریں تو کمپنی ’صارفین کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ کچھ عرصے کے لیے ایپ کا استعمال روک دیں، جبکہ اورا رنگ پس منظر میں ڈیٹا اکٹھا کرنے اور تجزیے فراہم کرنے کا عمل جاری رکھتی ہے۔‘

انہوں نے مزید واضح کیا: ’یہ رنگ معاونت فراہم کرنے کا ایک ذریعہ ہے، آپ کی طبی نگہداشت کرنے والی ٹیم کا متبادل نہیں۔‘

راویکا کا حمل بدقسمتی سے ضائع ہو گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ جلد دوبارہ حاملہ ہونے کی کوشش کرنا چاہتی ہیں، لیکن اس تجربے نے انھیں اس بات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا وہ آئندہ بھی اپنا ہیلتھ ٹریکر استعمال کریں گی یا نہیں۔

انھوں نے کہا: ’میں خود کو کبھی زیادہ فکر مند شخص نہیں سمجھتی تھی، لیکن اب میرا نقطۂ نظر بدل گیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر آئندہ کبھی مجھے احساس ہو کہ شاید میں حاملہ ہوں اور اسی دوران میرے اعداد و شمار کم دکھا رہے ہوں تو جیسے ہی حمل کا ٹیسٹ مثبت آئے گا، میرے لیے بہتر یہی ہوگا کہ میں یہ رنگ اتار دوں۔‘