’بہتر زندگی گزارنے کے لیے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں‘: 100 سال قبل متعارف کروائے گئے پانچ روزہ ورک وِیک نے دنیا کو کیسے بدلا؟

    • مصنف, ایڈیسن ویگا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز برازیل
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

’ملک ہفتے میں پانچ روز کام (پانچ روزہ ورک وِیک) کے لیے تیار ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے پوری صنعت میں نافذ کیا جانا چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ اس خیال کو ختم کر دیا جائے کہ مزدوروں کا فارغ وقت ’وقت کا ضیاع‘ یا یہ کسی خاص طبقے کا استحقاق ہے۔‘

یہ الفاظ آج سے 100 سال قبل یکم مئی 1926 کو کی گئی ایک تقریر کا حصہ تھے۔ تاہم یہ تقریر کسی مزدور یا یونین رہنما، سوشلسٹ کارکن یا لیبر سیاست دان کی نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے عظیم صنعت کاروں میں سے ایک ہنری فورڈ کی تھی۔

سنہ 1863 میں پیدا ہونے والے ہنری نہ صرف فورڈ موٹر کمپنی کے مالک تھے بلکہ ان کا شمار ’اسمبلی لائن‘ کہلائے جانے والے صنعتی نظام کے بانیوں میں بھی ہوتا ہے۔

اس روز کے بعد سے اُن کے وسیع صنعتی کمپلیکس میں ہفتے میں پانچ روز کام اور دو دن تعطیل کا نظام رائج ہو گیا، جس میں ہفتہ وار اوقاتِ کار 40 گھنٹے مقرر کیے گئے۔

کام کے اوقاتِ کار کو محدود کر کے ہفتہ وار تعطیل کو بڑھانے کا یہ تصور محنت کش طبقے کے حق میں ایک اہم پیش رفت تھا، جو 1919 میں بین الاقوامی ادارہ محنت (آئی ایل او) کے مقرر کردہ معیار سے بھی آگے تھا۔ آئی ایل او نے ہفتہ وار زیادہ سے زیادہ اوقاتِ کار 48 گھنٹے طے کیے تھے۔

تاہم فورڈ نے یہ فیصلہ راتوں رات نہیں کیا تھا۔ فورڈ اس نئے نظام کو پہلے سے ہی اپنے کچھ شعبوں میں آزما رہے تھے۔

مارچ 1922 میں دی نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ہنری فورڈ کے بیٹے ایڈسل برائنٹ فورڈ، جو 1919 سے کمپنی چلا رہے تھے، نے لکھا کہ ’ہر انسان کو آرام اور تفریح کے لیے ہفتے میں ایک دن سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔‘

اس مضمون میں اُنھوں نے دلیل دی کہ ’فورڈ ہمیشہ اپنے ملازمین کے لیے ایک مثالی خاندانی زندگی کو فروغ دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں‘ اور یہ بھی کہا کہ اُن کے خیال میں ’بہتر زندگی گزارنے کے لیے ہر انسان کے پاس اپنے خاندان کے ساتھ گزارنے کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت ہونا چاہیے۔‘

کمپنی کا معاشی فائدہ

فورڈ کی جانب سے ہفتے میں پانچ روز کام لینے کے رضاکارانہ فیصلے کے بعد یہ نظام مزید پھیلتا چلا گیا۔

امریکہ میں 1938 میں قانون کے ذریعے ہفتہ وار اوقاتِ کار کم کر کے 44 گھنٹے کر دیے گئے۔ پھر 1940 میں اس حد کو مزید کم کر کے 40 گھنٹے مقرر کر دیا گیا، جس کی تجویز فورڈ نے 14 برس پہلے دی تھی۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد کارخانوں میں کام کو منظم کرنے کا ’فورڈسٹ نظام‘ پوری دنیا میں پھیل گیا۔

