آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’علی خامنہ ای کی موت کا جشن منانے پر کے جی بی نے مجھ سے تفتیش کی اور بیلاروس سے نکال دیا‘
- مصنف, سروش پاکزاد
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 19 منٹ
بی بی سی کی تحقیقات، شواہد کے جائزے اور بیلاروس میں مقیم متعدد ایرانی مظاہرین سے گفتگو کی بنیاد پر، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی حکومت کے خلاف سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرنے والے متعدد ایرانیوں سے جنگ بندی کے بعد کے جی بی (بیلاروس کا سکیورٹی ادارہ) نے تفتیش کی، جبکہ ان میں سے بعض کو قید اور ملک بدر بھی کیا گیا۔
ان افراد کا الزام ہے کہ بیلاروس میں ایرانی سفارت خانے نے بیلاروس کے سکیورٹی ادارے کو ایرانی شہریوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا۔
بیلاروس میں دندان سازی کی طالبہ خاطرہ خدادادی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں ’45 دن قید‘ کے بعد بیلاروس سے بے دخل کر دیا گیا۔
سامان (فرضی نام) ایک اور ایرانی ہیں جن کا کہنا ہے کہ انھیں بھی ’تفتیش اور دو ہفتے کی قیدِ تنہائی‘ کے بعد بیلاروس سے ملک بدر کر دیا گیا۔
یہ دونوں اس وقت ایک تیسرے ملک میں مقیم ہیں اور انھوں نے بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں اپنی داستان سنائی ہے۔
ان دونوں کے مطابق ان کی آپس میں کوئی جان پہچان نہیں اور انھوں نے بیلاروس میں ایرانیوں کے ایک ٹیلیگرام گروپ میں تبصرے کیے تھے۔ ان کا خیال ہے کہ گرفتار کیے جانے کی وجہ یہی تبصرے بنے۔
خاطرہ خدادادی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نجی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر احتجاجی مظاہروں اور جنگ کے دوران ہلاک ہونے والوں کے بارے میں اور ایرانی حکومت کی مخالفت میں مواد پوسٹ کرتی تھیں، شہزادہ رضا پہلوی کی حمایت کرتی تھیں اور اسلام اور اس کی علامتوں کے خلاف بھی پوسٹس شائع کرتی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کے حامی غیر ملکی طلبہ کے ساتھ ان کے اختلافات ان کے سیاسی اور مذہبی نظریات کی وجہ سے پیدا ہوئے اور ان کے خیال میں انھی تنازعات نے ان کی گرفتاری میں کردار ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتی ہیں: ’آٹھ اور نو جنوری کو ہونے والی ہلاکتوں کے بعد لبنانی ہم جماعت اپنے انسٹاگرام پر خامنہ ای کی تصاویر پوسٹ کر رہے تھے اور میں ان پر اعتراض کرتی تھی۔ جب جنگ شروع ہوئی تو میں بہت خوش ہوئی۔‘
خدادادی کے مطابق ایرانی رہبر اعلی کی ہلاکت کے بعد انھوں نے ایک پوسٹ شائع کی تھی جس میں انھوں نے ’فلسطین اور لبنان کے لیے ایران کی مدد کے خاتمے‘ کا ذکر کیا۔ ان کے بقول اس پوسٹ کے بعد یونیورسٹی میں شیعہ غیر ملکی طلبہ کے ساتھ ان کا تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔
خاطرہ خدادادی کے مطابق ان میں سے ایک طالب علم نے ان کی آواز ریکارڈ کر کے حکام کو بھیج دی، جس کے بعد یونیورسٹی کے متعدد منتظمین اور عملے کے ارکان نے ان کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔
