یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
13 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایران کے معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں۔ بطور ثالث پاکستان کے کردار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم دونوں نے ہی بہت اچھا کام کیا ہے۔
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
13 مئی کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ایران نے منگل کے روز کویت کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے چار اہلکاروں نے کویت کے جزیرے بوبیان میں دراندازی کی کوشش کی تھی۔
ایران کا کہنا ہے کہ کویت کے الزام ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرر دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ فوجی اہلکار نیویگیشن سسٹم میں ’خرابی‘ کے باعث کویتی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے۔
بی بی سی عربی نے ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کویتی حکومت کی جانب سے ’اس معاملے ذرائع ابلاغ میں اچھالنے اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے اقدام کی سختی سے مذمت کرتی ہے۔‘
اس سے قبل کویتی خبر رساں ادارے ’کونا‘ نے وزارتِ داخلہ کے حوالے سے ایک بیان میں بتایا کہ یہ افراد سمندر راستے سے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ جب انھیں حراست میں لیا گیا۔
وزارت کے مطابق ان افراد کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے دوران کویتی مسلح افواج کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔
مزید بتایا گیا کہ زیرِ حراست افراد نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ ان کا تعلق اسلامی جمہوریہ ایران سے ہے اور وہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار ہیں۔
کویتی وزارتِ داخلہ کے مطابق ملزمان نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ’انھیں ایک مخصوص مشن کے تحت بوبيان جزیرے میں بھیجا گیا تھا، جس کے لیے انھوں نے ایک چھوٹی کشتی کرائے پر حاصل کی تھی تاکہ کویت کے خلاف دشمنانہ کارروائیاں انجام دی جا سکیں۔‘
ایران نے امریکہ کے خلاف دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی ثالثی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
بی بی سی فارسی نے ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری تنصیبات کے خلاف ’فوجی جارحیت، اقتصادی پابندیوں کے نفاذ اور طاقت کے استعمال کی دھمکی‘ کی بنیاد پر امریکہ کے خلاف بین الاقوامی ثالثی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
تسنیم کے مطابق ایرانی حکومت نے اپنی درخواست کی بنیاد 1981 کے الجزائر معاہدوں پر رکھی ہے اور امریکہ پر ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کے دوران اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
الجزائر معاہدے کے مطابق امریکہ نے ایران کے اندرونی، سیاسی اور فوجی معاملات میں براہ راست یا بلاواسطہ مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے یہ مقدمہ مارچ 2026 میں باضابطہ طور پر ایران‑امریکہ کلیمز ٹریبونل میں درج کیا گیا۔
ایران نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ ایران کے داخلی معاملات میں براہِ راست اور بالواسطہ ہر قسم کی مداخلت ختم کرنے کا پابند بنائے۔
ایجنسی کے مطابق تہران نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آئندہ ایسی خلاف ورزیاں نہیں ہوں گی جبکہ ملک کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کیا جائے۔
منگل کے روز امریکی کانگریس میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ اور جنرل ڈین کین سے سوال کیا کہ آیا وہ ان رپورٹس سے باخبر ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد پاکستان نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی ہے۔
سینیٹر گراہم نے سوال کیا کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو کیا یہ اقدامات کسی ثالث کے کردار سے مطابقت رکھتے ہیں؟ً
جنرل کین نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد سینیٹر گراہم نے یہی سوال پیٹ ہیگستھ سے دہرایا۔
امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ وہ ان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیں گے۔
سینیٹر گراہم کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان پر بھروسہ نہیں کرتے اور اگر انھوں نے واقعی ایرانی جہاز کو محفوظ رکھنے میں مدد کی ہے تو ہمیں کوئی اور ثالث ڈھونڈنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا، ’کوئی تعجب نہیں کہ یہ معاملہ حل نہیں ہو رہا۔‘