ساؤ پاؤلو کی سٹیٹ یونیورسٹی (یونیسپ) کے پروفیسر اور مؤرخ پاؤلو ہنریکے مارٹینیز کے مطابق ’امریکی صنعتی اور قومی معیشت کے ماڈل کو جاپان اور چین جیسے معاشروں میں بھی اپنایا گیا، جنھوں نے 1945 کے بعد عالمی معیشت کی بحالی میں حصہ لیا۔‘

لیبر وکیل پیڈرو ماسیئل کے مطابق اس نظام کو اپنانے کی ایک بڑی وجہ اس کی کامیابی تھی۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ ماڈل کمپنیوں کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ثابت ہوا، جس کے بعد اس طرز کے اوقاتِ کار مقبول ہونے لگے۔‘ مسابقت کرنے والی کمپنیوں کو بھی یقین ہو گیا کہ کم گھنٹے کام کرنے کا مطلب ’کم پیسہ کمانا نہیں۔‘

مؤرخ کے مطابق 1960 کی دہائی تک منیجرز اور مزدوروں کی تربیت مشترکہ طور پر کی جاتی تھی، جس میں آجر اور ملازمین دونوں پیداوار اور محنت کی استعداد کے ذریعے کمپنی کی کامیابی کے لیے ایک مشترکہ عہد میں بندھے ہوتے تھے۔

یہاں تک کہ ایک گمراہ کن تصور بھی پیدا ہو گیا کہ ایک فریق دوسرے کے بغیر وجود نہیں رکھ سکتا۔

مارٹینیز کے مطابق اسی سے یہ خیالات بھی جنم لیتے ہیں، جیسے ملازمین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ’کمپنی کے وفادار‘ بن کر رہیں۔

وہ زور دیتے ہیں کہ یہ ’سماجی ہم آہنگی‘ کا ایک تصور تھا جسے ہنری فورڈ نے فروغ دیا اور یہ محنت کشوں کی بے چینی کو قابو میں رکھنے کی ایک مؤثر حکمتِ عملی بھی تھی۔

اگرچہ آرام کے اوقات کو باقاعدہ کرنا ایک ضرورت بن چکا تھا، خصوصاً صنعتی سرمایہ داری کے آغاز اور طویل و مشقت طلب اوقاتِ کار کے ساتھ، تاہم یہ حقیقت ہے کہ دو روزہ تعطیل کا تصور ایک ایسے طرزِ فکر سے انحراف تھا جو قدیم زمانے سے چلا آ رہا تھا۔

اس کی ایک اہم مثال اُس مقدس کتاب میں ملتی ہے جو یہودی-عیسائی مذاہب کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

بائبل کے سلسلے کی پہلی کتاب جینیسس میں بیان کی گئی تخلیقِ کائنات کی روایت کے مطابق خدا نے مسلسل چھ دن کام کرنے کے بعد ساتویں دن آرام کیا۔

یہ روایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قدیم ادوار میں کام اور آرام کو کس طرح منظم کیا جاتا تھا۔

تاہم فورڈ سے پہلے بھی تبدیلی کی کچھ مثالیں موجود تھیں۔ میکینزی پریسبیٹیرین یونیورسٹی میں لیبر قوانین کے پروفیسر اور وکیل کلاؤڈینور روبرٹو باربیئیرو اس کی ایک مثال دیتے ہیں کہ امریکہ کی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری نے 1908 میں پانچ روزہ ورک ویک متعارف کروایا تھا تاکہ یہودی ملازمین کے لیے سبت (مذہبی تعطیل) کا خیال رکھا جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ فورڈ نے اس ماڈل کو وسعت اور صنعتی پیمانے پر اپنایا۔

’یہ عمل محض ایک سماجی رعایت کے طور پر نہیں دیکھا جاتا رہا بلکہ اسے ایک مؤثر انتظامی حکمتِ عملی بھی سمجھا جانے لگا۔‘

