پاکستان کا آئندہ مالی سال کے لیے چار فیصد شرح نمو کا ہدف، مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد مقرر, تنویر ملک، صحافی
وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے چار فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ٹارگٹ رکھا ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ مالی سال میں اقتصادی سروے کے مطابق ملکی معیشت کی شرح نمو تین اعشاریہ سات فیصد رہی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بجٹ میں ملک میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 8٫2 فیصد رکھا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ملکی مصنوعات کی برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر رکھا گیا ہے جب کہ دوسری جانب خدمات کے شعبے کی برآمدات کا ہدف 11.3 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔
رواں مالی سال کے لیے مصنوعات کی درآمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر رکھا گیا ہے اور خدمات کے شعبے میں درآمدات کا ہدف 13.8 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔
اگلے مالی سال کے لیے بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ملک بھیجی جانے والی رقوم کا ہدف 42.4 ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔
اگلے مالی سال میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کے لیے 1000 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 1000 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے جس کے تحت انفراسٹرکچر، سوشل، گورننس اور دوسرے شعبوں میں ترقیاتی بجٹ کے لیے رقم مختص کی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ میں صوبوں کے ترقیاتی بجٹ اور حکومتی تحویل میں چلنے والے اداروں کے ترقیاتی بجٹ شامل کرنے کے بعد ملک کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 3675 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔
وفاقی بجٹ میں کراچی کوئٹہ شاہراہ کے لیے 100 ارب مختص کیے گئے ہیں۔
سکھر-حیدرآباد موٹر وے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مہمند ڈیم کے لیے 21 ارب روپے رکھے گئے ہیں اور داسو ڈیم کے لیے 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی بجٹ میں ڈیجیٹل گورننس اور سروسز کے شعبے میں مختلف اقدامات کے لیے 30 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ میں اعلی تعلیم کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
ملک میں ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں 23 ہزار 775 گرین جابز کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اگلے مالی سال میں قابل تجدید تواناءی شعبے میں پبلک انوسٹمنٹ کے لیے 151 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اگلے مالی سال میں وزیر اعظم کے یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے پانچ ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جس کے تحت 120000 نوجوانوں کو ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا دائرہ کار ایک کروڑ 20 لاکھ افراد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