ریٹائرمنٹ پر میسی کی جذباتی تقریر اور ساتھی کھلاڑیوں کا خراجِ تحسین: ’میں نہیں چاہتا کہ یہ لمحہ کبھی ختم ہو‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ارجنٹینا کے مشہور فٹبالر لیونل میسی کے شاندار قومی کیریئر کا اختتام بیونس آئرس میں بینن کے خلاف ایک دوستانہ میچ میں گول کے ساتھ ہوا۔
میسی کا کہنا ہے کہ وہ 'شکر اور فخر محسوس کرتے ہیں اور مطمئن' ہیں۔
39 سالہ میسی نے ارجنٹینا کے لیے 208ویں اور اپنے آخری بین الاقوامی میچ میں دوسرے ہاف میں پنالٹی پر گول کیا۔
اس میچ کے دوران انھوں نے 48ویں منٹ میں نکولس اوٹمنڈی اور 61ویں منٹ میں نکولس پاز مارٹینز کو گول میں معاونت بھی فراہم کی۔
ارجنٹینا نے اس دوستانہ میچ میں بینن کو صفر کے مقابلے میں تین گول سے شکست دی۔
میسی نے رواں برس اگست میں بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔
وہ اپنے والد خورخے کی وفات کے بعد پہلی بار ارجنٹائن کی جانب سے کھیل رہے تھے۔ ان کے والد 68 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد وفات ہو گئی تھی۔
میچ کے اختتام پر انھوں نے شائقین سے تقریباً 10 منٹ طویل خطاب کیا۔ اس دوران ان کے بعض ساتھی کھلاڑی، جن میں مانچسٹر سٹی کے اینزو فرنانڈیز بھی شامل تھے، آبدیدہ ہو گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دوران میسی نے اعتراف کیا کہ وہ میدان چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اس وقت میرے دل میں بے شمار جذبات ہیں۔ یقیناً میں بہت سی ایسی باتیں بھول رہا ہوں جو میں کہنا چاہتا تھا کیونکہ یہ میرے لیے بہت مشکل لمحہ ہے۔ سب سے پہلے میرے ذہن میں اپنے والد کا خیال آتا ہے۔
’میں یہاں سے شکرگزاری، فخر اور اطمینان کے احساس کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں۔ ہر چیز کے لیے آپ سب کا شکریہ۔‘
میسی میچ میں پورے 90 منٹ تک گراؤنڈ میں رہے۔ اس کے بعد مونیومینٹل سٹیڈیم میں موجود 85 ہزار شائقین کے لیے لیزر لائٹ شو، براہِ راست موسیقی اور خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
اگست میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے میسی کا کہنا تھا کہ یہ ایک تکلیف دہ فیصلہ ہے، لیکن ’اب وقت آ گیا ہے۔‘
آٹھ مرتبہ بیلن ڈی آور جیتنے والے میسی نے بتایا کہ انھوں نے ورلڈ کپ فائنل میں ارجنٹینا کی سپین کے ہاتھوں فائنل میں شکست کے دو دن 21 جولائی کو اپنی ریٹائرمنٹ کا پیغام تحریر کر لیا تھا۔
میسی نے 2005 میں ہنگری کے خلاف ایک دوستانہ میچ کے دوران 63ویں منٹ میں متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آ کر ارجنٹینا کے لیے اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔
تاہم میسی کو میدان میں اترے ایک منٹ بھی نہیں ہوا تھا کہ انھیں واپس جانا پڑا جب ان کا بازو حریف کھلاڑی ولموش وانژاک سے ٹکرا گیا اور ریفری نے انھیں سیدھا ریڈ کارڈ دکھا دیا۔
بین الاقوامی فٹبال میں مشکل آغاز کے باوجود میسی بعد میں کھیل کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے لگے۔
انھوں نے ارجنٹینا کے ساتھ ایک ورلڈ کپ اور دو کوپا امریکہ ٹائٹل جیتے۔
وہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں 21 گولوں کے ساتھ دوسرے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں، جبکہ پہلے نمبر پر فرانس کے کائلیان ایمباپے ہیں جن کے 22 گول ہیں۔
اسی طرح بین الاقوامی فٹبال میں مجموعی گولوں کی فہرست میں بھی وہ 126 گولوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں، جہاں ان سے آگے ان کے ہم عصر اور روایتی حریف پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو ہیں، جن کے نام 146 گول ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'میرے پاس اس جرسی کا شکریہ ادا کرنے کے سوا کچھ'