وہ کہتی ہیں: ’انھوں نے مجھ سے پوچھا: رضا پہلوی کیوں؟ آپ اسلام کے خلاف کیوں ہیں؟ اسلامی جمہوریہ (ایران) کی مخالف کیوں ہیں؟ میں اپنے موقف پر قائم رہی اور بہادری سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ میں نے یہ بھی کہا کہ میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ میں ان لوگوں کے ساتھ رہی ہوں، ان کی رائے جانتی ہوں، اور اب جب ان کے پاس انٹرنیٹ نہیں ہے تو میں اُن لوگوں کی آواز بنوں گی جنھیں میں جانتی ہوں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ جب یونیورسٹی انتظامیہ نے انھیں ممکنہ بے دخلی سے خبردار کیا تو انھوں نے ایران میں احتجاج کے دوران مارے جانے والوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جان ان لوگوں سے زیادہ قیمتی نہیں۔
ان کے بقول: ’اگر میرے ساتھ کچھ ہو بھی جائے تو کوئی بات نہیں، میں اپنے لوگوں کی آواز بنی ہوں۔‘
بیلاروس کا شمار مشرقی یورپ میں روس کے اہم اتحادیوں میں ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق روس کے ناقدین اور اپوزیشن رہنماؤں کو بیلاروس میں اپنے خیالات کے اظہار پر گرفتار کیا جاتا رہا ہے۔
ایران کی حالیہ جنگ کے دوران اس کے متعدد سفارت خانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس حکومتی موقف کی عکاسی کرتے رہے اور مبصرین نے اس حوالے سے ان کی ڈیجیٹل سرگرمیوں کو پروپیگنڈا جنگ میں مؤثر قرار دیا۔
بیلاروس میں ایرانی سفارت خانے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران سفارت خانہ ایرانی حکومت کا شائع کردہ مواد دوبارہ شائع کرتا رہا۔ اسی طرح ایران کے سفیر نے بیلاروس کی وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام سے متعدد ملاقاتیں بھی کیں جن سے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات نمایاں ہوتے ہیں۔
ایرانی سفارت خانے کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایران سے متعلق بیلاروس کے سرکاری ٹیلی ویژن کے رپورٹر کی متعدد ویڈیوز بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
اپریل کے آخری ہفتے میں کے جی بی (بیلاروس کے سکیورٹی ادارے) کے اہلکار خاطرہ خدادادی اور سامان (فرضی نام) کے گھروں پر پہنچے۔
خدادادی کا کہنا ہے کہ 14 اپریل کی صبح نقاب پوش کے جی بی اہلکاروں نے ان سے کہا کہ انھیں چند سوالوں کے جواب دینے کے لیے ساتھ چلنا ہو گا۔
وہ کہتی ہیں: ’میں نے ان سے کہا کہ مجھے تیار ہونے دیں، لیکن انھوں نے دروازے میں پاؤں اڑا دیے اور اندر آ گئے۔ انھوں نے مجھے اپنے کمرے میں اکیلے کپڑے بدلنے تک کی اجازت نہیں دی اور مجھے مرد اہلکاروں کے سامنے کپڑے بدلنے پڑے۔ انھوں نے میرے گھر کی تلاشی لی اور میرے موبائل فون ساتھ لے گئے۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس بندوق ہے؟ کوئی جھنڈا ہے؟ میں نے کہا نہیں، میرے پاس ایسی چیزیں کیوں ہوں گی؟‘
سامان کا کہنا ہے کہ صبح جب دروازے پر زور زور سے دستک دی گئی تو انھوں نے جھری سے باہر دیکھا۔ نقاب پوش افراد کو اپنا نام پکارتے دیکھ کر انہوں نے اندازہ لگایا کہ شاید پولیس ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے فوراً اپنے فون سے ٹیلیگرام اور انسٹاگرام ڈیلیٹ کر دیے، لیکن یہ بھول گیا کہ میرا انسٹاگرام اکاؤنٹ لیپ ٹاپ سے بھی منسلک تھا۔‘
دونوں کے مطابق انھیں ایک ویران عمارت میں لے جا کر ان پوسٹس کے بارے میں جواب طلب کیا گیا جو انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مخالفت میں شائع کی تھیں۔
سامان نے سیاسی پوسٹس کی ذمہ داری قبول نہ کرنے اور یہ مؤقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا کہ ان کے اکاؤنٹس ہیک ہو گئے تھے، جبکہ خاطرہ خدادادی اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔
کے جی بی کے تفتیش کار کی جانب سے ’میناب سکول‘ کا ذکر