وقت پیسہ ہے

ہنری فورڈ یہ سمجھتے تھے کہ اگرچہ ترقی کے نتیجے میں کاروباری منافع اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کارکنوں کو بھی اس کا فائدہ پہنچنا چاہیے۔

اس وقت تک وہ اپنے ملازمین کے لیے پیداواری بونس کا ایک نظام متعارف کروا چکے تھے اور 1914 میں انھوں نے مزدوروں کی کم از کم اجرت کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے باعث دیگر صنعت کاروں کے ساتھ تنازع بھی پیدا ہوا۔

فورڈ کا مؤقف تھا کہ اسمبلی لائن نے خود اس کو ممکن بنایا۔ جب 1913 میں فورڈ کی ماڈل ٹی گاڑی کی پیداوار میں اس طریقے کو اپنایا گیا تو ایک گاڑی تیار کرنے کا وقت 12 گھنٹوں سے کم ہو کر صرف ڈیڑھ گھنٹے سے کچھ زیادہ رہ گیا۔

فورڈ سمجھتے تھے کہ کارکردگی میں بہتری کا کارکنوں کو بھی کسی نہ کسی شکل میں انعام ملنا چاہیے۔

فورڈ نے 1926 کی اپنی تقریر میں تسلیم کیا: ’بڑی کمپنیوں کی ترقی، اور اُن کی توانائی، جدید مشینری کے استعمال اور مجموعی طور پر وقت، مواد اور انسانی محنت کے ضیاع کو کم کرنے کی صلاحیت ہی وہ عوامل تھے، جنھوں نے آٹھ گھنٹے کے کام کے دن کو ممکن بنایا۔‘

’اسی طرح نئی پیش رفت ہمیں پانچ روزہ ورک وِیک قائم کرنے کی بھی اجازت دیتی ہے۔‘

واضح طور پر فورڈ اُس وقت مزدوروں کے ایک دیرینہ مطالبے کا جواب دے رہے تھے۔ جون 1990 میں دی جرنل آف اکنامک ہسٹری میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مضمون میں ماہرِ معیشت اور مؤرخ رابرٹ ویپلز، جو اُس وقت امریکہ کی یونیورسٹی آف وسکونسن میں پروفیسر تھے، نے نشاندہی کی کہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے مزدوروں کی جانب سے اوقاتِ کار کم کرنے کی جدوجہد، بہتر اجرت کے مطالبات شدت اختیار کر چکے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ فورڈ محض اپنے مزدوروں پر ’مہربان‘ نہیں تھے۔ ’ہنری فورڈ کی محرکات محض انسان دوستی پر مبنی نہیں تھیں۔‘

وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور اُن کا یہ اقدام کس طرح زیادہ منافع کمانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ مارٹینیز فورڈ کے اس فیصلے کو اُن کے کاروباری طرزِ عمل پر حاوی ’دو بنیادی اصولوں‘ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ پہلا اصول تھا: ’کام کی منظم اور طریقہ وار تنظیم۔‘

ایک کامیاب فارمولا

رابرٹ ویپلز کے مطابق فورڈ ’انتظامیہ اور پیداواری نظم و نسق کے سائنسی نظریات‘ کے حامی تھے، جن کا اطلاق کارخانے کے ماحول سے لے کر اوقات کی پابندی، شفٹوں اور دیگر سرگرمیوں اور وقفوں کے نظام اور سپروائزر سے آپریٹر تک ٹیموں اور افراد کے درمیان کام کی تقسیم تک کیا جاتا تھا۔

اُن کی کاروباری سوچ میں کسی بھی صنعت کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے ہر چیز کا پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہونا ضروری تھا۔

مارٹینیز کے مطابق فورڈ کا دوسرا اہم اصول یہ تھا کہ کام کی منظم تقسیم کو صنعتی مصنوعات کے استعمال کی مطابقت سے مکمل کیا جائے۔