میسی نے اپنے آخری بین الاقوامی میچ کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب میرے پاس اس جرسی کا شکریہ ادا کرنے کے سوا کچھ نہیں بچا۔‘
’20 برس تک، حتیٰ کہ بدترین ادوار میں بھی، میں نے کبھی جدوجہد کرنا، آگے بڑھنا، اپنی پوری صلاحیت لگانا اور یہاں تک پہنچنے کے لیے پوری طاقت لگا دی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اب ارجنٹینا کی قومی ٹیم کا حصہ نہ رہنا میرے لیے بہت تکلیف دہ ہوگا۔‘
'اگر یہ فیصلہ میرے ہاتھ میں ہوتا تو میں پوری زندگی یہاں رہنا پسند کرتا، کیونکہ ارجنٹائن کے لیے کھیلنا دنیا کی سب سے خوبصورت چیز ہے۔‘
’میرا خیال ہے کہ آج میں شاید پہلے سے کہیں زیادہ بات کر رہا ہوں، کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ یہ لمحہ کبھی ختم ہو۔‘
’لیکن میرا خیال ہے کہ اب میرے ریٹائر ہونے کا وقت آ گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ورلڈ کپ کے دوران جو کچھ ہوا اس نے ہمارے لیے بہت مشکلات پیدا کیں۔
’ہم جب فائنل تک پہنچے تو ہم میں زیادہ توانائی نہیں بچی تھی، لیکن ہم نے ہمیشہ کی طرح آخری لمحے تک جدوجہد جاری رکھی۔‘
’ہم ایک بار پھر ٹرافی جیتنے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے، اور ہمارے بارے میں جو کچھ بھی کہا گیا، اس کے باوجود کچھ عجیب نہیں ہوا۔ انگلینڈ کے خلاف میچ نے ہم سے بہت زیادہ توانائی لے لی کیونکہ ہم نے اس میں اپنا سب کچھ جھونک دیا تھا۔‘
’2022 میں ہمارا خواب صرف میرا ذاتی خواب کی تعبیر نہیں بلکہ پورے ملک کے خواب کو حقیقت بنانا تھا، یعنی ایک بار پھر عالمی چیمپیئن بننا۔ اور ہم نے یہ کر دکھایا۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تاہم قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کے باوجود میسی میجر لیگ سوکر (ایم ایل ایس) کی ٹیم انٹر میامی کے لیے کھیلنا جاری رکھیں گے۔ ان کا معاہدہ 2028 کے سیزن کے اختتام تک برقرار ہے۔
بیونس آئرس میں جشن کی فضا سے بھرپور اس رات کے دوران کئی مواقع پر میسی جذبات سے مغلوب دکھائی دیے۔
وہ سٹیڈیم جاتے ہوئے ٹیم بس میں آنسو پونچھتے ہوئے دکھائی دیے، جبکہ قومی ترانے کے دوران بھی وہ کافی جذباتی نظر آئے۔
کک آف سے قبل شاندار آتش بازی کے ذریعے کھلاڑیوں کا استقبال کیا گیا، جبکہ میدان پر ارجنٹینا کی ٹیم کی دیوہیکل جرسی بچھائی گئی تھی جس پر میسی کا مشہور نمبر 10 اور ہسپانوی زبان کا لفظ گراسییس (شکریہ) درج تھا۔
میچ شروع ہونے کے 10 منٹ بعد کھیل ایک بار پھر روک دیا گیا تاکہ مزید آتش بازی کا مظاہرہ کیا جا سکے۔
اس موقع پر میسی کے اعزاز میں شائقین نے کھڑے ہو کر بھرپور داد دی، جبکہ بینن کے تمام کھلاڑیوں نے ان سے مصافحہ بھی کیا۔
جب یہ تمام تقریبات ختم ہوئیں تو میسی اپنے اسی روپ میں نظر آئے جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں اور بینن کے خلاف انھوں نے بھرپور کھیل پیش کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’میں زندگی بھر ان کا شکرگزار رہوں گا‘
برازیل کے فارورڈ اور میسی کے سابق بارسلونا اور پیرس سینٹ جرمین کے ساتھی نیمار نے ایکس پر لکھا کہ 'صرف ارجنٹینا ہی آپ کا شکر گزار نہیں بلکہ پوری دنیا فٹبال کے لیے آپ کی خدمات پر آپ کی ممنون ہے۔
'آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھے فٹبال سے اور بھی زیادہ محبت کرنا سکھایا۔ آپ کے خلاف کھیلنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی، اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ کے ساتھ تاریخ کا حصہ بننے کا موقع ملا۔'
میسی کے قریبی دوست اور قومی و کلب سطح پر ان کے ساتھی کھلاڑی روڈریگو ڈی پال کا کہنا تھا کہ میسی نے نہ صرف مجھے ایک فٹبالر کے طور پر بلکہ ایک انسان کے طور پر بھی بہتر بننے میں مدد دی۔