خاطرہ خدادادی کہتی ہیں: ’مجھے لگا تھا کہ جلد رہا کر دی جاؤں گی، اس لیے میں اعتماد کے ساتھ کرسی پر بیٹھی اور چوکڑی مار لی۔ میز کے پیچھے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے ایک نقاب پوش اہلکار نے غصے سے کہا: ٹانگیں نیچے کریں! کیا آپ جانتی نہیں کہ کہاں بیٹھی ہیں؟‘
وہ کہتی ہیں کہ ان کی ذاتی زندگی اور سیاسی خیالات کے بارے میں طویل سوالات کے بعد تفتیش کار نے جنگ کے بارے میں ان کی رائے پوچھی۔
ان کے بقول: ’میں نے علی خامنہ ای اور حکومت کے دیگر رہنماؤں کے مارے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں خوش ہوں کیونکہ برے لوگ مارے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا: تو پھر غیر فوجی افراد اور میناب سکول کے بچوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟‘
28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی گھنٹوں میں شجرہ طیبہ میناب سکول پر حملہ کیا گیا تھا۔
یہ سکول پاسدارانِ انقلاب سے تعلق رکھنے والے ایک غیر فوجی کمپلیکس کے اندر واقع تھا۔ بی بی سی نے آزادانہ طور پر تصدیق کی ہے کہ جنگ کے پہلے روز اس کمپلیکس کو ایک امریکی ٹوماہاک میزائل سے نشانہ بنایا گیا تھا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سکول میں پڑھنے والے 120 بچوں سمیت 156 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ اس حملے کا جائزہ لے رہی ہے۔
میناب سکول اور وہاں ہلاک ہونے والے طلبا کو ایرانی حکام اور سرکاری ذرائع ابلاغ نے جنگ کے دوران غیر فوجی اہداف پر حملوں کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔
خدادادی سمجھتی ہیں کہ کے جی بی افسر کی جانب سے میناب سکول کے بچوں کا ذکر ایرانی پروپیگنڈے کا حصہ تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے جواب میں کہا کہ غیر فوجی افراد کی ہلاکت پر وہ افسوس کرتی ہیں اور ایرانی حکومت پر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آٹھ اور نو جنوری کو ہونے والی ہلاکتیں پوری جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ تھیں۔
واضح رہے کہ جنوری 2026 میں ایران میں حکومت مخالف مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ الزام لگایا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
خاطرہ خدادادی کا کہنا ہے کہ تفتیش کار گھنٹوں ان کے انسٹاگرام پر شائع ہونے والا مواد دیکھتے رہے اور ان سے مختلف پوسٹس، جن میں شہزادہ رضا پہلوی سے متعلق پوسٹس بھی شامل تھیں، کے بارے میں وضاحت طلب کرتے رہے۔
ان کے مطابق تفتیش کار نے آخر میں کیمرا نکالا اور ایران کا نام لیے بغیر ان سے کہا کہ وہ اسلام مخالف پوسٹس پر بیلاروس کے مسلمان شہریوں سے معذرت کریں۔
’میں نے بات مان لی اور بیلاروس کے مسلمان شہریوں سے کہا کہ اگر میری پوسٹس سے انھیں تکلیف پہنچی ہے تو مجھے افسوس ہے، لیکن یہ میرا عقیدہ ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ تفتیش کار کو یہ جواب پسند نہیں آیا اور انھوں نے خاطرہ سے جنگ اور علی خامنہ ای کی ہلاکت پر خوشی کے اظہار پر معذرت کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے بقول ان کے انکار پر تفتیش کار مشتعل ہو گئے۔
’جب میں نے معذرت سے انکار کیا تو انھوں نے غصے سے کہا کہ آپ امریکہ اور اسرائیل کی طوائف ہیں۔ میں نے بھی انھیں روسی زبان میں خوب جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کو ایران بھیج دیا جائے گا۔‘
خاطرہ خدادادی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اہلکار سے کہا: ’آپ مجھے ایران نہیں بھیج سکتے کیونکہ وہاں مجھے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ مجھے وکیل چاہیے۔‘
