آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاہور میں تیار کردہ صدیوں پرانا ’سپر کمپیوٹر‘ دو ملین پاؤنڈ میں نیلام
- مصنف, نکھل انعامدار
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 6 منٹ
17ویں صدی کا ایک شاندار پیتل کا اسطرلاب یا جسے آسان زبان میں فلکیاتی کمپیوٹر بھی کہا جا سکتا ہے، برسوں سے انڈیا کے شہر جے پور کے شاہی خاندان کے نجی مجموعے کا حصہ تھا لندن میں 20 لاکھ برطانوی پاؤنڈ (75 کروڑ پاکستانی روپے) سے زیادہ قیمت میں نیلام کر دیا گیا ہے۔
سوتھبیز میں اسلامی اور انڈین فن پاروں کے شعبے کے سربراہ بینڈکٹ کارٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ’شاید اپنی نوعیت کا سب سے بڑا‘ اسطرلاب ہے جو اس سے پہلے کبھی نمائش کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔
نیلام گھر سوتھبیز کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس نیلامی نے اسلامی دور کے کسی فلکیاتی آلے کی سب سے زیادہ رقم میں فروخت کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
اس سے قبل یہ ریکارڈ ایک عثمانی اسطرلاب کے پاس تھا، جو سلطان بایزید دوم کے لیے تیار کیا گیا تھا اور اس سے کہیں چھوٹا تھا۔ 2014 میں وہ اسطرلاب تقریباً 10 لاکھ پاؤنڈ سے کچھ کم قیمت پر فروخت ہوا تھا۔
سوتھبیز میں نیلام کیا جانے والا آلہ جے پور کے مہاراجہ سوائی مان سنگھ دوم کے شاہی ذخیرے کا حصہ تھا۔ ان کی وفات کے بعد یہ ان کی اہلیہ مہارانی گایتری دیوی کو ملا جو اپنے عہد کی نہایت باوقار اور مشہور خواتین میں سے ایک تھیں۔ بعد ازاں، ان کی زندگی ہی میں یہ آلہ ایک نجی مجموعے میں چلا گیا۔
اسطرلاب کئی تہوں پر مشتمل دھات کے بنے ہوئے چپٹے آلات ہوتے ہیں۔ اس کی تہیں آپس میں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ ماضی میں ان آلات کا استعمال وقت معلوم کرنے، ستاروں کی نقشہ بندی، کعبے کی سمت معلوم کرنے اور آسمان کی گردش جانچنے کے لیے کیا جاتا تھا۔
آکسفورڈ سینٹر فار ہسٹری آف سائنس، میڈیسن اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ڈاکٹر فیدریکا گیگانتے کہتی ہیں کہ یہ آلات تھری ڈی دنیا کی ٹو ڈی تصویر پیش کرتے ہیں، میں ان کا موازنہ آج کے سمارٹ فونز سے کرتی ہوں کیونکہ ان سے بے شمار کام لیے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق آپ ان آلات کا استعمال کر کے ’غروب اور طلوعِ آفتاب کا وقت، کسی عمارت کی اونچائی، کنویں کی گہرائی، فاصلے کا حساب لگا سکتے ہیں اور یہاں تک کہ ان کی مدد سے مستقبل کی پیشگوئی بھی کی جاتی تھی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر گیگانتے کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان کی مدد سے زائچے بھی تیار کیے جاتے تھے۔
اس طرح کے آلات پہلی بار دوسری صدی قبلِ مسیح میں قدیم یونان میں تیار کیے گئے اور آٹھویں صدی تک یہ اسلامی دنیا میں پھیل گئے۔ اس کے بعد کی صدیوں میں عراق، ایران، شمالی افریقہ اور اندلس (موجودہ سپین) میں یہ بڑے پیمانے پر تیار کیے جاتے۔
یہ خاص اسطرلاب 17ویں صدی کے اوائل میں لاہور میں تیار کیا گیا تھا۔ اس زمانے میں مغلیہ دنیا میں لاہور ان آلات کی تیاری کا ایک نمایاں مرکز بن چکا تھا۔ یہ آلہ دو بھائیوں قائم محمد اور محمد مقیم نے ایک مغل امیر کے لیے تیار کیا۔
ان دونوں بھائیوں کا تعلق نام نہاد ’لاہور سکول‘ سے تھا جو اس زمانے میں اسطرلاب سازی کے سب سے مشہور مراکز میں سے ایک تھا۔ یہ ہنر ایک ہی خاندان کے اندر منتقل کیا جاتا تھا۔
ان بھائیوں نے مشترکہ طور پر صرف دو اسطرلاب تیار کیے تھے۔ دوسرا آلہ عراق کے ایک عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ یہ اسطرلاب آقا افضل کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو اس دور میں لاہور کے انتظامی امور کے نگران تھے۔
آقا افضل کا تعلق ایران کے شہر اصفہان سے تھا اور انھوں نے مغل شہنشاہوں جہانگیر اور شاہ جہاں کے دور میں کئی اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ اس آلے کا غیرمعمولی حجم اور شان و شوکت اس کے سرپرست کے بلند مقام کی عکاسی کرتی ہے۔
بینڈکٹ کارٹر کے مطابق ’اس آلے کا وزن 8.2 کلوگرام اور اس کا قطر تقریباً 30 سینٹی میٹر ہے جبکہ اونچائی لگ بھگ 46 سینٹی میٹرہے جو 17ویں میں انڈیا میں تیار کیے جانے والے عام اسطرلاب سے تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔‘
سوتھبیز کے مطابق اس آلے میں 94 شہروں کے نام ان کے طول و عرض البلد کے ساتھ درج ہیں جبکہ 38 ستاروں کی نشاندہی کرنے والے کانٹے نہایت نفیس پھول دار نقش و نگار سے جڑے ہوئے ہیں۔
کارٹر کے مطابق اس درجے کی باریکی لاہور سکول کی غیرمعمولی مہارت کی عکاس ہے، جو اُس وقت ’اپنے عروج پر‘ تھی۔ اس آلے میں فنی درستی، عملی افادیت اور جمالیاتی حسن کو اس طرح یکجا کیا گیا کہ یہ اسے مشرقِ وسطیٰ میں بنائے گئے اس ہی طرز کے بعض قدیم نمونوں سے ممتاز بناتا ہے۔
اس آلے سے مغل دربار میں پائے جانے والے وسیع تر سائنسی رجحان کی بھی عکاسی ہوتی ہے، جہاں حکمراں اور امرا فلکیات اور علمِ نجوم میں ہونے والی پیش رفت میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔
ڈاکٹر گیگانتے کہتی ہیں کہ ’یہ نہ صرف بڑا، خوبصورت اور وزنی ہے بلکہ اتنا غیرمعمولی حد تک درست بھی ہے کہ کسی فلکی جسم کی بلندی کا عین زاویہ بتا سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق غالباً اس کے مقابلے کا واحد آلہ فارس کے شاہ عباس دوم کے لیے تیار کیا گیا اسطرلاب ہے۔
سوتھبیز کا کہنا ہے کہ اس آلہ کی بہترین حالت اور شاہی پس منظر کے باعث یہ عجائب گھروں اور اس طرح کی چیزیں جمع کرنے کے شوقین افراد کے لیے دلچسپی کا باعث ہو سکتا ہے۔