'میں ایک بہتر انسان، بہتر کھلاڑی، بہتر والد اور بہتر دوست بنا۔
'میں انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ میرے بھائی ہیں اور ان کا دل بہت بڑا ہے۔'
ارجنٹینا کے سابق کھلاڑی اینخل دی ماریا کا کہنا ہے کہ 'انھیں اس قدر خوش اور مطمئن دیکھنا کہ انھیں معلوم ہے کہ انھوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائی لگائی ہیں، یہی چیز ہم سب کے لیے خوشی کا باعث ہے۔
'میں زندگی بھر ان کا شکرگزار رہوں گا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میسی کے بعد 10 نمبر جرسی کون پہنے گا؟
لیونل میسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب ارجنٹینا کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ 10 نمبر جرسی کون پہنے گا۔
ارجنٹینا کے کوچ لیونل سکالونی فی الحال اس بحث کو فوری طور پر آگے بڑھانے سے گریز کر رہے تھے۔ فیفا کی ویب سائٹ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق سکالونی نے کہا ہے کہ بولیویا اور برکینا فاسو کے خلاف میچوں میں کوئی بھی کھلاڑی نمبر 10 کی جرسی نہیں پہنے گا۔
سکالونی پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ کرسٹیان رومیرو ارجنٹینا کے نئے کپتان ہوں گے، جبکہ ایمیلیانو مارٹینیز قیادت کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے اگلی ترجیح ہوں گے۔ تاہم ارجنٹائن کی مشہور نمبر 10 کی جرسی کس کھلاڑی کو ملے گی، یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے۔
ڈیاگو میراڈونا کے دور کے بعد ایریل اورٹیگا ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنھوں نے یہ نمبر اپنے نام کیا۔ لیکن 2009 میں جب میسی نے نمبر 10 کی جرسی سنبھالی تو پھر اس بات میں کبھی کوئی ابہام نہیں رہا کہ یہ جرسی کس کی شناخت بن چکی ہے۔ اب میسی کی ریٹائرمنٹ کے بعد ارجنٹینا فٹبال ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔
ماضی میں ماریو کیمپیس، ڈیاگو میراڈونا اور لیونل میسی نے اس جرسی سے جڑی روایات کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ بائیں پاؤں سے کھیلنے والے یہ تینوں غیر معمولی کھلاڑی اپنی ڈرِبلنگ، گیند پر شاندار کنٹرول، تخلیقی صلاحیتوں اور ذہانت کے باعث ارجنٹینا کے فٹبال کی علامت بن گئے۔
میسی کے بعد جن کھلاڑیوں کے متعلق قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ انھیں نمبر 10 کی جرسی مل سکتی ہے ان میں نیکو پاز اور فرانکو ماستانتوونو کے نام سرِ فہرست ہیں۔
بائیں پاؤں سے کھیلنے والے 22 سالہ مڈفیلڈر نیکو پاز اپنی تخلیقی صلاحیت، کھیل کے دوران مؤثر نقل و حرکت اور کھیل کی عمدہ سمجھ بوجھ کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ان کے کھیل میں مہارت اور تحمل کا ایسا امتزاج دکھائی دیتا ہے جو انھیں حتمی حملوں میں فرق پیدا کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ وہ نہ صرف مواقع تخلیق کر سکتے ہیں بلکہ فیصلہ کن لمحات میں میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
نمبر 10 کی جرسی کے مستقبل کے ممکنہ امیدواروں کی فہرست میں فرانکو ماستانتوونو کا نام بھی نمایاں ہے۔ صرف 19 برس کی عمر میں ماستانتوونو بائیں پاؤں کی غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی طاقتور شاٹ، گیند پر قریبی کنٹرول اور مدافع کھلاڑیوں کو آسانی سے پیچھے چھوڑنے کی صلاحیت انھیں نمایاں بناتی ہے۔
ان کا لمبا اور دبلہ جسمانی ڈھانچہ بھی ان کے کھیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہ گیند کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے اور بغیر گیند کے مؤثر دوڑیں لگاتے ہوئے حریف دفاع پر دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔




