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ بطور ثالث پاکستان کے کردار پر نظرِ ثانی کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا، ’نہیں، میرے خیال میں وہ بہت شاندار [کام کر رہے] ہیں۔
’میرے خیال میں پاکستانیوں نے بہت عمدہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم دونوں نے ہی بہت اچھا کام کیا ہے۔‘
خیال رہے کہ امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ نے 11 مئی کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر متعدد ایرانی طیارے بھیجے گئے جن میں ایک آر سی 130 طیارہ بھی شامل ہے۔ تاہم پاکستان نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔
اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’پاکستان نے خود کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک سفارتی رابطہ کار کے طور پر پیش کرتے ہوئے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر کھڑا ہونے کی اجازت دی، جس سے ممکنہ طور پر وہ امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رہ پائیں۔‘
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اس ایرانی فوجی ساز و سامان میں ایرانی فضائیہ کا ایک آر سی-130 طیارہ بھی شامل تھا، جو لاک ہیڈ سی-130 ہرکیولیس ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارے کا ایک جاسوسی اور انٹیلیجنس معلومات اکٹھی کرنے والا خصوصی ماڈل ہے۔
پاکستانی وزرات خارجہ نے اپنے بیان میں ایک طیارے کی پاکستان میں موجودگی کی تصدیق کی ہے تاہم پاکستان کا کہنا ہے کہ، رپورٹ میں کیے گئے دعوے کے برعکس، یہ طیارہ جنگ بندی کے دوران یہاں پہنچا تھا اور ’اس کا کسی بھی عسکری یا تحفظ کے لیے کیے جانے والے انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نوعیت کی قیاس آرائیوں کا مقصد علاقائی استحکام اور امن کے لیے جاری کوششوں کو کمزور کرنا ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کو ایران کے معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ آیا اُن کے خیال میں چینی صدر شی جنپنگ ایران کے معاملے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا، ’نہیں، مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں ایران کے معاملے میں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ ہم کسی نہ کسی طریقے سے جیتیں گے۔ ہم یا تو پُرامن طریقے سے جیتیں گے یا کسی اور طریقے سے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ ختم ہو چکی ہے، اور اُن کی جنگی مشین کا ہر ایک حصہ تباہ ہو چکا ہے۔
امریکی صدر چین کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں جہاں ان کی چینی صدر شی جنپنگ سے ملاقات ہو گی۔
یاد رہے کہ دو روز قبل چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے کی ضمانت چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کی جانب سے دی جانی چاہیے۔
قطر اور ترکی نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ قطر اور ترکی مشترکہ طور پر پاکستان کی اُن ثالثی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جن کا مقصد جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنا، اس جنگ کا جلد از جلد خاتمہ، اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول کر بحری آمد و رفت کی معمول کی روانی بحال کرنا ہے۔‘
قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ بیان منگل کے روز قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔
ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں قطر اور ترکی نے خطے میں فوجی کارروائیوں کی دوبارہ شروعات کے خلاف خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی پیش رفت کے عالمی سلامتی اور عالمی معیشت، دونوں پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔
امریکی وزارتِ دفاع کے ادار پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں اب تک 29 ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے۔
یہ تخمینہ منگل کے روز امریکی کانگریس میں بجٹ کے حوالے سے ہونے والی بریفنگ میں سامنے آیا ہے۔
یاد رہے کہ 29 اپریل کو وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بتایا تھا کہ ایران جنگ پر 25 ڈالر خرچ ہو چکے تھے۔
پینٹاگون کے فائننس چیف جیولز ہرسٹ کا کہنا ہے کہ دو ہفتے قبل جب وزیرِ دفاع نے کانگریس کے سامنے بیان دیا تو اس وقت تک جنگ پر 25 ارب ڈالر لگ چکے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ جوائنٹ سٹاف اور آڈٹ ٹیم مسلسل لاگت پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ابدازوں کے مطابق یہ لاگت 29 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
