طلبہ پر کلاشنکوف تاننے پر بہار پولیس کا اہلکار معطل، ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انڈیا میں شور

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انڈیا میں بہار کے ضلع سیوان میں 25 جولائی کو مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کے ایک کانسٹیبل کی جانب سے طلبہ کے ایک گروہ پر اے کے-47 رائفل تانے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔

اس ویڈیو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے درمیان سخت لفظی جنگ چھیڑ دی ہے۔ بہار کے سابق نائب وزیرِ اعلیٰ تیجسوی یادیو نے اس واقعے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس میں پولیس نے طلبہ کی طرف اے کے-47 رائفل (کلاشنکوف) کا رُخ کیا۔

اس معاملے پر سیوان کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) پورن جھا نے بی بی سی نیوز ہندی کی نامہ نگار سیتو تیواری کو تصدیق کی ہے کہ بہار پولیس کی سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کے کانسٹیبل ابھیشیک پٹیل کو اس واقعے کے بعد معطل کر دیا گیا ہے۔

ایس پی پورن جھا نے بتایا کہ زخمی ہونے والے تین مظاہرین میں سے ایک کو پولیس کی گولی لگی تھی، جبکہ باقی دو افراد کس طرح زخمی ہوئے، اس کے تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والوں میں سے کسی کو بھی اے کے-47 سے چلائی گئی گولی نہیں لگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’اے کے-47 کا رُخ فضا کی طرف تھا اور اس سے چلنے والی گولی جان لیوا ہوتی ہے۔‘

بی بی سی نیوز ہندی کے نامہ نگار سیتو تیواری کے مطابق 25 جولائی کو ہونے والے مظاہرے کے دوران 25 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ زخمی ہونے والے تینوں مظاہرین کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

دریں اثنا بہار پولیس نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ زخمی ہونے والے تین افراد میں سے ایک کم عمر ہے۔

نیٹ امتحان کے پرچے کے لیک ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے جاری ایک ماہ طویل احتجاجی مہم ہفتے کے روز وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد ختم ہو گئی ہے۔

سی جے پی کی جانب سے 20 جولائی کو نکالی گئی ’پارلیمنٹ چلو‘ ریلی پر پولیس لاٹھی چارج کے بعد یہ تحریک ملک کے کئی حصوں تک پھیل گئی۔

آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادیو نے سیوان کی وائرل ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اے کے-47 کا استعمال کیے جانے کا یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ پورا نظام ’قاتلانہ انداز میں طلبہ کے خلاف کھڑا ہے۔‘

دوسری جانب بی جے پی نے الزام عائد کیا ہے کہ راہل گاندھی ’مصنوعی احتجاج کھڑا کرنے‘ اور ملک میں بدامنی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بہار میں ہوا کیا؟

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں بہار پولیس کا ایک اہلکار مظاہرین کے ایک ہجوم کی جانب اے کے-47 رائفل تانے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو میں گولی چلنے کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے۔

بہار پولیس نے بھی اس ویڈیو کی تصدیق خبر رساں ادارے روئٹرز کو کی ہے۔ روئٹرز کے مطابق ویڈیو میں بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ پہنے ایک پولیس اہلکار کو اے کے-47 رائفل کے ساتھ مظاہرین کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ وہ کم از کم تین فائر فضا میں کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

بہار پولیس کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نیلیش کمار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

ان کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والے اہلکار انٹیلیجنس یونٹ سے تعلق رکھتے تھے، جو ’سنگین جرائم میں ملوث عناصر سے نمٹنے‘ کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں اور جنھیں اے کے-47 جیسی رائفلیں فراہم کی جاتی ہیں۔

ڈی آئی جی نیلیش کمار نے کہا کہ ’کانسٹیبل نے اے کے-47 کا غلط استعمال کیا۔ اس اقدام کو کسی بھی صورت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

’اس نے اسلحے کا غلط استعمال کیا کیونکہ سامنے طلبہ تھے۔ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، اسی لیے اسے معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی جائے گی۔‘

وزیر اعلیٰ بہار پر تنقید

راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری پر بہار میں ’پولیس سٹیٹ‘ چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔

انھوں نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’این ڈی اے حکومت اور سمراٹ چودھری بہار کو غنڈوں کے ذریعے چلنے والی پولیس سٹیٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب مرکزی حکومت کو طلبہ کے سامنے جھکنا پڑا اور معاملے پر سمجھوتہ ہو گیا، تو پھر سمراٹ چودھری کے حکم پر بہار میں سیکڑوں طلبہ کو کیوں گرفتار کیا گیا؟‘

انھوں نے کہا کہ ’نہ صرف طلبہ پر لاٹھی چارج کیا گیا بلکہ یہ بھی الزام ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے 47 رائفلوں سے بھی فائرنگ کی گئی۔‘