ان کے مطابق اہلکار وکیل لانے کے بہانے کمرے سے نکل گئے اور 45 منٹ بعد ایک شخص سوٹ پہن کر آیا۔
’میرا خیال ہے یہ وہی تفتیش کار تھے جنھوں نے کپڑے بدل لیے تھے اور چہرے سے ماسک اتار دیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ وکیل ہیں اور کہا کہ میں جلد آزاد ہو جاؤں گی۔‘
خدادادی کے مطابق اس کے بعد انھیں ایک حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا، جہاں انھیں پانچ بستروں والے ایک کمرے میں مزید 12 افراد کے ساتھ رکھا گیا۔
وہ کہتی ہیں: ’کمرہ بہت ٹھنڈا اور گندا تھا۔ سردی کی وجہ سے میں ہیٹر کے قریب ایک میز پر سوئی۔‘
ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق بیلاروس کی حکومت زیرِ حراست افراد سے ’زبردستی لیے گئے اعترافی بیانات‘ کی ویڈیوز ریکارڈ کر کے سرکاری ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر نشر کرتی ہے۔
’شیر اور سورج کا پرچم‘ تفتیش کاروں کی نظر میں دہشت گردی کی علامت
سامان کے مطابق تفتیش کاروں نے ان کے گھر سے ملنے والے شیر اور سورج کے پرچم کو 'دہشت گردی' کی علامت قرار دیا۔
’جب میں نے کہا کہ بیلاروس میں یہ پرچم غیر قانونی نہیں ہے، تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے ساتھ آپ کی تصویر لیں گے اور آپ کو ایران کے حوالے کر دیں گے۔‘
ان کے مطابق ان کی اور ان کے پرچم کی کئی بار تصاویر لی گئیں۔
واضح رہے کہ جنوری میں ایران میں حکومت مخالف مظاہرے کرنے والے کئی افراد نے ایسے ’ممنوعہ‘ پرچم پہنے تھے جن پر شیر اور سورج بنا تھا۔
سامان کا کہنا ہے کہ گھنٹوں کی تفتیش کے دوران اہلکار ان کی انسٹاگرام آرکائیو کا جائزہ لیتے رہے، لیکن وہ ان پوسٹس کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے تھے۔
ان کے بقول آخر میں اہلکاروں نے کہا: ’ہم کے جی بی ہیں، ہم آپ کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔‘
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اہلکاروں نے دھمکی دی کہ اعتراف نہ کرنے کی صورت میں ان کے گھر میں منشیات رکھ دی جائیں گی اور انھیں 15 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
بعد ازاں سامان نے اپنی پوسٹس کی ذمہ داری قبول کر لی اور کیمرے کے سامنے وہ سب پڑھنے پر آمادہ ہو گئے جو اہلکار انھیں کہتے تھے۔
ان کے مطابق انھیں روسی زبان میں یہ کہنا پڑا کہ رضا پہلوی کے ذرائع ابلاغ نے ان کا ’برین واش‘ کیا تھا، اور انھیں ’اظہارِ ندامت‘ کرتے ہوئے یہ بھی کہنا پڑا کہ وہ ’پاسداران انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کے رہبر‘ کی حمایت کرتے ہیں۔
’انتہا پسندی‘ اور ’جان بوجھ کر نافرمانی‘: بیلاروس کے سیاسی کارکنوں کے لیے مانوس الزامات
خاطرہ خدادادی کا کہنا ہے کہ کے جی بی کے تفتیش کار کی دھمکی کے مطابق انھیں ایک عدالت میں ’جان بوجھ کر نافرمانی‘ کے الزام کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کے مطابق تین روز بعد موبائل فون کے ذریعے ویڈیو کال پر ان کی ایک آن لائن سماعت ہوئی۔ خدادادی کا کہنا ہے کہ اس عدالتی کارروائی میں ان کی گرفتاری یا تفتیش کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور ان پر گرفتاری کے وقت پولیس کے حکم کی نافرمانی کا الزام عائد کیا گیا۔