ایران کے انڈیا میں سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔‘
ایکس پر جاری بیان میں انڈیا میں ایرانی دفترِ خارجہ کی جانب سے عباس عراقچی کے انڈیا کے دورے کے حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ’وزیرِ خارجہ 14 اور 15 مئی یعنی جمعرات اور جمعہ کو انڈیا کی میزبانی میں منعقد ہونے والے برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔‘
بیان کے مطابق ’اجلاس میں علاقائی استحکام، کثیرالاقوامی تعاون اور معاشی مضبوطی جیسے اہم امور پر غور کیا جائے گا۔‘
واضح رہے کہ برکس دنیا کے ابھرتے ہوئے بڑے ممالک کا ایک بین الاقوامی اتحاد ہے، جو عالمی معیشت اور سیاست میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
انڈیا میں ایرانی دفترِ خارجہ کے مطابق ’دورے کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ انڈیا کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سمیت شریک ممالک کے دیگر وزراء اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں اور تبادلۂ خیال بھی کریں گے۔‘
واضح رہے کہ یہ اجلاس رواں سال ستمبر میں نئی دہلی میں انڈیا کی صدارت میں منعقد ہونے والے برکس کے 18ویں سربراہی اجلاس کی تیاری کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے سیاسی معاون محمد اکبرزادہ نے ایرانی ٹی وی کو بتایا کہ ’امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد اس علاقے کو وسعت دے دی گئی ہے۔‘
اکبرزادہ نے بتایا کہ ’ماضی میں یہ علاقہ 20 سے 30 میل کا تھا جسے بڑھا کر اب 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر کر دیا گیا ہے۔‘
ان کے مطابق اب یہ حدود ’جاسک اور سیری کے ساحلوں سے لے کر تنبِ بزرگ جزیرے سے آگے تک ایک سٹریٹجک زون کے طور پر متعین کی گئی ہیں، یعنی آبنائے ہرمز اب ایک بڑے آپریشنل علاقے میں تبدیل ہو چکی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک حالیہ واقعے میں ایک امریکی جنگی جہاز اس علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کی مسلح افواج نے قریب سے نگرانی کی۔‘ ان کے بقول ’اشتعال انگیز رویے کے بعد ایرانی بحریہ نے وارننگ فائر کیے، جس کے نتیجے میں مذکورہ جہاز نے فوری طور پر اپنی سمت تبدیل کر لی۔‘
کویتی انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سمندر کے راستے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
کویتی خبر رساں ادارے ’کونا‘ نے وزارتِ داخلہ کے حوالے سے ایک بیان میں بتایا کہ یہ افراد سمندر راستے سے ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ جب انھیں حراست میں لیا گیا۔
وزارت کے مطابق ان افراد کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے دوران کویتی مسلح افواج کا ایک اہلکار زخمی بھی ہوا۔
مزید بتایا گیا کہ زیرِ حراست افراد نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ ان کا تعلق اسلامی جمہوریہ ایران سے ہے اور وہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار ہیں۔
کویتی وزارتِ داخلہ کے مطابق ملزمان نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ’انھیں ایک مخصوص مشن کے تحت بوبيان جزیرے میں بھیجا گیا تھا، جس کے لیے انھوں نے ایک چھوٹی کشتی کرائے پر حاصل کی تھی تاکہ کویت کے خلاف دشمنانہ کارروائیاں انجام دی جا سکیں۔‘
بیان میں کہا گیا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کا کویتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوگیا جبکہ دو دیگر ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
قطر نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنے یا انھیں بلیک میل کرنے کے لیے استعمال نہ کرے۔
قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے منگل کے روز دوحہ میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’ایران کو چاہیے کہ وہ آبنائے ہرمز کو خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالنے یا انھیں دباؤ میں لانے کا ذریعہ نہ بنائے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’دو روز قبل میرا امریکہ کا دورہ ہوا تھا جس کا بنیادی محور پاکستان کی سفارتی کوششوں کی حمایت تھا، تاکہ ان کوششوں کا مثبت جواب دیا جائے اور جلد از جلد کسی حل تک پہنچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی حکام کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ جنگ نے خطے پر کیا منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور اس کا طول پکڑنا نہ خطے اور نہ ہی دنیا کے مفاد میں ہے۔‘