اس کے نتیجے میں ’بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے ایک وسیع صارفین کی منڈی‘ کو فروغ ملا جو کارکنوں کی بڑی تعداد کے ذریعے ممکن ہوئی۔

رابرٹ ویپلز کا کہنا ہے کہ بہتر اجرت اور زیادہ فارغ وقت نے صارفین کی صنعتی مصنوعات خریدنے کی عادات کوفروغ دینے اہم کردار ادا کیا اور اس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا۔

باربیئیرو کے مطابق ’کمپنی کا مؤقف یہ تھا کہ وہ پانچ دن میں بھی اتنی یا اس سے زیادہ پیداوار کر سکتی ہے جتنی چھ دن میں کیونکہ کام کے اوقات کم کرنے سے بہتر طریقہ کار، زیادہ توجہ اور فی گھنٹہ زیادہ کارکردگی حاصل ہوتی ہے۔‘

فورڈ کے تصور کے مطابق پانچ دن میں کم از کم اتنی ہی پیداوار ممکن تھی، جتنی چھ دن میں۔ پروفیسر باربیئیرو کے خیال میں پیداوار زیادہ ہوتی ہے ’کیونکہ دباؤ کے نتیجے میں بہتر طریقہ کار سامنے آتے ہیں۔‘

مارٹینیز کے مطابق: ’فورڈ نے ایک کامیاب فارمولا متعارف کروایا۔ ایک طرف ان کا مقصد کارخانے میں کام کے نظم و ضبط اور تسلسل کو یقینی بنانا تھا تاکہ بہتر پیداواری اور معاشی نتائج حاصل کیے جا سکیں اور دوسری طرف صارفین کی عادات اور حالات کو فروغ دینا تھا۔‘

اس کے نتیجے میں بہتر اجرت اور کم اوقاتِ کار سامنے آئے۔

یونیسپ کے پروفیسر کے مطابق ’معاشی اطمینان اور محنت کش طبقے کو صارفین کی منڈی تک رسائی نے ایک ایسی سماجی ہم آہنگی کو جنم دیا جو کام، پیداوار اور کھپت کے ایکل نہ رکنے والے چکر پر قائم تھی۔‘

باربیئیرو وضاحت کرتے ہیں کہ ’فورڈ سمجھتے تھے کہ جن کارکنوں کے پاس فارغ وقت ہوگا وہ صارف بھی بنیں گے۔ زیادہ فارغ وقت کا مطلب زیادہ سیر و تفریح، سفر، خریداری اور بالآخر گاڑیوں کی زیادہ فروخت اور استعمال۔‘

یہ معاملہ ہمیشہ مختلف آرا کو جنم دیتا ہے۔ ویئتری کے مطابق ’یہ اس پیچیدہ بحث کو جنم دیتا ہے کہ سماجی بہبود اور معاشی پائیداری کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں ویک اینڈ کو محض آرام کا وقت نہیں سمجھتا بلکہ اسے انسانی وقار اور مزدور کی ذہنی صحت کا ایک بنیادی ستون سمجھتا ہوں، جس کا تحفظ ہمارے آئین میں دیا گیا ہے۔‘

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ اوقاتِ کار کی تنظیم میں تبدیلی اچانک نہیں ہونی چاہیے تاکہ کمپنیاں، خصوصاً چھوٹی کمپنیاں، اس کے لیے خود کو تیار کر سکیں۔

باربیئیرو کے مطابق، ’سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ فورڈ نے ایک ایسی حقیقت کو سمجھ لیا تھا جو آج بھی اہم ہے: کارکن محض پیداواری قوت نہیں بلکہ وہ صارفین کی منڈی کا بھی حصہ ہے۔‘

’بہتر اجرت اور زیادہ فارغ وقت دے کر فورڈ نے دراصل اسی کھپت کے نظام کو مضبوط کیا جو آٹو موبائل صنعت کی بنیاد تھا۔‘