وہ کہتی ہیں: ’عدالت میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا کہ میں نے گھر میں گرفتاری کے وقت مزاحمت کی اور پولیس کی گاڑی میں شور شرابا کیا۔ میں نے جج سے کہا کہ میں یہ الزام قبول نہیں کرتی اور درخواست کی کہ اہلکاروں کے باڈی کیمروں اور شہر میں نگرانی کے لیے نصب کیمروں کی ریکارڈنگ دیکھی جائے۔‘
خدادادی کے مطابق جج نے یہ درخواست مسترد کر دی اور ایک اہلکار کی گواہی کو بطور ثبوت قبول کر لیا۔ اس بنیاد پر انھیں 15 روزہ قید کی سزا سنائی گئی، اگرچہ انھیں اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل تھا۔
اگرچہ بی بی سی آزادانہ طور پر گرفتاری، تفتیش اور عدالتی کارروائی کی تمام تفصیلات کی تصدیق نہیں کر سکتا، تاہم ہمارے پاس جسمانی تلاشی اور ذاتی سامان کی وصولی سے متعلق قانونی دستاویزات موجود ہیں جن میں 14 اپریل کو گرفتاری کے دوران ’جان بوجھ کر نافرمانی‘ اور پولیس کی گاڑی کے اندر مزاحمت کا ذکر کیا گیا ہے۔
لیتھوانیا کے دار الحکومت ولنیئس میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سے وابستہ وکیل سویاتلانا ہالنوا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایرانی شہریوں کے خلاف بیلاروسی حکام کی کارروائیوں اور بعض شہریوں پر بیلاروس میں داخلے کی پابندیوں سے واقف ہیں۔
روس اور یوکرین کے بارے میں اظہارِ رائے کرنے پر افراد کے خلاف مقدمات کے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے ہالنوا کا کہنا ہے کہ ایرانی شہریوں کے خلاف رویہ سرحد پار بڑھتے ہوئے جبر کی ایک مثال ہے، اگرچہ ان کے بقول متعلقہ معلومات خفیہ ہونے کے باعث اس کے حجم کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں حالیہ برسوں میں صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف ’جان بوجھ کر نافرمانی‘ کے الزام کے وسیع استعمال، جیلوں کے نامناسب حالات اور قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے بارے میں متعدد رپورٹیں شائع کر چکی ہیں۔
خدادادی کہتی ہیں کہ جب تک انھیں وکیل فراہم کیا گیا، اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور امیگریشن حکام انھیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ جیلیں پُر ہجوم اور سرد تھیں جبکہ حشرات ہر جگہ موجود تھے، حتیٰ کہ کھانے کے برتنوں میں بھی۔ ان کے مطابق اس دوران ان کی ملاقات متعدد بیلاروسی سیاسی قیدیوں سے ہوئی، جنھیں بیلاروس اور روسی حکومتوں کے خلاف احتجاج یا یوکرین کی حمایت کے باعث قید کیا گیا تھا۔
’وہ حیران ہوتے تھے اور میری گرفتاری پر ردِعمل دیتے ہوئے کہتے تھے کہ آمریتیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔‘
’مجھے اپنے لوگوں کی آواز بننے پر کوئی پچھتاوا نہیں‘
سامان کو بھی ایک آن لائن عدالتی سماعت میں ’انتہا پسندی‘ کے الزام کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا خیال ہے کہ جج بھی کے جی بی کے دباؤ میں تھے۔
ان کے مطابق عدالت نے انھیں دو ہفتے قید اور بعد ازاں ملک بدری کی سزا سنائی۔
سامان کا کہنا ہے کہ جیل میں محافظوں نے انھیں ’بد سلوکی اور نفسیاتی اذیت‘ کا نشانہ بنایا۔
وہ کہتے ہیں: ’بعض محافظ رات کو راک موسیقی چلاتے تھے تاکہ میں سو نہ سکوں، اور صبح چھ بجے جگا دیتے تھے۔ مجھے رات 10 بجے تک مسلسل کھڑا رہنا پڑتا تھا۔‘
ان کے بقول ایک مرتبہ جب وہ کچھ دیر کے لیے لیٹ گئے تو اہلکاروں نے ان کے ہاتھ زبردستی کئی گھنٹوں تک دیوار سے باندھے رکھے۔
سامان کا کہنا ہے کہ انھیں کھلی فضا میں جانے کی اجازت نہیں تھی، حشرات مسلسل کاٹتے رہتے تھے اور انھیں دوائیں بھی فراہم نہیں کی جاتی تھیں۔
وکیل سویاتلانا ہالنوا کا کہنا ہے کہ بیلاروس میں غیر ملکی قیدی نسبتاً زیادہ ہراسانی کا سامنا کرتے ہیں اور سامان کی بیان کردہ بعض تفصیلات مختلف حراستی مراکز میں عام ہیں۔
خاطرہ خدادادی کا کہنا ہے کہ وہ 45 روز قید کے بعد بیلاروس سے بے دخل کر دی گئیں، جبکہ سامان کو دو ہفتے قید کے کچھ عرصے بعد ملک بدر کیا گیا۔
بی بی سی نے ان دونوں افراد کے پاسپورٹس پر لگائی گئی مہریں دیکھی ہیں، جن سے ان کی ملک بدری کے احکامات کی تصدیق ہوتی ہے۔ ان مہروں کے مطابق دونوں افراد آئندہ 30 برس تک بیلاروس واپس نہیں جا سکیں گے۔
تہران کے لیے براہِ راست پرواز نہ ہونے کے باعث ان دونوں کو ایک تیسرے ملک بھیجا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وہاں خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے اور کسی محفوظ ملک منتقل ہونے کی امید رکھتے ہیں۔
خاطرہ خدادادی کا کہنا ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود انھیں اپنے اقدامات پر کوئی پچھتاوا نہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’مجھے اپنی جدوجہد، اپنے لوگوں کی آواز بننے اور اپنی رائے کے اظہار پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ میں اپنی جدوجہد جاری رکھوں گی۔ میرے لیے اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے یا نہیں، میری خواہش نہیں بدلی۔‘
دوسری جانب سامان کا کہنا ہے کہ انھیں افسوس ہے، کیونکہ ان کے خیال میں ان کی سیاسی سرگرمیوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اس کے بدلے انھیں صرف قید اور تشدد کا صدمہ ملا۔
سرحد پار مخالفین کے خلاف کارروائی میں ’ایرانی سفارت خانے اور اس کے اتحادیوں کے کردار‘ سے متعلق مزید دعوے
سامان اور خاطرہ دونوں کا کہنا ہے کہ اپنے دوستوں کے ذریعے، جو ان کے معاملات کی پیروی کر رہے تھے، انھیں معلوم ہوا کہ ایرانی سفارت خانہ ان کی گرفتاری سے مکمل طور پر آگاہ تھا اور اس نے ان کے دوستوں کو دھمکاتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاملے کی پیروی نہ کریں۔
پژمان (فرضی نام) نامی ایک اور ایرانی، جو بیلاروس میں رہائش پذیر ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا خاطرہ اور سامان سے کوئی تعلق نہیں، ایرانی سفیر پر بیلاروس میں ایرانی شہریوں کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان سے بھی متعدد بار تفتیش کی گئی اور انھیں دھمکیاں دی گئیں، جس کے بعد کے جی بی کی جانب سے گرفتاری کے خوف سے انھوں نے اپنا گھر اور معمول کی زندگی چھوڑ دی۔
پژمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے جنگ کے بارے میں کوئی رائے ظاہر نہیں کی تھی اور ان سے ہونے والی تمام تفتیش ’احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کے نام واٹس ایپ سٹیٹس پر شیئر کرنے‘ سے متعلق تھی۔
ان کے خیال میں کچھ ’مخبروں‘ نے، جن کے پاس ان کا فون نمبر موجود تھا، ان کے بارے میں ایرانی سفارت خانے کو اطلاع دی۔
پژمان ایک ایسے ذریعے کا حوالہ دیتے ہیں جن کا تعلق، ان کے بقول، ایرانی سفارت خانے سے ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ: ’ایران کے سفیر نے ایرانی حکومت کے ناقد ایرانیوں کی ایک فہرست بیلاروسی حکام کو دی اور ان سے کہا کہ ان افراد کو گرفتار کرکے ملک بدر کیا جائے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ بیلاروسی تفتیش کاروں کے سوالات اور اپنے ذریعے سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ: ’ایرانی سفارت خانے نے بیلاروسی حکام سے یہ جھوٹ بولا کہ ایرانی مظاہرین سڑکوں پر احتجاج اور سفارت خانے کی عمارت کو نذرِ آتش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘
خاطرہ خدادادی نے بھی اس بات کا ذکر کیا ہے کہ اہلکار ان کے گھر میں جھنڈے تلاش کر رہے تھے۔
بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
پژمان کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق بیلاروس کے سکیورٹی اہلکار 10 سے زیادہ ایرانی مظاہرین سے تفتیش کر چکے ہیں۔
بی بی سی نے ان میں سے متعدد افراد سے رابطہ کیا، تاہم انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
’سوشل میڈیا اور نجی چیٹ‘ ناقدین کی گرفتاری کا ثبوت
انسانی حقوق کی وکیل سویاتلانا ہالنوا کا کہنا ہے کہ روس اور یوکرین کے بارے میں اظہارِ خیال کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات کے متعدد واقعات کو دیکھتے ہوئے ایرانی شہریوں کے ساتھ اختیار کیا جانے والا رویہ سرحد پار بڑھتے ہوئے جبر کی ایک مثال معلوم ہوتا ہے۔
ہالنوا کے مطابق بہت سے معاملات میں بیلاروس کسی دوست ملک کے بارے میں اظہارِ رائے کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ’انتہا پسندی‘ سے متعلق قوانین استعمال کرتا ہے۔
ان کے بقول، اگر کسی شخص نے ایسے مغربی میڈیا ادارے کی خبر یا ویڈیو شیئر کر دی جو حکومت کی بلیک لسٹ میں شامل ہے، تو بعض صورتوں میں ایسا کرنے والا فرد بھی الزام اور سزا کا سامنا کر سکتا ہے۔
مبصرین اس طرزِ عمل کو شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی شق 19 میں درج آزادیِ اظہار کے حق کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، جس پر بیلاروس بھی دستخط کر چکا ہے۔
ایران میں جنوری کے احتجاجی مظاہروں اور بعد ازاں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے دوران بیرونِ ملک مقیم متعدد ایرانی ناقدین نے آن لائن ہراسانی، املاک ضبط کیے جانے اور قونصلر مسائل، مثلاً سفارت خانوں کی جانب سے پاسپورٹ تجدید سے انکار، کی شکایات کی ہیں۔
ان افراد نے بعض ممالک میں ایرانی سفارت خانوں پر معلومات اکٹھی کرنے اور ناقدین کو ہراساں کرنے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
بی بی سی نے اس رپورٹ میں شامل الزامات کے بارے میں بیلاروس کی حکومت اور ایرانی سفارت خانے سے رابطہ کیا، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
آرمینیا میں پاسپورٹ ’ضبط‘ کیے جانے کا دعویٰ
اسی دوران دیگر ممالک میں بھی بیرونِ ملک مقیم ایرانی ناقدین پر دباؤ ڈالنے میں ایرانی سفارت خانوں کے کردار سے متعلق مزید الزامات سامنے آئے ہیں۔
مثال کے طور پر، ویب سائٹ آرمینیا رپورٹ کے مطابق ایران میں سابق سیاسی قیدی اور آرمینیا میں ایک چرچ کے منتظم مسعود طاہری کو سکیورٹی اداروں کی متعدد تفتیشوں کے بعد سفری پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق یریوان ایئرپورٹ کے اہلکاروں نے ان کا ایرانی پاسپورٹ ضبط کر لیا اور انھیں بتایا کہ ایران کی وزارتِ خارجہ نے یہ پاسپورٹ منسوخ کر دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مسعود طاہری کا پاسپورٹ آرمینیا میں ایرانی سفارت خانے کے حوالے کر دیا گیا۔
بی بی سی نے مسعود طاہری کے پاسپورٹ کی مبینہ ضبطی سے متعلق رپورٹ کی تصدیق کے لیے آرمینیا کی سرحدی پولیس اور وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا۔
آرمینیا کی قومی سلامتی کی وزارت نے بی بی سی کو جواب میں کہا کہ رازداری سے متعلق قوانین کے باعث وہ اس معاملے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کر سکتی۔