ادھر ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ ’انقرہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور اس اہم ترین تجارتی آبی گزرگاہ کو ایران تنازع کے دوران ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ترکی ان سفارتی کوششوں میں حصہ لے رہا ہے جن کی قیادت پاکستان کر رہا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کا بات چیت کے ذریعے خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔‘
اسرائیلی فوج نے منگل کے روز ایک سرکاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے بعد سے اب تک جنوبی لبنان میں ’350 سے زائد شدت پسندوں‘ کو ہلاک کیا اور اسی عرصہ کے دوران حزب اللہ کے زیرِ استعمال ’1100 سے زیادہ تنصیبات اور اہداف‘ کو نشانہ بنایا۔
آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائیاں اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے شدہ معاہدوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں۔
اسرائیلی فوج نے مزید کہا ہے کہ وہ ’اسرائیلی شہریوں اور اپنی فورسز کو لاحق خطرات کا مقابلہ جاری رکھے گی۔‘
ادھر اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے ٹیلیگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ ’جنگ بندی کے حوالے سے مفاہمت کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیلی دفاعی افواج نے جنوبی لبنان میں 350 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے، جبکہ حزب اللہ تنظیم کے 1100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی عمارتیں، اسلحہ کے ذخیرے، تیار حالت میں موجود لانچنگ پلیٹ فارمز اور دیگر عسکری تنصیبات شامل ہیں۔‘
اگرچہ 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ العمل ہے، تاہم اسرائیل کی جانب سے لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایران سے منسلک حزب اللہ بھی اسرائیلی اہداف پر حملوں کے دعوے کرتا آ رہا ہے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سوموار پیر کے روز تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 2869 ہو چکی ہے، جن میں جنگ بندی کے بعد ہلاک ہونے والے درجنوں افراد بھی شامل ہیں۔
پاکستان کی صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 9 ہوگئی ہے اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) نذیر خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران بظاہر یہ ایک خودکش دھماکہ نظر آتا ہے۔
دوسری جانب میڈیکل اینڈ ٹیچنک انسٹیٹیوٹ (ایم ٹی آئی) بنوں کے ترجمان نعمان خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس دھماکے کے 29 زخمی بنوں لائے گئے ہیں، جن میں سے 15 زخمی ڈسٹرکٹ ہیدڈ کواٹرز ہسپتال بنوں اور پانچ زخمیوں کو خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے نو افراد میں دو ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ دھماکہ نورنگ کے مصروف ترین بازار میں واقع پھاٹک چوک پر ہوا۔ اس مقام پر صبح کے اوقات میں زیادہ رش کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہیں۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں کو نورنگ ہسپتال کے علاوہ بنوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال اور خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال منقتل کر دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور لکی مروت میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں۔ سنیچر کی شام بنوں میں فتح خیل چیک پوسٹ پر بھی لوڈر رکشہ میں بارودی مواد سے دھماکہ کیا گیا تھا جس میں 15 پولیس اہلکاروں کی جان چلی گئی تھی جبکہ تین اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
فرانسیسی اخبار لی موند کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے نائب کمانڈر نے کہا ہے کہ ایک امریکی جنگی جہاز جو ’آبنائے ہرمز عبور کرنا چاہتا تھا‘ ایرانی بحریہ کے ’انتباہی فائر‘ کا نشانہ بنا، جس کے بعد اس نے ’فوراً اپنا راستہ تبدیل کر لیا۔‘
سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ایرانی عہدے دار نے واقعے کے وقت کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی، بس یہ کہا کہ یہ واقعہ ’حال ہی میں پیش آیا۔‘
ساتھ ہی انھوں نے امریکی جہاز کی جانب سے ’اشتعال انگیز طرز عمل‘ کا ذکر کیا۔
اس سے قبل، پاسداران انقلاب نے پانچ مئی کو جاری ایک بیان میں ان بحری جہازوں کے خلاف ’سخت ردِ عمل‘ کا عہد کیا تھا جو مقررہ راستوں سے ہٹ کر آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کریں۔
فرانس کی وزیر دفاع کیتھرین اور ان کے برطانوی ہم منصب جان ہیلی ایک مشترکہ کثیر القومی اجلاس کی صدارت کریں گے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق عسکری منصوبوں پر غور کرنا ہے۔
توقع ہے کہ اتحادی اس مشن میں اپنی ممکنہ فوجی شراکت کا جائزہ پیش کریں گے۔
برطانیہ پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ وہ ڈسٹرائر بحری جہاز ایچ ایم ایس ڈریگن خطے میں بھیج رہا ہے۔
پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ 22 زخمی ہوئے ہیں۔
ضلعی پولیس افسر نذیر خان کے مطابق لکی مروت کے علاقے نورنگ میں ہونے والا یہ دھماکہ بظاہر خودکش حملہ معلوم ہوتا ہے تاہم اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں اور مزید حقائق تفتیش کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔
مقامی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے نو افراد میں دو ٹریفک پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ دھماکہ نورنگ کے مصروف ترین بازار میں واقع پھاٹک چوک پر ہوا۔ اس مقام پر صبح کے اوقات میں زیادہ رش کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کو کنٹرول کرتے ہیں۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ لاشوں اور زخمیوں کو نورنگ ہسپتال کے علاوہ بنوں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال اور خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال منقتل کر دیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور لکی مروت میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں۔ سنیچر کی شام بنوں میں فتح خیل چیک پوسٹ پر بھی لوڈر رکشہ میں بارودی مواد سے دھماکہ کیا گیا تھا جس میں 15 پولیس اہلکاروں کی جان چلی گئی تھی جبکہ تین اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز اور رائے عامہ پر تحقیق کرنے والی کمپنی اپسوس کے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ ہر تین میں سے دو امریکیوں کے خیال میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ کیوں کی۔
سروے میں شریک تقریباً 66 فیصد افراد نے کہا کہ ٹرمپ نے ’ایران میں امریکی فوجی مداخلت کے اہداف واضح طور پر بیان نہیں کیے۔
پیر کے روز شائع ہونے والے اس سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ ٹرمپ کی مقبولیت میں معمولی سا اضافہ ہوا ہے، جو اس سے قبل ان کی صدارت کے دوران اپنی کم ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔
چار روز تک جاری رہنے والے رائے عامہ کے اس جائزے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
روئٹرز کے مطابق سروے میں حصہ لینے والے ایک تہائی افراد ریپبلکن تھے جبکہ باقی تقریباً سبھی ڈیموکریٹس تھے۔
سروے کے نتائج کے مطابق ہر پانچ میں سے چار امریکیوں کو آئندہ عرصے میں پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی نے بتایا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے رات کو جنوبی لبنان کے شہر صور کے علاقے کفر دونین میں ایک گھر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے
ایرانی عدلیہ کے مطابق انصار الفرقان کی رکنیت کے جرم پر عبد الجلیل شہ بخش نامی شخص کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان نے بتایا ہے کہ پھانسی کی سزا آج (منگل) کی صبح دی گئی۔
عدلیہ کے بیان کے مطابق عبد الجلیل شہ بخش کو ’ملک کے مشرق میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران‘ گرفتار کیا گیا تھا۔
بی بی سی فارسی کے مطابق انصار الفرقان ایک مسلح سنی گروہ ہے جس نے گذشتہ برسوں کے دوران ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں سرکاری فورسز پر حملے کیے ہیں۔
ایرانی حکومت اس گروہ کو ’باغی اور دہشت گرد‘ قرار دیتی ہے۔
عبد الجلیل شہ بخش کی گرفتاری کے بعد ان پر اس گروہ کی رکنیت کا الزام عائد کیا گیا اور عدلیہ نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ چھ سال قبل فوجی تربیت حاصل کرنے کے لیے ایک ہمسایہ ملک گئے تھے۔
اس کے برعکس بعض افراد نے انھیں بلوچ سیاسی قیدی قرار دیا ہے۔
اسرائیل اور امریکہ کے حالیہ حملوں کے بعد ایران میں پھانسیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں نے پھانسیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایران کے لیے انسانی حقوق کے رپورٹر کے مطابق سزائے موت کو ’جنگی حالات میں سیاسی مخالفت کو دبانے کے ایک آلے‘ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
روسی کاروباری روزنامہ کومرسانت نے 6 مئی کو وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اپریل 2026 میں روس کی تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن میں 39 فیصد اضافہ ہوا۔
کومرسانت کے مطابق یہ پہلا ماہانہ اضافہ ہے جو ایران جنگ کے باعث دیکھا گیا اور اس نے مزید کہا کہ مارچ میں یورالز کروڈ کی قیمت 77 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ’ٹیکس ادائیگیاں ایک ماہ کی تاخیر سے کی جاتی ہیں۔‘
امید ہے کہ مئی میں اضافی آمدن مزید بڑھے گی، کیونکہ اپریل میں روسی تیل کی اوسط قیمت 94.9 ڈالر فی بیرل رہی۔ مئی میں ادا کیے جانے والے تیل و گیس ٹیکس اسی بنیاد پر شمار کیے جائیں گے، تاہم اس میں اضافی آمدن پر ٹیکس (NDD) شامل نہیں ہوگا، جو تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں سال میں صرف چار بار ادا کرتی ہیں۔
کومرسانت کے مطابق، 2026 کے پہلے چار مہینوں میں 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں روس کی تیل و گیس آمدن میں مجموعی کمی برقرار ہے، لیکن توقع ہے کہ یہ ’تیزی سے کم‘ ہو جائے گی۔
مارچ اور اپریل دونوں میں اوسط قیمت 2026 کے بجٹ میں مقرر کردہ 59 ڈالر فی بیرل سے نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ اقتصادی ترقی کی وزارت کے ماہانہ اعداد و شمار کے مطابق، پہلے چار مہینوں میں یورالز کروڈ کی اوسط قیمت بھی اس سطح سے زیادہ، یعنی 64.4 ڈالر فی بیرل رہی۔
کومرسانت نے کہا کہ سال بہ سال موازنہ میں، ’صورتِ حال اتنی بہتر نہیں لگتی‘۔
جنوری سے اپریل 2026 کے دوران روس کی تیل و گیس آمدن (2,298 ارب روبل) 2025 کے اسی عرصے (3,727 ارب روبل) کے مقابلے میں 38 فیصد کم رہی۔ تاہم، توقع ہے کہ یہ فرق کم ہو جائے گا، کیونکہ گزشتہ سال اپریل سے تیل کی قیمتیں گرنا شروع ہو گئی تھیں اور دسمبر میں 39.2 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔ اس لیے سال بہ سال موازنہ کی بنیاد مزید کم ہوتی جائے گی۔
دیگر عوامل، ڈرون حملے، روسی کرنسی روبل کی شرح مبادلہ
تاہم، کومرسانت نے خبردار کیا کہ ’بجٹ کی آمدن صرف قیمتوں پر نہیں بلکہ تیل کی پیداوار اور برآمدی فراہمی کی مقدار پر بھی منحصر ہوتی ہے، جو یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث ریفائنریوں اور روسی بندرگاہی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان سے متاثر ہو سکتی ہیں‘۔
اس وقت، روسی بندرگاہوں کو نقصان پہنچنے کے باعث سپلائی میں کمی کے بعد، برآمدات کی صورتحال دوبارہ معمول پر آ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق، مارچ میں روسی پیداوار میں کمی نہیں آئی بلکہ یہ فروری کے 8.67 ملین بیرل یومیہ سے بڑھ کر 8.96 ملین بیرل یومیہ ہو گئی۔
کومرسانت کے مطابق، ایک اور عنصر جو حتمی آمدن کو متاثر کر سکتا ہے وہ روبل کی شرحِ مبادلہ ہے، جو تیل و گیس کے بنیادی ٹیکس یعنی معدنی وسائل نکالنے کے ٹیکس (NDPI) کے حساب کے فارمولے میں شامل ہے۔ جب روبل مضبوط ہوتا ہے تو آمدن کم ہو جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے وزارتِ خزانہ نے ’مارکیٹ کو حیران کر دیا۔‘
23 اپریل کو وزارت نے اعلان کیا کہ دو ماہ کے وقفے کے بعد مقامی مارکیٹ میں غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے بجٹ اصول کو دوبارہ نافذ کیا جائے گا، کیونکہ اضافی آمدن نے اب قومی فلاحی فنڈ کے ذخائر کو استعمال کرنے کے بجائے انھیں دوبارہ بھرنے کی اجازت دے دی ہے۔
6 مئی کو وزارت نے آئندہ ماہ کے لیے ان کارروائیوں کا حجم بتایا۔ تجزیہ کاروں کی توقعات کے برعکس، جنہوں نے یوان کے ذخائر کی خریداری کے لیے 10 سے 20 ارب روبل روزانہ کا اندازہ لگایا تھا، 8 مئی سے 4 جون تک اصل حجم صرف 5.8 ارب روبل یومیہ ہوگا۔ مرکزی بینک کی فروخت کو مدنظر رکھتے ہوئے، جو اپنے نیم سالہ منصوبے کے تحت بجٹ اصول سے باہر کرنسی فروخت کر رہا ہے، ماسکو ایکسچینج پر ریگولیٹرز کی خالص خریداری صرف 1.2 ارب روبل یومیہ ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق، ’اتنی کم خریداری کا حجم ممکنہ طور پر قومی کرنسی کی قدر میں متوقع کمی کا سبب نہیں بنے گا۔ اس کے نتیجے میں روبل نے وزارتِ خزانہ کے اعلان پر مضبوط ردعمل دیا اور یوان کے مقابلے میں 1.5 فیصد مضبوط ہو گیا۔ ماسکو ایکسچینج کے مرکزی سیشن کے اختتام تک یوان کی قیمت 10.94 روبل تک گر گئی۔‘
وزارتِ خزانہ نے خریداری کی مقدار پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’مارچ اور اپریل 2026 کے التوا شدہ لین دین کے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے‘ حساب کیا گیا ہے۔
2026 کے لیے پیش گوئیوں کے حوالے سے، ’تجزیہ کار متفق ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کی وسیع تباہی کے پیش نظر، اجناس کی منڈیوں میں روس کے لیے سازگار حالات کافی عرصے تک برقرار رہیں گے، جس سے توقع ہے کہ وزارتِ خزانہ کم از کم تیل و گیس آمدن کے سالانہ بجٹ ہدف 8,900 ارب روبل کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔‘